ڈپٹی کمشنر کرم پر حملے میں ملوث ایک اور ملزم گرفتار

ڈپٹی کمشنر کرم جاوید اللہ محسود پر حملے میں ملوث ایک اور ملزم کو گرفتار کر لیاگیا ہے۔
پولیس کےمطابق مقدمے میں نامزد 5 ملزمان میں سے اب تک 3 ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب سی ایم ایچ پشاور میں ڈپٹی کمشنر کرم جاوید محسود کا کامیاب آپریشن ہوگیا۔ ڈاکٹرز نے آپریشن کرکے جاوید محسود کی ران کی ہڈی جوڑ دی۔
یاد رہےکہ 4 جنوری کو لوئر کرم کے علاقے بگن میں نامعلوم دہشت گردوں کی فائرنگ سے ڈپٹی کمشنر کرم جاوید محسود سمیت 7 افراد زخمی ہوگئےتھے۔
جاوید اللہ محسود کو ایک گولی کندھے،دوسری پیٹ اور تیسری گولی ٹانگ میں لگی تھی۔
دہشت گردی کے اس واقعہ کے بعد ضلع کرم کےلیے 3 ماہ بعد کھانے پینے کا سامان لے جانے والا قافلہ روک دیا گیا تھا۔
ملک کی پارلیمانی سیاست پر ہزاروں سوال اٹھ رہے ہیں،فضل الرحمٰن
قبل ازیں حکومت خیبرپختونخوا نے کرم کے مشران کو ڈپٹی کمشنر پر حملے میں ملوث ملزمان کو حوالے کرنے کا کہا تھا، جب کہ عدم تعاون کی صورت میں ہر قسم کے معاوضے اور امداد کو روکنے اور علاقے میں کلیئرنس آپریشن شروع کا بھی فیصلہ کیا گیا تھا۔
ضلع کرم کی صورت حال پر اعلیٰ سطحی اجلاس کوہاٹ میں ہوا جس میں کے اعلامیے کے مطابق ضلع کرم امن معاہدے پر دستخط کرنے والے مشران کو امن معاہدے کے نفاذ پر جوابدہ بنایا جائےگا اور ڈپٹی کمشنر پر حملے کے تمام مجرموں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمے درج کیے جائیں گے۔
اجلاس کے شرکاء نےکہا تھا کہ مشران کو 4 جنوری کے حملےکے مجرموں اور سہولت کاروں کو حوالے کرنے کا کہہ دیا گیا ہے اور عملدرآمد نہ کرنے کی صورت میں مجرموں کو حوالے نہ کرنے تک ہرقسم کے معاوضے اور امداد کو روک دیا جائے گا، فرقہ ورانہ انتشار کی پشت پناہی کرنےوالے سرکاری افسران کے خلاف تادیبی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
اعلامیے کےمطابق مجرموں کی حوالگی میں عدم تعاون پر کلیئرنس آپریشن کی ضرورت پڑنےپر آبادی کو عارضی طورپر منتقل کیا جائےگا اور مختلف خوارج کے سر کی قیمت کا اعلان کیا جائےگا۔
