کیا تحریک انصاف پرپابندی کی شرلی اراکین اسمبلی کو روکنے کیلئے چھوڑی گئی؟

وفاقی حکومت کے تحریک انصاف پر پابندی عائد کرنے کے اعلان کے بعد یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا حکام اس حوالے سے سنجیدہ ہیں یا یہ اعلان صرف تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کو سپریم کورٹ کے حالیہ حکم نامے کی روشنی میں پی ٹی ائی میں شمولیت اختیار کرنے سے روکنے کا ایک ہتھکنڈا ہے۔ یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ کیا حکومتی اعلان ایک ’سوچا سمجھا‘ فیصلہ ہے یا ’جلد بازی‘ میں اٹھایا گیا قدم ہے؟

وزیر اعظم شہباز شریف نے چند ہفتے قبل ہی قومی اسمبلی کے ایک اجلاس کے دوران اپنے حریف عمران خان اور ان کی جماعت تحریک انصاف کو مذاکرات کی پیشکش کی تھی۔ مگر پھر اچانک ان کی حکومت نے عمران خان پر غداری کا مقدمہ بنانے اور ان کی جماعت پر پابندی لگانے کا فیصلہ کر لیا۔ لیکن بیشتر سیاسی رہنماؤں نے اس اعلان کو ’غیر جمہوری‘، ’غیر سیاسی‘ اور ’جلد بازی‘ اور ’بوکھلاہٹ‘ میں کیا گیا ایک ’بچگانہ‘ فیصلہ قرار دیا ہے۔
خیال رہے کہ 12 جولائی کو سپریم کورٹ کے فل بینچ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس میں پشاور ہائی کورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم اور غیر آئینی قرار دیتے ہوئے تحریک انصاف کو مخصوص نشستوں کا حقدار قرار دیا تھا۔ اس فیصلے پر عملدرآمد کے بعد حکمراں اتحاد دو تہائی اکثریت کھو سکتا ہے۔ یہی وہ اہم فیصلہ تھا جس پر سخت ردعمل دیتے ہوئے وفاقی اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران تحریک انصاف پر سیاست کا دروازہ بند کرنے کی بات کہی۔ انھوں نے سائفر، فارن فنڈنگ اور دیگر مثالوں کی روشنی میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ عمران خان اور ان کی جماعت ملکی سالمیت کے لیے خطرہ ہیں۔

مگر سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اب یہ واضح ہوچکا ہے کہ حکومت کے لیے ایسا کوئی فیصلہ اتنا آسان نہیں ہوگا کیونکہ سپریم کورٹ میں عمران خان کے حمایتی ججوں کی اکثریت ہے اور اسی لیے پانچ کے مقابلے میں آٹھ ججوں نے مخصوص نشستوں کا فیصلہ پی ٹی ائی کے حق میں دیا ہے۔ اسی بحث کے دوران وزیر خارجہ اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کو تسلیم کرنا پڑا اس فیصلے پر ابھی ’حتمی فیصلہ‘ ہونا باقی ہے۔ل

اب سوال یہ ہے کہ پہلے سے ہی مشکلات کا شکار مسلم لیگ نون اپنی حریف تحریک انصاف پر پابندی عائد کرنے کا متنازع فیصلہ کیوں کرے گی؟ کچھ سیاستدان اسے ’ٹائم بائینگ حربہ‘ کہہ رہے ہیں، اور کچھ ’مایوسی اور بوکھلاہٹ۔‘ جبکہ کئی ایسے ہیں جن کا خیال ہے کہ اس سوچے سمجھے فیصلے کا مقصد عدلیہ پر دباؤ ڈالنا ہے۔ انھی سوالوں کا جواب جاننے کے لیے جب بی بی سی نے مسلم لیگ ن کے رہنماؤں سے بات چیت کی تو ایسا معلوم ہوا کہ اب یہ معاملہ عدلیہ اور ان کی جماعت کے درمیان لڑائی میں بدل رہا ہے۔ مسلم لیگ ن کے طلال چوہدری کہتے ہیں کہ ’جب عدلیہ اپنا کام نہیں کرے گی تو ہمیں مشکل فیصلے کرنا پڑیں گے۔‘ لیکن نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے سینیئر سیاسی رہنما افراسیاب خٹک کے خیال میں یہ حکومت کی ایک ’چال‘ ہے۔ ان کے خیال میں حکومت عدالتی فیصلے کی روشنی میں پی ٹی ائی کے اراکین قومی اسمبلی کو اپنی جماعت میں شمولیت کے حوالے سے کنفیوز کرنا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جس سیاسی جماعت پر پابندی لگ جائے اس کی اراکین اسمبلی بھی ناہل ہو جاتے ہیں اس لیے اس اعلان کا ایک بڑا مقصد پی ٹی ائی کے اراکین اسمبلی کو ڈرانا ہے۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن نے ’سپریم کورٹ کے فیصلے کے جواب میں چار ایڈہاک ججز کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کرنے کا فیصلہ کیا ہے تا کہ عدالت میں موجودہ اقلیت کو اکثریت میں بدلا جا سکے۔ اس فیصلے کا دوسرا مقصد پارلیمنٹ میں حکومتی اتحاد کی دو تہائی اکثریت کو بحال کرنا ہے تاکہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے عہدے کی معیاد میں توسیع کی جائے سکے۔ تا ہم دیکھنا یہ ہے کہ حکومت سپریم کورٹ میں چار ایڈہاک ججز کو تعینات کرنے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔

Back to top button