ANPلیڈر کو کس نے اغواء کر کے مارا؟


بلوچستان سے تعلق رکھنے والے عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ملک عبیداللہ خان کاسی کی ہتھکڑی لگی تشدد زدہ لاش برآمد ہونے کے بعد صوبہ بھر غم اور غصے کی فضا ہے اور قتل کا الزام ریاستی اداروں پر عائد کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ عبیداللہ خان کی لاش ضلع کوئٹہ سے متصل پشین کے علاقے سے برآمد ہوئی جسکے طبی معائنے کے بعد معلوم ہوا ہے کہ اغوا کاروں نے انھیں ہتھکڑی سمیت قتل کرنے سے پہلے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ کوئٹہ پولیس کے مطابق ملک عبیداللہ کاسی کو 26 جون کو اغوا کیا گیا تھا اور 5 اگست کو انکی لاش ضلع کوئٹہ سے متصل پشین کے علاقے سرانان سے برآمد ہوئی۔
سول ہسپتال کوئٹہ کی پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض نے بتایا ہے کہ ’ملک عبیداللہ کو بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کے علاوہ بھوکا اور پیاسا بھی رکھا گیا لیکن ان کی موت تشدد سے ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ تشدد کے لیے ہتھوڑی، کیل لگے ڈنڈے اور اس طرح کے دیگر آہنی آلات کا استعمال کیا گیا اور تشدد کے اثرات جسم کے اندرونی اعضا پر بھی تھے۔ مغوی رہنما کے ماموں اور پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنما یوسف خان کاکڑ نے میڈیا کو بتایا کہ اغواکاروں کی جانب سے تاوان وصولی کے لیے ایک مرتبہ کال آئی لیکن یہ معاملہ اغوا برائے تاوان کا نہیں بلکہ اس میں ہمیں ریاستی اداروں کا ہاتھ دکھائی دیتا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران عبیدالل بلوچستان میں عوامی نیشنل پارٹی کے دوسرے رہنما ہیں جن کی اغوا کے بعد تشدد زدہ لاش برآمد ہوئی ہے۔ بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیااللہ لانگو نے اس واقعے کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ ادھر عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے اکنی جماعت کے رہنما کے قتل پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ‘مظلوم اقوام کے حق کی جنگ میں ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔ 6 اگست کو کوئٹہ میں عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے قتل کے خلاف احتجاج ہوا اور مظاہرے کیے گے۔
ملک عبیداللہ خان کا تعلق ضلع کوئٹہ کے معروف قبیلے کاسی سے تھا اور وہ کوئٹہ شہر کے نواحی علاقے کچلاک میں کلی کتیر کے رہائشی تھے۔ وہ زمانہ طالب علمی سے سیاسی جدوجہد سے وابستہ رہے تھے اور تعلیم کے دوران ان کی وابستگی عوامی نیشنل پارٹی کے سٹوڈنٹ وِنگ پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن سے رہی اور انھوں نے بعد میں عوامی نیشنل پارٹی کے پلیٹ فارم سے عملی سیاست کا آغاز کیا تھا۔وہ عوامی نیشنل پارٹی کے مختلف عہدوں پر فائز رہے تاہم اس وقت وہ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے رکن تھے۔
سول ہسپتال کوئٹہ کی پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض نے بتایا کہ لاش کے دونوں ہاتھ اور پاﺅں ہتھ کھڑی سے بندھے ہوئے تھے۔ ‘ان کے ہاتھ تو بہت زیادہ سخت باندھے ہوئے تھے اور انھیں کسی بہت ہی خراب جگہ پر رکھا گیا تھا، جیسے گودام وغیرہ میں ۔‘ پولیس سرجن کے مطابق مقتول پر بہت زیادہ تشدد کیا گیا تھا۔ ‘تشدد کے لیے ہتھوڑی، کیل لگے ڈنڈے اور اس طرح کے دیگر آلات کا استعمال کیا گیا جن کو ہم میڈیکل کی زبان میں کند آلات کہتے ہیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’یہ تشدد صرف جسم کے باہر نہیں تھا بلکہ اس کے اثرات جسم کے اندرونی اعضا پر بھی تھے۔ تشدد سے ان کا سینہ اور پیپھڑے بھی متاثر ہوئے تھے بلکہ جب ہم نے ان کے سر کو کھولا تو سر کے اندر بھی تشدد کے نشانات تھے۔ انھوں نے بتایا کہ تشدد کے علاوہ مقتول کو بھوکا اور پیاسا بھی رکھا گیا اور کھانے کے لیے صرف اتنا کچھ دیا جاتا رہا کہ وہ بس زندہ رہ سکیں لیکن ان کی موت تشدد کی وجہ سے ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ لاش کی برآمدگی سے موت اندازاً 12 گھنٹے پہلے ہوئی تھی۔
