انارکلی دھماکے کا مقدمہ درج، جائے وقوعہ سیل

لاہور کے علاقے انارکلی بازار میں دھماکے کا مقدمہ سی ٹی ڈی کے تحت درج کر لیا گیا، دھماکے کے حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں، فرانزک اور سی ٹی ڈی ٹیموں نے اس حوالے سے مکمل شواہد حاصل کر لیے ہیں۔
دھماکے کے بعد انارکلی اور ملحقہ علاقوں میں دکانیں کاروبار بند ہوگئے، پولیس کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج سے ملزموں کا سراغ لگا لیا گیا ہے، سہولت کاروں کا سراغ لگانے کیلئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔
جائے وقوعہ پر تباہ شدہ 5 موٹرسائیکلیں اور ایک سائیکل موجود ہے اور دھماکے کے اطراف میں موجود دکانیں سیل کر دی گئی ہیں جبکہ جائے وقوعہ کی طرف آنے والے تمام راستوں کو بھی بند کر دیا گیا۔
پنجاب میں ان ڈور شادیوں پر پابندی کا فیصلہ چیلنج
مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی میں انسپکٹر عابد بیگ کی مدعیت میں درج کیا گیا، میو ہسپتال انتظامیہ کا بتانا ہے کہ دھماکے کے 12 زخمی ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کر دیئے گئے ہیں اور اب 13 زخمی زیر علاج ہیں۔
پولیس نے ملزموں کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے دو سہولت کاروں کو گرفتار کرلیا۔تفتیشی ذرائع کے مطابق دونوں سہولت کار مچھلی منڈی کے قریب پناہ لیے ہوئے تھے، دونوں کو سی سی ٹی وی بیک ٹریک کرکے گرفتار کیا گیا، مبینہ سہولت کاروں کو نامعلوم مقام پر منتقل کرکے تفتیش کی جاری ہے اور ان سے ان کے دیگر ساتھیوں اور مدد گاروں سے متعلق دریافت کیا جارہا ہے۔
قبل ازیں پولیس کا یہ بھی کہنا تھا کہ دھماکے کی جیوفینسنگ مکمل کرلی گئی ہے، مشتبہ کالز شارٹ لسٹ کرنی شروع کردی ہیں اور تفتیش کا دائرہ کار دوسرے اضلاع تک پھیلا دیا گیا ہے، شبہ ہے کہ سہولت کار اور ہینڈلر کسی اور ضلع سے لاہور آئے، اس ضمن میں مشتبہ افراد کا ریکارڈ اکٹھا کیا جارہا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ سہولت کاروں اور مبینہ دہشت گرد کے درمیان رابطہ رہا ہے، جائے وقوع سے حاصل مشتبہ افراد کو تصاویر کی مدد سے ٹریس کیا جارہا ہے تاہم تفتیش مکمل ہونے تک کسی کو حتمی ملزم قرار نہیں دے سکتے۔
