ڈالر کی قیمت 200 روپے سے بھی تجاوز کر جانے کا امکان

اپنے پچھلے ساڑھے تین سالہ دور حکومت میں مہنگائی، غربت اور بے روزگاری کے نئے ریکارڈ قائم کرنے والی کپتان حکومت اب ایک اور اعزاز اپنے نام کرنے جا رہی ہے۔ معاشی ماہرین اب اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ کپتان دور حکومت میں روپے کو روند کر مسلسل آگے بڑھنے والا امریکی ڈالر مستقبل قریب میں دو سو روپے کی حد سے بھی تجاوز کرنے والا ہے۔

ڈالر کی قیمت 200 روپے سے تجاوز کرنے کے خدشات تب پیدا ہوئے جب کرنسی ایکسچینج کا بزنس کرنے والی کمپنیوں پر حکومت کی جانب سے ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ ہوا۔کرنسی ایکسچینج کمپنیوں کی جانب سے ڈالر کی قیمت بڑھنے کے امکانات کا اظہار ایک ایسے وقت کیا جا رہا ہے جب ڈالر کے مقابلے میں روپیہ پہلے ہی کافی مہینوں سے دباؤ کا شکار ہے اور اس کی قیمت میں مسلسل کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔

اس وقت ایک امریکی ڈالر کی پاکستانی روپے میں قیمت 175 اور 176 روپے کے درمیان ہے۔ مئی 2021 میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت 152 روپے تھی تاہم ملک کے بڑھتے درآمدی بل اور افغانستان کو ڈالر کی مبینہ سمگلنگ کی وجہ سے ڈالر کی قیمت میں بہت زیادہ اضافہ ہوا اور دسمبر 2021 تک ڈالر کی انٹر بینک میں قیمت 178 روپے سے بھی تجاوز کر گئی تھی جس وجہ سے مہنگائی کی شرح بھی بلند ترین سطح پر آ گئی۔

معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کے بڑھتے ہوئے درآمدی بل کی وجہ سے جہاں تجارتی خسارے میں اضافہ ہوا وہیں اس نے جاری کھاتوں کے خسارے کو بھی بڑھایا اور ملک کے بیرونی ادائیگیوں کے توازن میں بھی بگاڑ پیدا کیا۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معطل شدہ پروگرام کی بحالی اور ایک ارب ڈالر کی قسط وصولی کے لیے حکومت نے حال ہی میں منی بجٹ بھی پاس کروایا تھا تاکہ آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر وصول کرنے کے بعد دوسرے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی جانب سے پاکستان کو فنڈنگ جاری ہو سکے جو ملک کی بیرونی ادائیگیوں کے توازن کو بہتر بنانے گی اور ایکسچینج ریٹ پر اس کا مثبت اثر پڑے گا۔

اس سلسلے میں کپتان حکومت کی جانب سے ایکسچینج کمپنیوں پر ودہولڈنگ ٹیکس نافذ کیا گیا ہے جس کی شرح 16 فیصد ہو گی۔ وزیر خزانہ کے ترجمان مزمل اسلم نے بتایا کہ یہ نوٹسز 2014 سے 2016 کے درمیان جب ٹیکس نافذ تھا، اس پر جاری کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے ایکسچینج کمپنیوں پر جو 16 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس لگایا گیا ہے یہ اصل میں 2014 میں نافذ کیا گیا تھا تاہم 2016 میں اس ٹیکس کو واپس لے لیا گیا تھا۔ اُنھوں نے کہا کہ پچھلے پانچ سال سے یہ ٹیکس نافذ العمل نہیں تھا مگر اب حکومت کی جانب سے اچانک اس کو لاگو کر دیا گیا ہے اور اس کے تحت فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب

سے نوٹسز جاری کیے گئے ہیں جن میں ایک ارب روپے تک اس ٹیکس کے تحت حکومت کو جمع کروانے کا کہا گیا پے۔ اُنھوں نے کہا کہ اس ٹیکس کے نفاذ اور اس کے تحت نوٹسز پر ایکسچینج کمپنیوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کہ اچانک سے حکومت نے اس ٹیکس کو نافذ کر دیا ہے جو 2016 میں واپس لے لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس حکومتی اقدام سے ڈالر کی قیمت 200 روپے سے تجاوز کر جانے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