اس سے پہلے ملک عبید اللہ کو 26 جون 2021 کو نامعلوم افراد نے انکے آبائی علاقے کلی کتیر سے اغوا کیا تھا۔ ان کے ماموں محمد یوسف خان کاکڑ نے سول ہسپتال کوئٹہ میں میڈیا کو بتایا کہ شروع میں ان سے فون پر 15 لاکھ ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ملک عبید اللہ کے اغوا کے دو روز بعد ان ہی کے فون سے یہ مطالبہ کیا گیا تھا لیکن اسکے بعد کوئی فون نہیں آیا۔ یوسف کاکڑ نے کہا کہ انکے بھانجے کا اغوا تاوان کے لیے نہیں تھا کیونکہ اغوا کار پیسے مانگتا ہے لیکن ملک عبیداللہ کاسی کو تو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انھوں نے کہا کہ عبید کی بازیابی کے لیے پولیس کی جانب سے تین دن کی مہلت مانگی گئی تھی، ہم نے مہلت دی لیکن 40 روز گزر گئے مگر کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور پھر لاش آ گئی۔ انھوں نے سوال کیا کہ جب پشتون اور بلوچ اغوا ہوتے ہیں تو ان کی بازیابی کے لیے ریاست کیوں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرتی۔
رواں سال کے دوران جو لوگ بلوچستان سے اغوا ہوئے ان میں اے این پی کے رہنما ملک عبیداللہ کے اغوا کا واقعہ اس نوعیت کے ہائی پروفائل کیسز میں سے ہے چونکہ عوامی نیشنل پارٹی تیسری بڑی جماعت کی حیثیت سے بلوچستان میں مخلوط حکومت کا حصہ ہے۔ ان کی بازیابی کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاس ہوئے لیکن ان کی محفوظ بازیابی ممکن نہ ہو پائی۔ رواں سال عوامی نیشنل پارٹی کے کسی رہنما کی اغوا کے بعد لاش کی برآمدگی کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل اے این پی بلوچستان کے سیکریٹری اطلاعات اسد خان اچکزئی کی لاش برآمد ہوئی تھی۔ اسد کو 20 ستمبر 2020 کو چمن سے کوئٹہ آتے ہوئے ایئرپورٹ روڈ پولیس کی حدود سے اغوا کیا گیا تھا۔پانچ ماہ بعد ان کی لاش کوئٹہ کے علاقے نوحصار میں ایک کنویں سے برآمد کی گئی تھی۔ اسد خان اچکزئی کے اغوا اور قتل کے الزام میں لیویز فورس کے ایک اہلکار کو گرفتار کیا گیا تھا۔ پشین میں لیویز فورس کے ہیڈکوارٹر کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ان کی لاش پشین شہر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر سرانان کے علاقے سے ملی ہے۔انھوں نے بتایا کہ وہاں لاش کی موجودگی کی اطلاع پر اسسٹنٹ کمشنر کی سربراہی میں لیویز فورس کے اہلکار گئے اور لاش کو پہلے سول ہسپتال پشین منتقل کیا گیا اور بعد میں پوسٹ مارٹم کے لیے کوئٹہ منتقل کیا گیا۔ان کی لاش کی جو تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہیں ان سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان کو بہت زیادہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کے ہتھکنڈوں سے ہم اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ قربانیوں کا یہ سلسلہ خدائی خدمتگار تنظیم سے لے کر عوامی نیشنل پارٹی تک آج بھی جاری ہے۔ انھوں نے ایک ٹویٹ میں مزید کہا کہ ‘دہشتگردی، دھونس، انتہا پسندی اور امن مخالف بیانیوں کی مخالفت کرنا اگر جرم ہے، تو یہ جرم کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اچکزئی کے قتل کے بعد اب ہمیں بلوچستان سے ایک اور لاش دی گئی ہے۔ لیخن مظلوم اقوام کے حق کی جنگ میں ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔‘

Back to top button