عوام دشمن حکومت نے اب کس منہ سے پٹرول بم گرایا ہے؟

عمران خان حکومت نے پہلے ہی بدترین مہنگائی کا شکار ہونے والے پاکستانیوں پر نیا پیٹرول بم گرا کر انہیں شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے جسے عوام کے معاشی قتل عام سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔
اب فی لٹر پٹرول کی قیمت 160 روپے کردی گئی ہے
۔ معاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں یک مشت بارہ روپے کے اضافے سے مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا جو ملک کے ہر طبقے کو بری طرح متاثر کرے گا۔
واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے پندرہ فروری کو پیٹرول کی قیمت میں 12 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد اسکی قیمت پاکستانی تاریخ کی بلند ترین سطح پر آ گئی ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے چہ مگوئیاں تو گذشتہ کئی روز سے جاری تھیں تاہم وزارتِ خزانہ کی جانب سے منگل کی شب قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا ہے۔
پاکستان میں ایک عام صارف کو آج سے ایک لیٹر پیٹرول 159 روپے 86 پیسے میں ملے گا جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 10 روپے کے اضافے کے بعد ایک لیٹر ڈیزل کی قیمت 144 روپے 62 پیسے سے بڑھ کر اب 154 روپے 15 پیسے کر دی گئی ہے۔ مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی 10 روپے آٹھ پیسے جبکہ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں پونے دس روپے اضافہ کیا گیا ہے۔ حسب معمول پٹرول بم گراتے ہوئے حکومتی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے بعد اس وقت یہ قیمتیں 2014 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کی شرح میں بالواسطہ اور بلاواسطہ دونوں طریقوں سے اضافہ ہوتا ہے۔ ملک میں جنوری کے مہینے کے اختتام تک مہنگائی کی شرح 12.9 فیصد تھی اور اگر مہنگائی کو جانچنے والے نظام کو دیکھا جائے تو اس میں ٹرانسپورٹ کے شعبے کا حصہ تقریباً چھ فیصد کے قریب ہے۔ اسی طرح موٹر فیول کا اس میں حصہ تقریباً تین فیصد تک ہے۔
عارف حبیب لمٹیڈ میں معاشی امور کی تجزیہ کار ثنا توفیق کہتی ہیں کہ اگر تیل کی قیمتوں کا ملک میں مہنگائی پر اثر کا جائزہ لیا جائے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اگر بیرونی منڈی میں ایک بیرل میں پانچ ڈالر کا اضافہ ہو تو اس کا براہ راست اثر ملک میں 27 بیسز پوانٹنس کی صورت میں ہوتا ہے یعنی مہنگائی کی شرح 0.27 فیصد بڑھتی ہے جو کہ براہ راست اثر ہے۔ اس کے علاوہ اس کا اثر ان ڈائریکٹ طریقے سے بھی ہوتا ہے کیونکہ جب تیل مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھ جاتے ہیں اور اجناس اور دوسری اشیائے خوردونوش کا کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے جس کا بوجھ صارفین کو سہنا پڑتا ہے۔
حکومت کی جانب سے تیل کی قیمتوں میں اضافے کا امکان تو موجود تھا لیکن 12 روپے تک کے ریکارڈ اضافے کے اعلان کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر صارفین نے اپنا احتجاج ریکارڈ کروانا شروع کر دیا۔ صرف عام صارفین ہی نہیں بلکہ حکمران جماعت تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی نور عالم خان نے بھی تیل کی قیمتوں میں اضافے پر ‘رحم کی اپیل’ کی ہے۔ انھوں نے ٹویٹ میں لکھا کہ پیٹرول کی قیمت میں یک مشت 12 روپے کا اضافہ۔۔۔ اب ہر چیز کی قیمت بڑھ جائے گی، ہم پر رحم کریں۔
ٹوئٹر پر ایک صارف ناصر محمود کیانی نے وزیر اعظم عمران خان کے مشیر برائے سیاسی امور ڈاکٹر شہباز گل کے ایک پرانے بیان کے ساتھ لکھا کہ وزیر اعظم نے 11 روپے اضافے کی سمری کی بجائے 12 روپے اضافے والی سمری منظور کر لی۔ واضح رہے کہ 31 جنوری کو ڈاکٹر شہباز گل نے ٹوئٹر پر بتایا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے پٹرول کی قیمت میں 11 جب کہ ڈیزل کی قیمت میں 14 روپے کی سمری منظور نہیں کی کیوںکہ حکومت عوام کو مہنگائی سے بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔
تیل اور پٹرول کی بڑھتی قیمتیں ایک عام صارف کی جیب پر کتنی مہنگی پڑ رہی ہیں، اس کا اندازہ شیخ حسین کے ٹوئٹر پر اس بیان سے کیا جا سکتا ہے جس میں انھوں نے لکھا کہ اب سے ‘پیٹرول پمپ کی بجائے کسی سونار کی دکان سے پیٹرول لینا پڑے گا۔ اس دوران متعدد صارفین عمران خان کے اقتدار میں آنے سے قبل تیل کی قیمتوں میں اضافے پر کی گئی تنقیدی ٹویٹس کا بھی حوالہ دے رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ ماضی کی حکومتوں پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر تنقید کرنے والا کپتان اب خود کس منہ سے ہر دو ہفتوں بعد پٹرول مہنگا کر رہا ہے۔
