حکومت کیلئے تحریک انصاف پرپابندی عائدکرنا ممکن کیوں نہیں؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے تحریک انصاف پر پابندی لگانے کے اعلان کے باوجود عملی طور پر ایسا کرنا تقریبا ناممکن ہے کیونکہ اس حوالے سے حتمی فیصلہ سپریم کورٹ نے کرنا ہے جہاں عمران خان کی حمایتی ججوں کی اکثریت ہے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں مظہر عباس کہتے ہیں کہ پاکستانی سیاسی تاریخ میں یہ پہلی بار ہو گا کہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت پر پابندی لگے گی۔ مگر یہ اتنا آسان نہ ہو گا، اس فیصلے سے واضح ہو گیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) سیاسی اور انتخابی میدان میں پی ٹی آئی کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ ماضی میں 1954ء میں کمیونسٹ پارٹی پر پابندی لگائی گئی تھی پھر خود ذوالفقار علی بھٹو کی وزارت عظمیٰ میں بائیں بازو کی سب سے بڑی جماعت نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی کے منفی نتائج سامنے آئے۔ اب یہ بات حکمرانوں اور سیاست دانوں کو کون سمجھائے کہ پابندی مسئلے کا حل نہیں ہوتی۔

مظہر عباس کے مطابق دلچسپ امر یہ ہے کہ عمران خان ایک ایسی سیاسی جماعت کا بانی ہے جس کو 8 فروری کو تمام تر رکاوٹوں کے باوجود اس ملک کی اکثریت نے ووٹ دیا۔ لہٰذا اب آگے بڑھنے کا راستہ اس حقیقت کو تسلیم کرکے آگے بڑھنے میں ہی ہے ناکہ اپنے سیاسی مخالفین کو ایک کے بعد دوسرے مقدمے میں گرفتار کرنے میں۔ سپریم کورٹ کے 13۔ رکنی فل کورٹ کے فیصلے پر دو رائے ہو سکتی ہیں مگر ’خدارا آئین کی بات نہ کریں کیونکہ جس طرح ہم نے پچھلے سال 1973کے آئین کی گولڈن جوبلی منائی ہے ایک کے بعد ایک خلاف ورزی کر کے اس کی مثال نہیں ملتی، یہاں تک کہ 8 فروری 2024 کو الیکشن کی تاریخ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ یہ ماورائے آئین ہو گا کیونکہ آئین کے مطابق تو 30 اگست 2023 کو اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد انتخابات تو90 روز میں ہونا تھے مگر جواز یہ پیش کیا گیا کہ ’پیسے نہیں ہیں‘، اسکے بعد نگراں حکومت اپنی آئینی معیاد سے تجاویز کرتی گئی مگر سب نے چپ سادھ لی تھی۔

مظہر عباس کہتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ سیاسی وآئینی بحران اس تین رکنی بینچ کے فیصلے کے نتیجے میں سنگین ہوا جب تحریک انصاف سے ان کا انتخابی نشان ’بلا‘ لے لیا گیا اور پھر یکے بعد دیگر ایک کے بعد ایک مقدمہ میں بانی پی ٹی آئی کو سزا ہوئی اور پھر نا اہلی۔ یہ سب کچھ انتہائی جلد بازی میں کیا گیا مگر اس سب کے باوجود ووٹرز نے ’ووٹ کو عزت دو‘ کے فلسفے کو عملی جامہ پہنایا اب کوئی اس بات کو تسلیم کرے یا نہیں۔ تاہم موجود سپریم کورٹ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں ماضی کی جسٹس بندیال کی سپریم کورٹ سے زیادہ مشاورت سے چل رہی ہے۔ ازخود نوٹس کا اختیار اب فرد واحد کے پاس نہیں ایک کمیٹی کے پاس ہے۔ اسی طرح موجودہ کیس جس کا تعلق مخصوص نشستوں سے ہے اس کیلئے فل کورٹ کا تشکیل دینا ایک بہترین فیصلہ تھا۔ اس پورے مقدمہ کی کارروائی پر ہرکسی کی اپنی رائے ہے اور وہ اس لیے بھی ہے کہ اسکی براہ راست کوریج کو پوری قوم نے بھی دیکھا اور پھر فیصلہ پانچ اور آٹھ کی اکثریت سے تحریک انصاف کے حق میں آیا، اس فیصلے پر پہلی تنقید یہ سامنے آئی کہ پی ٹی آئی تو اس مقدمہ میں پارٹی ہی نہیں تھی اس کو کیسے فائدہ دیا گیا۔ دوسری تنقید جس کو آئین کی تشریح سے تعبیر کیا جا رہا ہے وہ دوبارہ حلف دینے یا تصدیق کرنے کے حوالے سے ہے۔ یقینی طور پر سرکاری سطح پر تفصیلی فیصلے کا جائزہ لیا جائے گا پھر نظرثانی کی اپیل پر غور ہو گا۔ اب اگر ان میں قانونی وزن ہوگا تو معاملہ پھر اسی بینچ کے سامنے جائے گا تاہم تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ایسا کم ہی ہوا ہے کہ نظر ثانی کی اپیل پر فیصلے پر نظر ثانی ہو۔6