تاہم وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا یے اس ٹیکس کا اطلاق ایکسچینج کمپنیوں پر ہو گا اور انٹربینک میں ڈالر کی تجارت پر اس کا کوئی اطلاق نہیں ہو گا۔ انکا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ڈالر کی قانونی مارکیٹ کی حوصلہ شکنی ہو گی اور گرے مارکیٹ یعنی غیر قانونی ذرائع یعنی حوالہ و ہنڈی کے ذریعے ڈالر کی تجارت کی حوصلہ افزائی ہو گی۔ مگر مالیاتی امور کے ماہر اور عارف حبیب لمٹیڈ کے ہیڈ آف ریسرچ طاہر عباس نے بتایا کہ اس ٹیکس کا نفاذ اوپن مارکیٹ میں ہونے والے سودوں پر ہو گا اور اس کا اطلاق انٹر بینک مارکیٹ پر نہیں ہوتا جو پاکستان میں شرح مبادلہ کا تعین کرتی ہے۔

ڈالر کی قدر میں 27 پیسے اضافہ، روپیہ گر گیا

اُنھوں نے کہا کہ ایکسچینج کمپنیوں کی جانب سے تخمینہ لگایا گیا ہے کہ اگر اوپن مارکیٹ میں ڈالر 180 روپے کا ہے اور 16 فیصد کے حساب سے صارفین سے ٹیکس وصول کیا جائے گا تو ڈالر کی مجموعی قیمت 200 روپے سے تجاوز کر جائے گی۔

لیکن طاہر عباس نے اس امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کرنسی ایکسچینج کا 90 سے 95 فیصد کام انٹر بینک میں ہوتا ہے اس لیے اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ ڈالر اتنی بلند سطح پر چلا جائے۔ اُنھوں نے کہا کہ ایف بی آر چاہتا ہے کہ پوائنٹ آف سیل کے ذریعے جو بھی ٹرانزیکشن ہے وہ ریکارڈ کا حصہ بنے اور اس پر ٹیکس دیا جائے تاہم ڈالر کی قیمت اس وجہ سے نہیں بڑھ سکتی کیونکہ اوپن مارکیٹ میں بہت تھوڑا کام ہوتا ہے اور ڈالر کی 90 فیصد سے زائد ضرورت انٹر بینک پوری کرتا ہے۔

تاہم ایکسچینج کمپنیوں کی تنظیم کے سربراہ بوستان نے کہا کہ یہ ایک اصولی بات ہے کہ جب ٹیکس لگایا جائے گا تو اس کا بوجھ صارفین کو منتقل ہو گا۔ اُنھوں نے کہا کہ 16 فیصد اضافی ٹیکس جب صارفین کو منتقل ہو گا تو اس کا تقریباً 20 روپے اضافی بوجھ صارفین کو ادا کرنا پڑے گا یعنی اس وقت اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 180 روپے کے لگ بھگ ہے تو ٹیکس کے اضافی 20 روپے سے ایک ڈالر 200 روپے میں پڑے گا۔

دوسری جانب وزیر خزانہ کے ترجمان مزمل اسلم نے کہا کہ کرنسی ایکسچینج کمپنیز چاہتی ہیں کہ حکومت ٹیکس واپس لے، نہیں تو ہم ڈالر مہنگا کر دیں گے۔ اُنھوں نے کہا ایکسچینج کا رویہ ’مافیا سٹائل‘ ہے کہ مطالبات پورے نہ ہونے پر انتہائی اقدام کی دھمکی دیتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر ایکسچینج کمپنیاں اپنے کاروبار بند کرتی ہیں تو اس کا بھی ہم پر کوئی اثر نہیں ہو گا کیونکہ ان کی جگہ دوسری ایکسچخنج کمپنیز آ جائیں گی۔ ملک بوستان میں مزمل اسلم کی گفتگو کو دھمکی آمیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں رویہ زیب نہیں دیتا۔ انکا کہنا تھا کہ حکومت کو سمجھنا چاہیئے کہ یہ ٹیکس ایکسچینج کمپنیز پر نہیں لگتا کیونکہ یہ خدمات پر لگایا جاتا ہے جبکہ ہم لوگ صرف ڈالر کی خرید و فروخت کر رہے ہیں جو کہ خدمات کے زمرے میں نہیں آتی۔

Back to top button