کیا واقعی امریکہ اور اسرائیل، ایران پر کوئی بڑا حملہ کرنے والے ہیں؟

ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اب ایک ایسے خطرناک مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے جہاں معمولی فوجی پیش قدمی بھی پورے مشرق وسطیٰ کو ایک وسیع جنگ کی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ اسرائیلی اور امریکی ذرائع سے منسوب اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے کی فوجی کارروائی کے لیے امریکہ اور اسرائیل نے اپنی عسکری تیاریاں تیز کردی ہیں، جبکہ اضافی امریکی فوجی دستوں، جنگی طیاروں اور بحری اثاثوں کی خطے میں تعیناتی نے ان خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کے درمیان یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا یہ حقیقی جنگی حملے کی تیاری ہے یا ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے طاقت کا مظاہرہ۔
رپورٹس کے مطابق امریکی انتظامیہ ایران کے خلاف ممکنہ بڑے فوجی آپریشن کے مختلف پہلوؤں پر غور کررہی ہے اور مبینہ طور پر مڈٹرم انتخابات کے بعد کسی بڑے اقدام کا امکان زیر بحث ہے۔ اسرائیلی ذرائع سے منسوب دعووں میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے اندر مخصوص اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے مشترکہ منصوبہ بندی کی ہے اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے ساتھ مل کر ممکنہ کارروائی کے مختلف پہلوؤں پر کام کیا گیا ہے۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق امریکہ مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی مزید بڑھا رہا ہے۔ اسرائیل میں پہلے سے موجود تقریباً 3000 امریکی فوجیوں کے علاوہ مزید فوجی دستوں، ہتھیاروں اور جنگی طیاروں کی تعیناتی کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ ان امریکی اہلکاروں کی ذمہ داریوں میں فضائی دفاع، رسد، ہوا بازی اور عسکری مراکز سے متعلق مختلف امور شامل بتائے جاتے ہیں۔
امریکی بحری طاقت کی ممکنہ تعیناتی نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک اضافی طیارہ بردار بحری بیڑے اور اس کے ساتھ جنگی بحری جہازوں کو مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ کیا جارہا ہے۔ اگر خطے میں امریکی بحری موجودگی واقعی اس سطح تک پہنچ جاتی ہے جس کا دعویٰ کیا جارہا ہے تو ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ کارروائی کی صورت میں امریکہ کو فضائی اور بحری دونوں محاذوں پر نمایاں عسکری برتری حاصل ہوسکتی ہے۔
رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ خطے میں مزید 10000 تک امریکی فوجی، بحری اہلکار اور میرینز بھیجے جاسکتے ہیں، جس کے بعد مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کی مجموعی تعداد 50000 سے تجاوز کرسکتی ہے۔ تاہم ان اعداد و شمار اور تعیناتی کے حتمی حجم کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے، کیونکہ فوجی نقل و حرکت سے متعلق ابتدائی اطلاعات میں اکثر اندازوں اور ممکنہ منصوبہ بندی کو حتمی فیصلے کے طور پر پیش کردیا جاتا ہے۔
اس تمام صورتحال میں آبنائے ہرمز مرکزی اہمیت اختیار کرچکی ہے۔ دنیا کی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم اس آبی گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی طویل بندش یا عسکری تصادم عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں، بحری تجارت اور عالمی معیشت پر فوری اثر ڈال سکتا ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دباؤ کے لیے استعمال کرنے کی دھمکی یا عملی اقدام امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے ایک انتہائی حساس مسئلہ ہے، کیونکہ اس سے صرف خطے کی سلامتی ہی نہیں بلکہ عالمی توانائی کا نظام بھی متاثر ہوسکتا ہے۔
ایرانی قیادت کی جانب سے بھی یہ واضح کیا گیا ہے کہ اگر ملک پر حملہ کیا گیا تو ردعمل صرف محدود دفاعی کارروائی تک نہیں رہے گا۔ ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے منسوب بیانات میں آبنائے ہرمز اور دیگر ایرانی مطالبات کے حوالے سے سخت مؤقف سامنے آیا ہے۔ ایران کی جانب سے کسی بھی سمجھوتے کو اپنی شرائط سے جوڑنا اس بات کی علامت ہے کہ تہران اس وقت شدید دباؤ کے باوجود اپنے بنیادی مؤقف سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی شرائط مسترد کیے جانے کی اطلاعات نے سفارتی راستے کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ اگر مذاکرات کا دروازہ بند ہوتا ہے اور ساتھ ہی دونوں جانب فوجی تیاریوں میں اضافہ جاری رہتا ہے تو کسی بھی معمولی واقعے کے بڑے عسکری تصادم میں تبدیل ہونے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔
