سابق ایرانی صدر احمدی نژاد نے رجیم چینج سے متعلق امریکی رپورٹس کو مسترد کردیا

سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے رجیم چینج سے متعلق امریکی اخبار کی رپورٹس کو من گھڑت قرار دے دیا
سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے اپنے خلاف شائع ہونے والی حالیہ میڈیا رپورٹس پر سخت ردعمل دیتےہوئے موساد سے مبینہ تعلقات اور گھر میں نظر بند ہونے کے دعوؤں کو مکمل طور پر بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق محمود احمدی نژاد نے امریکی اخبار کی اس رپورٹ کو مسترد کردیا ہے جس میں دعویٰ کیاگیا تھا کہ وہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ایران میں مبینہ رجیم چینج منصوبے کا حصہ تھے۔
احمدی نژاد کے دفتر نے امریکی اخبار پر عوام کو گمراہ کرنے اور ایران میں اندرونی تقسیم کو ہوا دینے کےلیے من گھڑت رپورٹس شائع کرنے کا الزام عائد کیا۔
دفتر کی جانب سے جاری بیان میں گھر میں نظربند ہونے کے دعوؤں کی بھی سختی سے تردید کرتےہوئے کہا گیاکہ یہ الزام اخبار کے "مضحکہ خیز” دعوؤں کو تقویت دینے کےلیے گھڑا گیا ہے۔
بیان میں مزید کہاگیا کہ "ہم نیویارک ٹائمز کی جانب سے لگائے گئے تمام الزامات کو واضح طور پر مسترد کرتے ہیں کیوں کہ یہ مکمل طور پر جھوٹے اور بےبنیاد ہیں۔”
امریکا-ایران کشیدگی : خام تیل ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر
واضح رہے کہ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا تھاکہ موساد نے حالیہ برسوں میں سابق ایرانی صدر احمدی نژاد کو اسرائیل کے ساتھ تعاون پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی اور انہیں ایران کی قیادت کےلیے ایک ممکنہ امیدوار کے طور پر نامزد کیا تھا۔رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیاگیا تھاکہ سابق صدر گھر میں نظر بند ہیں۔
