کیا کے پی کے میں بڑھتے ہوئے حملوں کا مقصد فوجی آپریشن روکنا ہے؟

کے پی کے میں دو روز کے دوران دہشت گردی کے دو مختلف واقعات میں 10 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 28 افراد کی شہادت نے صوبے کی سیکیورٹی صورتِ حال پر مزید سوالات اُٹھا دیے ہیں۔ پاکستانی حکام نے اس حملے کا الزام افغانستان میں حافظ گل بہادر گروپ پر عائد کیا ہے۔ تاہم پاکستان میں شرپسندانہ کارروائیوں میں ملوث ٹی ٹی پی کی مکمل سہولتکاری کرنے والے افغان طالبان نے ان واقعات پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ پاک فوج کی جامب سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی آئی ہے اسی لیے شرپسند عناصر بھی اب بڑے حملے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ ہر فوجی آپریشن کے بعد شدت پسند مزید طاقت کے ساتھ اُبھر کر سامنے آتے ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان نے بنوں کینٹ میں دہشت گردوں کے حملے کے بعد اسلام آباد میں طالبان حکومت کے نائب ناظم الامور کو دفترِ خارجہ طلب کر کے احتجاجی مراسلہ حوالے کیا ہے۔مراسلے میں طالبان حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کرے اور بنوں واقعے میں ملوث دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کرے۔اس حوالے سے تاحال افغان طالبان کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے تاہم ماضی میں طالبان حکومت شدت پسندی کو پاکستان کا اندرونی مسئلہ قرار دیتی رہی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں پے درپے دہشتگردی کے دو واقعات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب حال ہی میں حکومت نے دہشت گردوں کے خلاف ‘عزم استحکام’ کے نام سے آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن اس آپریشن کی مقامی سطح پر مخالفت کی گئی ہے جب کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں اس کے خلاف جلسے اور ریلیاں بھی ہوئی ہیں۔
سینئر صحافی اور شدت پسندی کے اُمور پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار داؤد خٹک کہتے ہیں کہ یہ حقیقت ہے کہ جب معاملات مذاکرات سے حل نہ ہو رہے ہوں تو فوجی آپریشن ہی واحد حل رہ جاتا ہے۔ لیکن طاقت کے استعمال سے بھی 100 فی صد نتائج نہیں ملتے۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی فوج نے دہشت گردوں کے خلاف متعدد فوجی آپریشن کیے ہیں۔ لیکن کامیابی کے دعوؤں کے باوجود دہشت گرد پھر سر اُٹھاتے رہے ہیں کیونکہ پاکستان میں دہشت گردی کو جڑ سے اُکھاڑ پھیکنے کے لیے مؤثر حکمتِ عملی کا فقدان رہا ہے۔داؤد خٹک کہتے ہیں کہ گزشتہ 20 برسوں کے دوران اگر دیکھا جائے تو باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی، کرم، جنوبی اور شمالی وزیرستان میں متعدد فوجی آپریشنز کیے گئے۔اُن کے بقول مقامی افراد ان آپریشنز سے بہت متاثر ہوئے کیونکہ اُنہیں اپنے گھر بار، مال مویشی اور بچوں کی تعلیم سمیت کئی چیزوں سے محروم ہونا پڑا اور یہی وجہ ہے کہ فوجی آپریشن کے خلاف آوازیں اُٹھ رہی ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ماضی پر نظر دوڑائی جائے تو شدت پسندوں بشمول نیک محمد، بیت اللہ محسود، حکیم اللہ محسود، ملا فضل اللہ اور خالد سجنا سمیت دیگر شدت پسندوں کو امریکی ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔ یہ لوگ فوجی کارروائی سے بچ نکلتے تھے۔
حافظ گل بہادر گروپ بارے سوال کا جواب دیتے ہوئے داؤد خٹک کہتے ہیں کہ آپریشن ضربِ عضب سے قبل حافظ گل بہادر گروپ بھی پاکستان کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے لیے خطرے کا باعث نہیں تھا۔ بلکہ ان کا شمار ‘گڈ طالبان’ میں ہوتا تھا۔اُن کے بقول حافظ گل بہادر کا اپنے علاقے میں بہت اثرو رسوخ تھا اور اسی وجہ سے اُن کے القاعدہ اور خطے کی دیگر شدت پسند تنظیموں کے ساتھ تعلقات تھے۔ لیکن آپریشن ضربِ عضب کے بعد جب اس گروپ کے لوگ بھی افغانستان گئے تو وہاں ان کی ٹی ٹی پی کے ساتھ قربتیں بڑھ گئیں اور دونوں کے اہداف بھی مشترک ہو گئے۔داؤد خٹک کہتے ہیں کہ حافظ گل بہادر گروپ ‘القاعدہ’ کی طرز پر آپریٹ کرتا ہے۔ یعنی کسی جگہ پہلے خود کش دھماکہ کیا جاتا ہے اور پھر کچھ حملہ آوروں کو اندر داخل کیا جاتا ہے جس کا مقصد مخالف فریق کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا ہوتا ہے۔
تاہم سابق سیکریٹری دفاع لیفٹننٹ جنرل (ر) آصف یاسین کہتے ہیں کہ ان کے دور میں جتنے بھی فوجی آپریشن ہوئے انہیں عوامی تائید حاصل تھی اور یہی وجہ ہے کہ اس کے خاطر خواہ نتائج بھی برآمد ہوئے۔ اُن کا کہنا تھا کہ فوج کا کام صرف لڑنا ہوتا ہے۔ لہذٰا کسی بھی علاقے میں فوجی آپریشن سے پہلے وہاں کے عوام کا اعتماد حاصل کرنا سول حکومت کی ذمے داری ہوتی ہے۔اُن کے بقول بظاہر اس بات کا فقدان نظر آتا ہے ۔جنرل آصف یاسین نے دعویٰ کیا کہ ماضی میں کامیاب آپریشن کی بڑی وجہ سہ جہتی پالیسی ہوتی تھی۔ یعنی ‘کلیئر’ ‘ہولڈ’ اینڈ ‘ٹرانسفر’ اس کے ذریعے لوگوں کا اعتماد حاصل کیا جاتا تھا۔تاہم ماضی میں ہونے والے فوجی آپریشنز کے بعد وہاں حکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے شدت پسندوں کو دوبارہ سر اُٹھانے کا موقع ملا کیونکہ وہاں کے لوگوں کو قومی دھارے میں شامل نہیں کیا گیا اور یوں اس خلا کو شدت پسندوں نے پُر کرنے کی کوشش کی۔
واضح رہے کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2013 کے بعد سب سے زیادہ خود کش حملے 2023 میں ریکارڈ کیے گئے۔رپورٹ کے مطابق 2022 کے مقابلے میں 2023 میں خود کش حملوں کی تعاد میں 93 فی صد اضافہ ہوا۔ ان حملوں کے نتیجے میں اموات کی شرح میں 226 فی صد اضافہ ہوا۔
