اینی بھولی نئیں

تحریر: حماد غزنوی
بشکریہ: روزنامہ جنگ
عید پر خوب رونق رہی”شرفاء”نے قربانی کا فریضہ ادا کیا اور اجلاف نے گوشت اکٹھا کرنے کی ذمہ داری نبھائی، افتادگانِ خاک نے دل لگا کے گوشت خوری کی کہ یہ لذت وہ سال میں ایک ڈیڑھ بار ہی اٹھا پاتے ہیں، جب ہماری شادی ہوئی تھی اس وقت ایک تولہ سونے کی جو قیمت تھی، آج ایک کلو چھوٹے گوشت کی وہی قیمت ہے، سو وصلِ لحم عوام کیلئے ایک واقعہ ہو چکا ہے۔سنتے ہیں عید کے موقعے پر پنجاب صاف ستھرا رہا، جانوروں کی منڈیاں مخصوص علاقوں تک محدود رہیں، اور قربانی کے عمل کو بھی قاعدے کا پابند بنانے کی مقدور بھر کوشش رہی، اور پھر گند پسند عناصر کی سرکوبی کیلئے ستھرا پنجاب کا عملہ جاں فشانی سے اپنا فرض ادا کرتا رہا۔ عید کے موقعے پر پنجاب تو صاف ستھرا رہا لیکن ہمارے ساتھ بہت "سُتھری” ہوئی۔ عید کے دنوں میں ہماری بجلی چلی گئی۔ لیسکو کی مرکزی تار جو ہمارے ٹرانس فارمر تک بجلی پہنچاتی تھی وہ جل گئی۔ ہم نے درخواست دی کہ تار بدل دی جائے، جواب ملا لیسکو کے پاس تار نہیں ہے، آپ دو لاکھ روپے دیں تو تار بدل دیں گے۔ ہم نے خطیر رقم پر تشویش کا اظہار کیا تو عملے کے ایک صاحب نے "سستا” حل تجویز کیا کہ آپ مجھے ساٹھ ہزار روپے عیدی دیں تو میں اسی تار کا جلا ہوا سرا نکال کر بجلی بحال کر دوں گا۔ یہ ذاتی قصہ سنانے کا خیال ہمیں خواجہ آصف کی ایک حالیہ معروف ٹوئٹ سے آیا ہے۔ ہمارا قصہ آگے بھی بہت دل چسپ ہے مگر پہلے وزیرِ دفاع خواجہ آصف صاحب کے ٹوئیٹ کا خلاصہ ملاحظہ فرمائیے۔ خواجہ صاحب کے گھریلو ملازم کے گاؤں کا ٹرانسفارمر جل گیا، خواجہ صاحب نے لیسکو میں اپنے کسی پرانے مہربان سی ای او سے درخواست کی، جسکے نتیجے میں لیسکو ملازمین نے ٹرانسفا رمر مرمت کر دیا اور "عیدی” کے طور پر گاؤں والوں سے 80000 روپے بھی وصول کر لیے۔ خواجہ صاحب نے افسردگی اور خفگی سے فرمایا کہ ایک سابق بجلی کے وزیر اور موجودہ رکنِ اسمبلی کی سفارش پر بھی لیسکو ملازمین واردات سے باز نہیں آتے تو عام آدمی کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہو گا۔یہ قصہ خواجہ صاحب کے ملازم کے گاؤں کا ہے، انکے اپنے گھر کا نہیں۔ ہم جو قصہ سنا رہے ہیں وہ ہمارے اپنے گھر کا ہے۔ خواجہ صاحب کی شکایت پر لیسکو کے متعلقہ ایکسیئن، ایس ڈ ی او، لائن سپرینٹنڈنٹ اور لائن مین معطل کر دیے گئے ہیں۔ ہمارے علاقے کے متعلقہ افسران خوش و خرم اپنی افسریاں کر رہے ہیں۔ ہم نے بھی اپنی بجلی تین دن بعد ایک تگڑی سفارش سے بحال کروائی۔ خواجہ صاحب تو خود بہ نفسِ نفیس ایک چلتی پھرتی سفارش ہیں، اور ہم جیسے چھوٹے موٹے صحافی بھی کسی دوست کے سامنے گریہ کر کے کام نکلوا لیتے ہیں، اب کچھ ذکر عوام الناس کا بھی ہو جائے، یعنی 25کروڑ پاکستانیوں کا، جن کے پاس سفارش نہیں ہے، جن کے پاس رشوت دینے کے پیسے نہیں ہیں۔ خواجہ صاحب پوچھ رہے ہیں کہ عام آدمی کے ساتھ کیا ہوتا ہو گا؟ کیا انہیں نہیں معلوم عام آدمی کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ اور تو کچھ نہیں ہوتا بس "پولے کھاندیاں وار نئیں آوندی اے۔” وہی ہوتا ہے جو خواجہ صاحب کی بجلی کی وزارت کے دنوں میں ہوتا تھا، بلکہ ہر دور میں ہوتا رہا ہے۔خواجہ صاحب کو بنیادی دکھ یہ ہوا کہ ان کی سفارش کے باوجود رشوت دے کر کام کروانا پڑا۔ عام آدمی کا ذکر تو سیاسی لوگ رسماً کرتے ہی رہتے ہیں۔ جب حکومت میں شامل افراد نظام کے گلے سڑے ہونے کا اقرار کرتے ہیں تو خود کو اس نظام سے علاحدہ دکھاتے ہیں، عوام کے غصے کا رخ کہیں اور موڑنے کی کوشش کرتے ہیں، اپنی وزارت اور محکمے سے بہت دور ہٹ کر، کسی اور منطقے کی خرابی اجاگر کرتے ہیں۔ خواجہ صاحب تقریباً 35 سال سے پارلے مان کا حصہ ہیں، اور”جماندرو” وزیر رہے ہیں، آج بھی ہیں۔نظام کی شکستگی کی ایسی درجنوں مثالیں ہیں، ہر روز کوئی ایسا قصہ سنتے ہیں، قریباً ہر محکمے کا سنتے ہیں۔ اور سنی سنائی کو چھوڑیے، خود بھی بھگتتے ہیں۔ سرکاری دفتر جانے سے پہلے سفارش ڈھونڈتے ہیں، اور اگر سفارش کے بغیر چلے جائیں تو کچھ ہی دیر میں دل سے صدائیں ابھرنے لگتی ہیں کہ "کچھ شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے۔” کاش ہمارے مسائل کسی ایکسئین یا ایس ڈ ی او، کسی تھانے کے ایس ایچ او یا کسی ہسپتال کے ایم ایس کو معطل کرنے سے حل ہو سکتے۔یہ بات ہے 2002کی، فواد چودھری کے ماموں شہباز صاحب قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے تھے، فواد، ملک احمد (سپیکر پنجاب اسمبلی)، راجہ عامر کی معیت میں ہم بھی حلف برداری کی تقریب دیکھنے پہنچے۔ اس تقریب میں خواجہ آصف صاحب نے ایک فقرہ بولا جو ہمارے حافظے سے چپک گیا، جسے ہم سال ہا سال مخصوص مواقع پر استعمال کرتے رہے ہیں۔ ہوا یوں کہ ظفراللہ جمالی صاحب وزیرِ اعظم بنے تو ایک رکن اسمبلی نے انہیں جونیجو صاحب کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے حقیقی جمہوریت کی بحالی میں اپنا کردار ادا کرنے کا مشورہ دیا، خواجہ آصف صاحب نے اپنی نشست سے بلند آواز تبصرہ فرمایا کہ ” اینی بھولی نئیں۔” یعنی جمالی صاحب اتنے سادہ نہیں کہ ڈکٹیٹر سے بگاڑ کر جونیجو صاحب والے انجام سے دوچار ہوں۔تو آج جب خواجہ صاحب حیرت سے پوچھتے ہیں کہ”عام آدمی کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہو گا” تو ان کیلئے بھی دل سے یہی صدا ابھرتی ہے….”اینی بھولی نئیں۔”