مظہر عباس کہتے ہیں کہ رہ گئی بات اس فیصلے کے نتیجہ میں آئندہ کے سیاسی منظر نامہ کی تو بادی النظر میں پی ٹی آئی کی نشستوں میں اضافہ ہونے کے باوجود بظاہر حکومت تو نہیں گرنے جا رہی البتہ اب مسلم لیگ (ن) کے لیے آئینی ترامیم کرنا موجودہ صورتحال میں ناممکن سا ہوگیا ہے۔ عین ممکن ہے اسی وجہ سے پی ٹی آئی کا ’فاروڈ بلاک‘ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔مسلم لیگ(ن) اور پی پی پی دونوں پی ٹی آئی کے مقابلے میں زیادہ پرانی اور میچور سیاسی جماعتیں ہیں، دونوں ہی ایک دوسرے کے خلاف وہی غلطیاں کر چکی ہیں جو آج وہ پی ٹی آئی کے معاملے میں کر رہی ہیں۔ ٹھنڈے مزاج سے غور کریں کہ دونوں سے کیا بڑی سیاسی غلطیاں ہوئیں جس نے آج سے دوسال پہلے ایک ڈوبتی کشتی کو اپنے آپ ڈوبنے کے بجائے اسکی کشتی کو سہارا دے دیا اور اپنی ہی کشتی کو ڈبو دیا۔ اگر اس کا اندازہ لگانا ہے تو خود اس اتحاد کے سب سے تجربہ کار سیاستدان اور تین بار کے وزیر اعظم نواز شریف کی سیاسی تنہائی سے لگا لیں جو شہباز شریف کی پہلی 16 ماہ کی حکومت میں ملک میں نہیں آئے اور واپس آئے تو اندازہ ہوا کہ جس مضبوط جماعت کو وہ چھوڑ کر تین ساڑھے تین سال پہلے لندن چلے گئے تھے وہ نہ حکومت چلا سکی نہ جماعت کو بچا سکی۔ جو سٹیج میاں کیلئے تیار کیا گیا تھا اس پر وہ بیٹھے ہی نہیں اور یوں بھائی شہباز شریف کو دوسری باری مل گئی۔ البتہ مریم نواز کو وزارت اعلیٰ پنجاب مل تو گئی مگر ایک ایسے ماحول میں جہاں میاں صاحب نے خود یہ کہہ کر وزارت عظمیٰ نہیں لی کہ سادہ اکثریت کے بغیر حکومت چلانا ان کیلئے ممکن نہیں۔

مظہر عباس کے مطابق ’لاڈلہ‘ اور ’پروجیکٹ‘ کی باتیں ان کی زبان سے اچھی لگتی ہیں جو کبھی لاڈلے اور پروجیکٹ کا حصہ نہ رہے ہوں۔ یہی وہ ’عمرانو فوبیا ‘ ہے جس میں مبتلا رہ کر وہ فائدہ اسی کو پہنچا رہے ہیں۔ عمران کی مقبولیت کا راز مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کی کارکردگی ہے۔ عمران کے گرتے گراف کو سہارا تو عدم اعتماد کی تحریک کے بعد ملا۔ اب اس کو فائدہ بجلی، پیٹرول، گیس اور تنخواہ دار طبقہ پر مزید ٹیکس کا بوجھ ڈالنے کی صورت میں مل رہا ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی اس کا سیاسی مقابلہ کریں اس کو مسلسل جیل میں رکھ کر کچھ حاصل نہیں ہو گا۔
میاں نواز شریف اور آصف زرداری ملک میں تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ کریں۔ ان کے مقدمات تین ماہ میں نمٹانے کیلئے اعلیٰ عدلیہ سے درخواست کریں خاص طور پر خواتین سیاسی کارکنوں کی رہائی کے حوالے سے نرم رویے کی ضرورت ہے۔ بات شاید ’آئیڈل لگے‘ مگر 2008 میں جب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ججز کی رہائی اور طلبہ یونین پر سے پابندی کے خاتمے کا اعلان کیا تو جو لوگ اس روز پارلیمنٹ میں تھے انہیں یاد ہوگا کہ پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا تھا۔ ایسا ہی کچھ 1988 میں سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو شہید نے سیاسی قیدیوں کی رہائی کا اعلان کر کے کیا تھا۔

Back to top button