اس تنازع کا ایک اور خطرناک پہلو یہ ہے کہ اس کے اثرات ایران اور امریکہ و اسرائیل تک محدود نہیں رہیں گے۔ یمن اور خلیجی خطے میں پہلے ہی کشیدگی موجود ہے اور مختلف مسلح گروہوں کی کارروائیاں اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ اگر ایران کے خلاف بڑا حملہ ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں خطے میں ایران سے وابستہ مسلح گروہوں کی جانب سے امریکی، اسرائیلی یا خلیجی اہداف کے خلاف جوابی کارروائیوں کا امکان بڑھ سکتا ہے۔
یمن میں سعودی عرب اور حوثی ملیشیا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی بھی اسی وسیع علاقائی بحران کا حصہ بن چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سعودی جنگی طیاروں نے صنعا میں کارروائی کی، جس کے بعد حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب میں میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اگر یہ سلسلہ شدت اختیار کرتا ہے تو سعودی عرب، یمن، ایران، اسرائیل اور امریکہ سمیت متعدد فریق براہ راست یا بالواسطہ ایک ہی تنازع کے مختلف محاذوں پر آمنے سامنے آسکتے ہیں۔
یہ صورتحال عالمی معیشت کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔ ایران پر بڑا حملہ صرف ایک ملک کے خلاف فوجی کارروائی نہیں ہوگا بلکہ اس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز، خلیجی تیل تنصیبات، بحری راستوں اور توانائی کی عالمی رسد کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ، عالمی بحری انشورنس کے اخراجات میں اضافے اور سپلائی چین میں خلل کا اثر مشرق وسطیٰ سے کہیں زیادہ دور تک محسوس کیا جاسکتا ہے۔
تاہم اس وقت سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ اور اسرائیل واقعی بڑے پیمانے کی جنگ شروع کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں یا خطے میں فوجی طاقت کا یہ مظاہرہ ایران کو مذاکرات پر مجبور کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ فوجی اثاثوں کی تعیناتی یقیناً کسی ممکنہ کارروائی کی صلاحیت بڑھاتی ہے، لیکن فوجی موجودگی کو لازماً حملے کا حتمی فیصلہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
اگر امریکہ مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران کے خلاف براہ راست بڑے فوجی آپریشن کا فیصلہ کرتا ہے تو یہ موجودہ بحران کو ایک نئے مرحلے میں داخل کردے گا۔ ایران کے پاس خطے میں مختلف نوعیت کے جوابی اقدامات کے کئی راستے موجود ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز، خلیجی تنصیبات، اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی اڈے کسی بھی بڑے تصادم میں ممکنہ محاذ بن سکتے ہیں۔
اس لیے آنے والے ہفتے مشرق وسطیٰ کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ ایک طرف واشنگٹن اور تل ابیب کی جانب سے فوجی تیاریوں کی اطلاعات ہیں، دوسری طرف تہران سخت جوابی کارروائی کے عزائم ظاہر کررہا ہے اور سفارتی سطح پر فریقین کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ اگر طاقت کے بجائے سفارت کاری کو آخری موقع بھی نہ دیا گیا تو ایک محدود تنازع بہت تیزی سے ایسی علاقائی جنگ میں تبدیل ہوسکتا ہے جس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے۔
اصل خطرہ یہی ہے کہ اس وقت خطے میں کئی محاذ پہلے ہی فعال ہیں اور متعدد فریق اپنی اپنی سرخ لکیریں واضح کرچکے ہیں۔ ایسے ماحول میں کسی ایک میزائل، ڈرون، بحری جھڑپ یا غلط عسکری اندازے سے ایسا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے جسے بعد میں کوئی فریق آسانی سے روک نہ سکے۔ ایران پر ممکنہ بڑے حملے کی اطلاعات اسی لیے صرف ایک ملک کی جنگی تیاریوں کی خبر نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک بڑے علاقائی تصادم کے ممکنہ آغاز کا انتباہ سمجھی جارہی ہیں۔
