علی امین گنڈاپورافغان مہاجرین کی بے دخلی پربول پڑے

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کو شہریت دی جائے اور انہیں زبردستی بے دخل نہ کیا جائے۔
علی امین گنڈاپورکاپشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ افغان مہاجرین ہمارے پڑوسی ہیں اور انہیں ہم نے سینے سے لگایا تاہم پالیسی کے حوالے سے ہم ناکام رہے ہیں۔افغان مہاجرین کو بے عزت کر کے واپس نہیں بھیجنا چاہیے اور انہیں زبردستی ڈی پورٹ کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔افغان مہاجرین کو پاکستان کی شہریت کیوں نہیں دی جاتی۔
وزیراعلی نے کہا کہ جو افغان ہمارے صوبہ میں ہیں ان کونکالنے کا مخالف ہوں۔ افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے لیے وزارت خارجہ اور داخلہ کو ٹی او آرز بھیجے ہیں مگر ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا جبکہ میری مذاکرات والی بات پر تنقید کی گئی اور اُسے مذاق میں لیا گیا۔
علی امین گنڈا پور نے کہا کہ مولانا حامد الحق کے قتل کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں جبکہ مفتی منیرشاکر کی زمہ داری ایک گروپ نے قبول کی ہے۔صوبے کے حالات عمران خان حکومت میں خراب نہیں تھے لیکن ایک پارٹی کو ختم کرنے کے چکرمیں سب داؤ پرلگا دیا گیا ہے جس کی وجہ سے حالات خراب ہوئے ہیں، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے حالات مرکزی حکومت اوراداروں کی نااہلی سے خراب ہوئے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ آرمی چیف سے امن وامان کی صورت حال پر بات کرچکا ہوں اورکوئی ساتھ نہیں دیتا، یہ لوگ اب بھی پی ٹی آئی کوتوڑنے میں لگے ہوئے ہیں، فارم 45 والوں کو اقتدارمیں لانا جمہوریت کے ساتھ مذاق ہے لیکن کوئی پرواہ نہیں ہے۔
