پی ٹی آئی خیبر پختونخوا میں مکمل صفائے سے بچ گئی

خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے نتائج مکمل ہونے کے بعد
videگزشتہ دنوں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں جو نتائج سامنے آئے اس سے سیاسی اور عوامی سطح پر یہ تاثر ابھرا تھا کہ پی ٹی آئی کا خیبر پختونخوا سے بوریا بستر مکمل طور پر گول ہونے والا ہے۔ تاہم 13 فروری کو ہونے والے ضمنی الیکشن سے یہ تجزیے کچھ حد تک غلط ثابت ہوئے ہیں۔ خیال رہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں 19 دسمبر کو 17 اضلاع میں ہونے والے ضمنی بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں جن پولنگ سٹیشنوں پر ناخوشگوار واقعات سامنے آئے وہاں گزشتہ 13 فروری کو دوبارہ پولنگ کروائی گئی تھی۔ کُل 13 اضلاع کے 568 پولنگ سٹیشنوں میں الیکشن انجام پائے۔
اس ری پولنگ کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق، پشاور سٹی میئر کی نشست جمعیت علماء اسلام ف جیتنے میں کامیاب رہی، جب کہ اسی نشست پر تحریک انصاف کے امیدوار رضوان خان بنگش دوسرے نمبر پر، اور عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار شیر رحمن تیسرے نمبر پر رہے۔ سٹی میئر کی نشست پر دوسرا اہم مقابلہ ڈیرہ اسماعیل خان میں رہا، جہاں غیر حتمی نتائج کے مطابق، تحریک انصاف کے امیدوار عمر امین گنڈا پور سبقت لے جانے میں کامیاب رہے۔ دوسرے نمبر پر جمعیت علماء اسلام ف کے امیدوار کفیل نظامی اور تیسرے نمبر پر پیپلز پارٹی کے امیدوار فیصل کریم کنڈی رہے۔
خیبرپختونخوا کی 66 تحصیل کونسلوں میں جمعیت علمائے اسلام 23 نشستیں حاصل کرکے واضح فرق کے ساتھ پہلے نمبر ہے، پی ٹی آئی 14 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی، آزاد امیدواروں نے 9 نشستیں حاصل کی ہیں۔ صوبے کے بلدیاتی انتخابات میں اے این پی نے 7، مسلم لیگ (ن) نے 3، جماعت اسلامی اور تحریک اصلاحات پاکستان نے 2 اور پیپلزپارٹی ایک نشست حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق کے پی کے تیرہ اضلاع میں ہونے والے ضمنی انتخابات مختلف حوالوں سے اہم رہے۔ جہاں ایک جانب حکمران جماعت کو پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات میں دھچکا لگا وہیں ان کے لیے عوام میں اپنی ساکھ برقرار رکھنا اور دوسرے مرحلے میں اپنی جیت ممکن بنانا ایک بہت بڑا چیلنج بن گیا۔
جمعیت علماء اسلام نے اگرچہ پشاور میئر سیٹ کا اہم ترین عہدہ اپنے نام کیا لیکن ڈیرہ اسماعیل خان جو اس جماعت کا گڑھ سمجھا جاتا ہے اور جہاں وہ 19 دسمبر میں ہار گئے تھے، وہاں، ایسے حالات میں کہ ڈی آئی خان سے حکمران جماعت کا ایک صوبائی وزیر اور ایک وفاقی وزیر جو کہ دونوں بھائی ہیں، کے علاوہ پیپلز پارٹی کے امیدوار فیصل کریم کنڈی جو قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر بھی رہ چکے ہیں، جیتنا ان کے لیے ایک چیلنج تھا لیکن وہ نامراد رہے۔ واضح رہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان کی ری پولنگ میں اہمیت کی بنیادی وجہ اس علاقے میں تین بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والی بااثر شخصیات تھیں۔
