افغانستان بھارت کی پراکسی بن گیا ہے : خواجہ آصف

 

 

 

 

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا کہنا ہے کہ افغانستان بھی بھارت کی پراکسی بن گیا ہے، کابل کے حکمران بھارت کی گود میں بیٹھ کر سازشیں کررہے ہیں۔ ہماری کوششوں اور قربانیوں کے باوجود کابل سے مثبت رد عمل نہیں آیا۔

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ بھارت، افغانستان اور فتنۃ الخوارج نے مل کر پاکستان پر دہشت گردی مسلط کی ہے۔پاکستان اب کابل کے ساتھ تعلقات کا ماضی کی طرح متحمل نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے کہاکہ تمام افغانوں کو اپنے وطن جانا ہوگا،اب کابل میں ان کی اپنی حکومت ہے،اسلامی انقلاب آئے 5 سال ہوگئے ہیں۔افغانستان کو پاکستان کے ساتھ ہمسایوں کی طرح رہنا ہوگا،ہماری سرزمین اور وسائل 25 کروڑ پاکستانیوں کی ملکیت ہیں،پانچ دہائیوں کی زبردستی کی مہمان نوازی کے خاتمےکا وقت ہے، خود دار قومیں بیگانی سرزمین اور وسائل پر نہیں پلتیں۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اب احتجاجی مراسلے اور امن کی اپیلیں نہیں ہوں گی، کابل وفد نہیں جائیں گے،دہشت گردی کا منبع جہاں بھی ہوگا اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑےگی۔

وفاقی وزیر خواجہ آصف نے طالبان کے 2021 میں اقتدار میں آنے کےبعد سے پاکستان میں امن اور افغانستان سے دراندازی روکنے کےلیے حکومتی کوششوں کے حوالے سے کہاکہ وزیر خارجہ نے کابل کے 4 دورے کیے،وزیر دفاع اور آئی ایس آئی کے 2 دورے ہوئے،نمائندہ خصوصی اور سکریٹری نے کابل کےپانچ پانچ دورےکیے، نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر ایک مرتبہ کابل کےدورے پر گئےاور جوائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے 8 اجلاس ہوئے۔

خواجہ آصف نے کہاکہ 225 بارڈر فلیگ میٹنگز اور 836 احتجاجی مراسلےاور 13 ڈیمارش کیے گئے۔2021 سے لے کر اب تک پاکستان میں دہشت گردی کے 10 ہزار 347 واقعات میں 3844 افراد شہید ہوئے،شہداء میں فوجی، سول، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار شامل ہیں۔

انہوں نے کہاکہ 5 سال میں ہماری کوششوں اور قربانیوں کے باوجود کابل سے مثبت ردعمل نہیں آیا۔

 

Back to top button