فیض حمید کے بعد مزید جرنیل بھی تحقیقات کی زد میں آ گئے

فیض حمید ملکی تاریخ کے وہ متنازع ترین لیفٹننٹ جنرل تھے جو جہاں اپنے وقت کے وزیراعظم عمران خان کے بہت قریب سمجھے جاتے تھے وہیں وہ اس وقت کی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے سخت تنقید کی زد میں بھی تھے۔ مختلف حوالوں سے جنرل فیض حمید کا نام ملکی سیاست کے ایوانوں میں گونجتا رہا ہے۔ فیض آباد کے مقام پر ٹی ایل پی کا دھرنا ہو، یا پھر جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی طرف سے فیض حمید کا نام لیکر دباؤ ڈالنے کا الزام، پانامہ کیس میں ججز کو کنٹرول کرنے کا دعوی ہو یا پھر وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم کی گفتگو ریکارڈ کرنے کا انکشاف۔۔الیکشن دھاندلی ہو یا سینیٹ انتخابات میں کیمروں کی تنصیب، آرمی چیف جنرل عاصم منیر کیخلاف بغاوت ہو یا 9 مئی کے واقعات۔۔۔ہر معاملے میں جنرل فیض حمید کا نام سامنے آتا رہا ہے۔

تاہم سابق ڈی جی آئی ایس آئی کے خلاف گلے کا پھندا ٹاپ سٹی کیس بنا جس کو سپریم کورٹ نے نمٹاتے ہوئے درخواست گزار کو وزارت دفاع سے رجوع کرنے کی ہدایت کی۔ جس کے بعد انکوائری میں الزامات ثابت ہونے پر جنرل فیض حمید کے کورٹ مارشل کا فیصلہ کیا گیا۔

کیا فیض حمید کے بعد جنرل قمر باجوہ کی باری بھی آنے والی ہے ؟

تاہم سینئر صحافی حامد میر کے مطابق جنرل فیض حمید کے خلاف ٹاپ سٹی کا معاملہ تو ہے ہی لیکن ان کے خلاف ریٹائرمنٹ کے بعد مختلف معاملات میں ملوث ہونے کے الزامات بھی موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ جنرل فیض حمید پر ایک عرصہ سے سیاست میں ملوث ہونے کا الزام ہے لیکن وہ صرف دوران سروس ہی نہیں بلکہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی سیاست میں بہت زیادہ ملوث رہے اور پاکستان تحریک انصاف کے کئی قائدین کو وہ مختلف افراد کے ذریعے فون کر کے دباؤ ڈالتے رہے اور اہم فوجی شخصیات کے خلاف الزامات لگانے اور نام لینے کا بھی کہتے رہے۔حامد میر کا کہنا تھا کہ نو مئی کے روز جو واقعات پیش آئے میرے خیال میں فیض حمید اس کے مرکزی کردار تھے جن کا نام سامنے نہیں آ رہا تھا لیکن وہ ان تمام معاملات کے ذمہ دار تھے۔حامد میر نے کہا کہ موجودہ حالات میں جنرل فیض حمید کے خلاف کارروائی تو شروع ہو گئی لیکن اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف بھی کارروائی ہونا ضروری ہے کیونکہ وہ ان کے ساتھ مل کر کام کرتے رہے۔حامد میر نے کہا کہ جنرل فیض حمید نے آرمی چیف بننے کے لیے بہت زیادہ لابنگ بھی کی لیکن شہباز شریف نے ان سے ملاقات نہیں کی اور ان کی کوششیں ناکام رہیں۔

تاہم سابق ڈی جی آئی ایس آئی کیخلاف چارج شیٹ سامنے آنے کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ سنگین الزامات ثابت ہونے پرجنرل فیض حمید کو کیا سزا مل سکتی ہے؟ اس حوالے سے پاکستان فوج کے ایک ریٹائرڈ سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جنرل فیض حمید کے خلاف ہونے والی کارروائی انکوائری کے بعد ہو رہی ہے اور فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ انکوائری کمیشن کے پاس اس حوالے سے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔جنرل فیض حمید پر اگر صرف مالی بے ضابطگیوں کا الزام ثابت ہوجائے تو انہیں 8 سے 10 سال قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ لیکن ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد ہونے والی سرگرمیوں کے حوالے سے کوئی تفصیلات موجود نہیں ہیں، لہذا ان پر کون سے الزامات ہیں اس بارے میں کورٹ مارشل کی دیگر تفصیلات سامنے آنے پر ہی پتہ چل سکے گا۔

سینئر اہلکار کا کہنا تھا کہ پاک فوج میں خود احتسابی کا عمل مسلسل جاری رہتا ہے اور سینئر افسران کے خلاف انکوائری پہلی بار نہیں ہو رہی۔ ماضی قریب میں لیفٹننٹ جنرل جاوید اقبال کو کورٹ مارشل کے بعد سزا سنائی گئی تھی، جبکہ این ایل سی اسکینڈل میں ملوث ہونے پر سینئر افسران کے خلاف کارروائی ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ لیفٹننٹ جنرل عبید کے خلاف بھی ایسی ہی کارروائی کی گئی تھی۔سینئر اہلکار کا کہنا تھا کہ حالیہ عرصہ میں حکومت کی طرف سے آرمی ایکٹ میں ایک ترمیم کی گئی ہے جس کے بعد ریٹائر ہونے والے افسران کے خلاف بھی آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔ جنرل فیض حمید نے بھی جو کچھ کیا ہے اس پر ان کے خلاف آرمی ایکٹ کے مطابق کارروائی ہو گی اور دیگر سینئر افسران کو بھی محتاط رہنا چاہیے وگرنہ ان کے خلاف بھی کارروائی ہو سکتی ہے۔

Back to top button