جہاں ایک جانب، پی ٹی آئی کے امیدوار عمر امین گنڈا پور وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور اورصوبائی وزیر فیصل امین گنڈاپور کے بھائی ہیں، تو یہی علاقہ جمعیت علماء اسلام ف کے قائد مولانا فضل الرحمن کا آبائی حلقہ بھی ہے۔ تیسری جانب، پیپلز پارٹی کےفیصل کریم کنڈی کا بھی یہ آبائی علاقہ ہے اور اپنے علاقے میں اچھی خاصی مقبولیت رکھتے ہیں لیکن پی ٹی آئی نے دونوں ہیوی ویٹ امیدواروں کو پچھاڑ دیا۔
اگرچہ مولانا فضل الرحمان خود ڈی آئی خان گئے تھے، اور وہاں جلسہ کیا تھا، لیکن امیدوار کے چناؤ کا فیصلہ درست نہ ہونے کی وجہ سے انہیں شکست ہو گئی۔ کہا جاتا یے کہ اگر کفیل نظامی کی جگہ خود مولانا کا بھائی امئدوسر ہوتا تو حالات مختلف ہوتے۔ یہ بھی دلچسپ بات ہے کہ پہلے مرحلے اور ضمنی انتخاب میں جے یوآئی اور اے این پی دونوں کو اپنے حلقوں سے ووٹ نہ مل سکے۔ڈی آئی خان جے یوآئی کا گڑھ ہے، لیکن جمعت وہاں ناکام ہوئی۔ اس طرح چارسدہ اے این پی کا گڑھ ہے لیکن اسے بھی وہاں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔
مقامی صحافیوں کا ماننا ہے کہ پہلے مرحلے کے انتخابات کے جو نتائج سامنے آئے اس سے سیاسی اور عوامی سطح پر یہ تاثر ابھرا تھا کہ پی ٹی آئی کا خیبر پختونخوا سے بوریا بستر گول ہونے والا ہے، تاہم ضمنی الیکشن سے یہ تجزیے غلط ثابت ہوئے اور یہ معلوم ہوا کہ حکمران جماعت ابھی بھی خیبر پختونخوا میں ایک مرکزی پولیٹیکل فورس ہے اور ان کے پیروکار ابھی بھی اپنی جماعت کا ساتھ دے رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی نے تھوڑی سی محنت اور ہوم ورک سے اپنی پوزیشن بہتر کرلی ہے، اس حقیقت کے باوجود کہ ان کے سامنے مہنگائی کے علاوہ پارٹی کے اندرونی اختلافات سراٹھائے ہوئے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تحریک انصاف نے الیکشن کے دوسرے مرحلے اور جنرل الیکشن کے لیے اپنے اندرونی معاملات ٹھیک کرنے کے ساتھ بیرونی عوامل پر بھی توجہ دی تو وہ اپوزیشن کو ہرانے میں ایک مرتبہ پھر کامیاب ہوسکتی ہے۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا الیخشن کے دوسرے مرحلے کے اٹھارہ اضلاع میں بلدیاتی انتخابات 31 مارچ کو ہوں گے جس کے خلاف کے پی حکومت نے سپریم کورٹ میں رٹ دائر کی تھی تاہم عدالت عظمیٰ نے دوسرے مرحلے کو ملتوی کروانے کی درخواستیں دائر کرنے والے تمام افراد کو الیکشن کمیشن بھجوا دیا اور ریمارکس میں کہا کہ الیکشن کمیشن کل ہی تمام درخواست گزاروں کو سن کر فیصلہ کرے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت پہلے بلدیاتی انتخابات پر رضامندی دے کر اب رکوا رہی ہے، الیکشن شیڈول معطل کرکے غلط مثال قائم نہیں کرینگے، اگر انتخابی شیڈول کا فیصلہ سپریم کورٹ نے کرنا ہے تو کیا الیکشن کمیشن کو بند کر دیں؟ اپنے ریمارکس میں جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ انتخابی شیڈول کا اجراء اور انتخابات کروانا الیکشن کمیشن کا کام ہے، کے پی حکومت خود شیڈول دے کر بھاگ رہی ہے، الیکشن کے معاملات میں سپریم کورٹ کیوں مداخلت کرے؟ صوبائی حکومت کہہ رہی ہے رمضان کے بعد الیکشن کروا دیں، رمضان کے بعد کہیں گے عید آ گئی ہے، پھر بڑی عید کا کہہ دینگے، بڑی عید کے بعد محرم آ جائے گا اس طرح تو الیکشن ہوگا ہی نہیں۔
