قائد اعظم یونیورسٹی میں تشدد کی لہر کیوں چل رہی ہے؟

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی معروف قائد اعظم یونیورسٹی میں قوم پرست سندھی طلبہ کی جانب سے مبینہ طور پر سندھی اجرک جلانے کے الزام پر اسلامی جمعیت طلبہ سے منسلک طلبہ کے اغوا اور ان پر تشدد کے باعث جامعہ کی صورت حال کشیدہ ہے۔

سنیئر صحافی انصار عباسی کہتے ہیں کہ قائداعظم یونیورسٹی، اسلام آباد پاکستان کی بہترین جامعات میں سے ایک ہے اور اگر اِس درس گاہ میں بھی ایسا ظلم ہو رہا ہے تو یہ قابلِ افسوس ہے۔ یونیورسٹی طلبہ کی جانب سے لکھے گے ایک کھلے خط کے ندرجات کے حوالے سے انصار عباسی بتاتے ہیں کہ قائد اعظم یونیورسٹی میں آئے روز رونما ہونے والے واقعات، پروان چڑھتے منفی رویے اور انسانوں کو نسلی بنیاد پر تقسیم کرنے والے افکار یقیناً ہر ذی شعور انسان کے لیے پریشان کن ہیں اور کسی اوسط درجے کے مہذب انسان کے لیے بھی ان کو گوارا کرنا ناممکن ہے۔ گویا قائداعظم یونیورسٹی کی تصویر کا ایک رُخ جتنا دلفریب اور خوشنما ہے، دوسرا رخ اُتنا ہی دقیانوسی اور بدنما۔

اِس یونیورسٹی کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ یہاں پر سب کو فکر و عمل کی آزادی میسر ہے مگر حقیقتِ حال یہ ہے کہ آزادی کے نام پر آزادی کا جس قدر استحصال یہاں کیا جاتا ہے اُس کی مثال کسی قبائلی سماج میں بھی ملنا مشکل ہے۔ یہاں دقیانوسی نسلی مائنڈ سیٹ کو تو ہر طرح کی مادر پدر اور شتر بےمہار آزادی حاصل ہے اور اِس سے اختلاف کرنے اور ادنیٰ اور اعلیٰ انسانی افکار کو اپنانے کا حق کسی کو حاصل نہیں لیکن اگر اِس مخصوص طرزِ فکر و عمل کے دائرے سے نکل کر کوئی کچھ سوچنے، بولنے اور کرنے کی جسارت کر ہی لے تو اس کے لیے یہی قائداعظم یونیورسٹی ایک عقوبت خانے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

انصار عباسی کے مطابق 22 دسمبر 2021 کو پانچ طلبہ کے اغوا کا واقعہ اِس کی تازہ ترین مثال ہے۔ جب اُن طلبہ کو یونیورسٹی کی ایک فکری تنظیم سے تعلق رکھنے کی وجہ سے نسل پرست لسانی طلبہ کی جانب سے اغوا کیا گیا تو ان کے موبائل فون ڈیٹا سے چیزیں نکال کر ایک ہجوم کے سامنے لائی گئیں۔ اغواء کاروں نے اُن طلبہ پر الزامات لگا کر ہجوم کو اشتعال دلانے کی بھرپور کوشش کی۔

مثلاً ایک الزام یہ لگایا کہ اغوا ہونے والے طالب علموں نے سندھی اجرک کو جلایا تھا تاکہ سندھ سے تعلق رکھنے والوں کو مشتعل کیا جا سکے۔ اِس واقعے بارے جامعہ کی انتظامیہ کو بروقت مطلع کیا گیا لیکن اس کے باوجود اُنہوں نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔ اسلام آباد انتظامیہ نے بالآخرکئی گھنٹوں بعد تین طالب علموں کو بازیاب کروا لیا لیکن دو طالب علموں کو 24 گھنٹوں بعد بازیاب کروایا گیا۔

اغوا ہونے والے طلبہ کے مطابق اُنہیں جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اُن کے شناختی کارڈز اور موبائل فون چھین لیے گئے، اُن سے بالجبر بیانات ریکارڈ کروائے گئے، ویڈیوز بنوائی گئیں۔ چھینی ہوئی اشیا تاحال کونسلز والوں کے پاس ہیں اور وہ اِن کو غیر قانونی طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ اِس کے علاوہ اغوا شدہ طالب علموں پر تعلیمی ادارے میں تبلیغِ دین کا الزام لگایا گیا۔

انارکلی دھماکے کا مقدمہ درج، جائے وقوعہ سیل

بقول انصار عباسی یہ تمام باتیں ایک ویڈیو کلپ میں بالکل واضح طور پر دیکھی اور سنی جا سکتی ہیں جس میں قوم پرست طلبہ کونسل کے عہدیداروں اور دیگر لوگوں کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ طویل جدوجہد کے بعد پولیس نے 5 معلوم اور چند نامعلوم لوگوں پر ایف آئی آر درج کی۔

بقول انصار عباسی، قائد اعظم یونیورسٹی کی انتظامیہ اس معاملے میں خاموش تماشائی بنی رہی اور طلبہ کے تحفظ کو یقینی بنانے کی اپنی ذمہ داری کو پورا کرنے میں بری طرح ناکام رہی۔ یہ فقط ایک مثال ہے، یہاں بےشمار ایسے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ انصار کہتے ہیں میں فکر کی آزادی کی قدر کرنے والے دوستوں سے درخواست کرتا ہوں کہ اِس یونیورسٹی میں آپ کا لبرل نام اور چہرہ وہ لوگ استعمال کر رہے ہیں جن کو لبرل ازم کا مطلب تک نہیں معلوم۔

یعنی یہ کون سا لبرل ازم ہے جو آپ کو اپنے نظریات، افکار رکھنے اور ان کا اظہار کرنے سے روکتا ہےاور ناصرف روکتا ہے بلکہ استبداد اور تشدد اختیار کرتا ہے؟ یہ کون سی آزادیٔ اظہارِ رائے ہے جو صرف چھ قوم پرست لسانی کونسلوں کو ہی اجازت دیتی ہے کہ آپ کے علاوہ کسی دوسرے علاقے جیسا کہ کشمیر اور ہزارہ کو کیوں اپنی تنظیم بنانے کی اجازت نہیں ہے؟ بولنے پہ پابندی، سوچنے پہ تعزیریں۔۔۔ کوئی اس جبر کے خلاف بولے تو زبان کھینچ لی جائے، کوئی قلم اٹھائے تو ہاتھ قلم کر دیے جائیں، کوئی چلنا چاہے تو پیر کاٹ ڈالیں، کوئی اس خوابیدہ سماج میں کروٹ لینا چاہے تو کمر توڑ دیں۔

یعنی اس یونیورسٹی میں ایک مخصوص طبقے کی دقیانوسی سوچ، فکر اور طرز عمل کے لیے تو سب طرح کی آزادی ہے، اس کے سوا باقی سب کے لیے اس فسطائیت کے پاس ایک ہی تحفہ ہے یعنی جبر و تشدد! انصار عباسی کہتے ہیں کہ موجودہ صورت حال قائداعظم یونیورسٹی میں زیر تعلیم مستقبل کے معماروں کے لیے پریشان کن ہے اور کسی المیے کو جنم دے سکتی ہے۔

Back to top button