آفریدی کے PSL چھوڑنے پر مداحوں کا اظہار افسوس

لالہ کہلانے والے سٹار کرکٹر شاہد آفریدی کی جانب سے اچانک پی ایس ایل چھوڑنے کے اعلان پر بظاہر سب سے زیادہ افسوس اُن کے ایسے فینز کو ہوا ہے جو انھیں اب بھی کھیلتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں، چاہے وہ بطور کرکٹر پرفارمنس دیں یا نہ دیں۔ یاد رہے کہ شاہد آفریدی نے ایک ویڈیو پیغام میں یہ اعلان کیا ہے کہ وہ کمر کی ناقابل برداشت تکلیف کے باعث پی ایس ایل سے علیحدہ ہو رہے ہیں۔ آفریدی نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’یہ ویڈیو میرے فینز کے لیے ہے۔ میں ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ جس طرح میرے پورے کیریئر میں انھوں نے میری سپورٹ کی ہے۔ میرے فینز بالکل اسی طرح ہیں جس طرح میری فیملی میرے لیے اہم ہے۔‘

انہون نے کہا کہ میں پی ایس ایل کو اچھے نوٹ پر ختم کرنے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن میری کمر کی انجری بہت پرانی ہے۔ میں پندرہ، سولہ سال سے اسی انجری کے ساتھ کھیل رہا ہوں اور اب درد میرے لیے ناقابل برداشت ہو گیا ہے۔ آفریدی کے مطابق انجری اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ میرے گھٹنوں اور پاؤں کی انگلیوں بھی اب درد میں ڈوب چکی ہیں۔

یاد رہے کہ اس برس شاہد آفریدی پاکستان سپر لیگ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی نمائندگی کر رہے تھے۔ یہ ان کی چوتھی پی ایس ایل ٹیم ہے۔ اس سے قبل وہ کراچی کنگز، پشاور زلمی اور ملتان سلطانز کی طرف سے کھیل چکے ہیں۔ ان کے اچانک پی ایس ایل چھوڑنے کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر شاہد آفریدی کے بارے میں دلچسپ تبصروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

لالہ کے اعلان کے بعد سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے ٹوئٹر پر شاہد آفریدی کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ’ریسٹ کرو لالہ۔ اس عمر میں یہ عشق نہیں آساں۔‘ شعیب اختر کی ٹویٹ کے جواب میں شاہد آفریدی کی ایک مداح نے جواب دیتے ہوئے لکھا ’اس عمر کا کیا مطلب ہے؟ شاہد آفریدی کو طبی مسئلہ ہے، اس کا ان کی عمر سے کچھ لینا دینا نہیں۔ ویسے بھی ایک کھلاڑی کے لیے کھیل سے دور رکھنے والی بیماری کیا اہمیت رکھتی ہے، آپ اس چیز کو بہتر سمجھتے ہیں لہذا اپنے الفاظ کا بہتر چناؤ کریں۔

پشاور زلمی کی کوئٹہ کے خلاف بیٹنگ جاری

لالہ سدا بہار جوان ہیں اور ہم نے گذشتہ رات ان کی پرفارمنس دیکھی ہے۔ آفریدی کے پرانے ساتھی سعید انور نے اُن کی جانب سے پی ایس ایل سے علیحدہ ہونے کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ ’شاہد ہم ایک ساتھ اوپن کرتے تھے، یقیناً دنیائے کرکٹ تمھیں یاد کرے گی، تم سب کے دلوں سے ریٹائر نہیں ہو رہے اور اگلی اننگر کے لیے نیک تمنائیں بوم بوم۔‘

آفریدی کے ایک اور مداح ذیشان نے ان کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’ہمارے بچپن کو یادگار بنانے کے لیے شکریہ، جس دن وہ بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائر ہوئے تھے اور اب جب وہ پی ایس ایل سے ریٹائر ہوئے ہیں، یہ میری زندگی کے افسردہ ترین دن ہیں۔ انھوں نے ہمیں انڈینز کے ساتھ لڑائی اور مقابلے کی بہت سی نہ بھلا دینے والی یادیں دی ہیں۔ لیجنڈ میری دعا یے کہ آپ جلد صحت یاب ہوں۔

ماہین نامی صارف نے شاہد آفریدی کی جارحانہ بیٹنگ کا حوالے دیتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ ’شاہد آفریدی 2015 میں ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائر ہوئے تھے، لیکن سات برسوں بعد بھی وہ ایک روزہ میچوں میں سب سے زیادہ چھکے مارنے والے کھلاڑیوں میں سرفہرست ہیں۔ لہذا شاہد آفریدی کے بارے میں یہ بات بڑے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ان کی فین فالوئنگ جو کرکٹ کیریئر کے آغاز میں تھی آج بھی اس میں کمی نہیں آئی اور وہ اب بھی شائقین میں پہلے کی طرح مقبول ہیں۔

Back to top button