سابق چیف جسٹس پر الزامات، رانا شمیم کو گواہوں کی فہرست جمع کرانے کا آخری موقع

عدالت نے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار پر الزامات عائد کرنے کے کیس میں سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کو گواہوں کی فہرست جمع کرانے کا آخری موقع دے دیا۔ سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان رانا شمیم کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی۔
رانا شمیم کی طرف سے وکیل لطیف آفریدی روسٹرم پر آئے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ کی آسانی کے لیے یہ کیس ڈھائی بجے رکھا ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا پراسیکیوشن نے اپنے گواہوں کے نام جمع کروا دیئے ہیں؟رانا شمیم کے وکیل لطیف آفریدی نے عدالت کو بتایا کہ کیا توہین عدالت کے تمام کیسز اسلام آباد ہی نہ لے آئیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ جو بھی ریڈ لائن کراس کرے گا، اس کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہو گی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عوام کو یہ بتایا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز نے کمپرومائزڈ کیا ہے، اس عدالت پر سے عوام کا اعتماد اٹھانے کی کوشش کی گئی۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ اس معاملے پر یہ عدالت کسی بھی حد تک جائے گی، توہین عدالت کون کرتا ہے یہ بات بڑی اہم ہوتی ہے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سابق چیف جج نے ایک انگریز سولیسٹر سے بیان حلفی لکھوایا، یہ بیان حلفی بہت اہمیت رکھتا ہے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ اگر بیان حلفی سچا ہے تو رانا شمیم اسے ثابت کریں، اگر یہ سچا نہیں ہے تو یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ رانا شمیم اپنا بیان حلفی ثابت کریں ورنہ غیرمشروط معافی مانگیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ رانا شمیم اگر کہیں کہ ان سے سمجھنے میں غلطی ہو گئی تو یہ عدالت مان سکتی ہے، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے توہین عدالت کیس کی
شیریں مزاری قومی اسمبلی اجلاس میں اپنے حلقے کی نمائندگی کر سکتی ہیں
کارروائی آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف جسٹس نے رانا شمیم کو ہدایت دی کہ اپنے گواہوں کی فہرست عدالت میں پیش کریں۔
وکیل لطیف آفریدی نے عدالت کو کہا کہ رانا شمیم بتا چکے ہیں کہ انہوں نے بیان حلفی دیا تھا لیکن اس کے متن کی تشہیر نہیں کی۔ رانا شمیم کے وکیل نے دلائل دیے کہ عدالت نے متن کی تشہیر کرنے والوں کو کیس سے الگ کر دیا۔
لطیف آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ میرا گناہ تو یہ ہے کہ بند کمرے میں قتل کا منصوبہ بنایا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ اس عدالت کو غرض نہیں کہ بیان حلفی کس طرح لیک ہو گیا، عدالت اُس کو توہین عدالت سمجھتی ہی نہیں۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ بیان حلفی کا متن توہین آمیز ہے اور وہ پبلک ہو چکا ہے، رانا شمیم اپنے بیان حلفی کو تسلیم کرتے ہیں، انہیں اس کو ثابت کرنا ہو گا۔
انہوں نے ریمارکس دیے کہ عدالت رانا شمیم کو شفاف ٹرائل کا مکمل موقع دے گی، اس عدالت پر ایک ریٹائرڈ چیف جج نے بہت بڑا دھبہ لگایا ہے اب اس کو کلیئر ہونا چاہیے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر رانا شمیم اپنا بیان حلفی تسلیم نہ کرتے تو عدالت ان کے خلاف کیس ختم کر دیتی، پھر یہ عدالت باقی لوگوں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی آگے بڑھاتی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ رانا شمیم نے اس عدالت کے بارے میں اتنی بڑی بات کی تو اس کو واضح ہونا چاہیے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ اگر رانا شمیم بیان حلفی تسلیم کرتے ہیں تو ان کو کیا ہچکچاہٹ ہے؟
رانا شمیم کے وکیل لطیف آفریدی نے مؤقف اختیار کیا کہ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم سے پوچھا گیا تھا کہ کیا آپ کو عدالت پر اعتماد ہے یا نہیں، انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا تھا لیکن بعد میں انہیں پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔
لطیف آفریدی نے مزید کہا کہ اب یہاں وہ صورتحال بالکل نہیں ہے، ہمیں عدالت پر اعتماد ہے، جس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے کہا کہ اس کا مطلب ہے، آپ کا مؤکل ہچکچا رہا ہے کہ وہ بیان حلفی ثابت نہیں کر سکے گا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایک چیف جج اتنا بڑا بیان حلفی دے گا تو ہر صحافی اس کو شائع کرنا چاہے گا، رانا شمیم کو شفاف ٹرائل ملے گا، وہ جس کو بطور گواہ بلانا چاہیں، بلا سکتے ہیں۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے بتایا کہ عدالت اس بیان حلفی کی سچائی تک ضرور پہنچے گی، اگر رانا شمیم نے بیان حلفی ثابت کر دیا تو کورٹ توہین عدالت کی کارروائی ختم کر دے گی۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر آپ تکنیکی وجوہات کی بنا پر کیس لٹکانا چاہتے ہیں تو یہ درست نہیں، جس پر رانا شمیم کے وکیل لطیف آفریدی کا جواب دیا کہ ہمیں تاخیر کر کے کیا فائدہ ہو گا؟
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ رانا شمیم نے جس عدالت سے متعلق اتنی بڑی بات کہی، وہ عدالت انہیں شفاف ٹرائل کا موقع دے رہی ہے، یہ عدالت آپ کو موقع دے رہی ہے کہ جو بات انہوں نے سنی اگر درست ہے تو اسے ثابت کریں۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جہاں سے توہین عدالت کی کارروائی شروع ہوئی وہ ریڈلائن ہے، رانا شمیم نے جب بیان حلفی تسلیم کیا تو اس کا لیک ہونا غیرمتعلقہ ہو گیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس عدالت کے وقار اور عوام کا اعتماد اب اس بیان حلفی پر منحصر ہے، اگر رانا شمیم بیان حلفی ثابت کر دیں تو یہ عدالت اس کارروائی کو آگے بڑھائے گی، پھر وہ کارروائی رانا شمیم کے خلاف نہیں ہو گی۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ رانا شمیم کو مکمل شفاف ٹرائل کا موقع دیا جائے گا تاکہ اس عدالت پر ذرا بھی دھبہ نہ رہے، یہ بہت ہی سنجیدہ معاملہ ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ رانا شمیم کے بیان حلفی کے جواب میں بھی کسی نے بیان حلفی نہیں دیا، جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ اگر آپکا یہ موقف ہے تو یہ معاملہ اور بھی سنجیدہ ہو جائے گا۔عدالت نے کہا کہ رانا شمیم کو گواہوں کی فہرست جمع کرانے کا آخری موقع دیا جاتا ہے، گواہوں کی فہرست جمع نہیں کراتے تو عدالت سمجھے گی کہ رانا شمیم بیان حلفی ثابت نہیں کر سکتے، عدالت پھر یہ سمجھے گی کہ رانا شمیم کے بیان حلفی کا متن درست نہیں ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیس کی سماعت 12 ستمبر تک ملتوی کر دی۔
