احتجاجی مارچ،پی ٹی آئی قیادت غائب، آفریدی کنٹینرپر تنہا رہ گئے

پی ٹی آئی کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع تو ہوگیا، لیکن پہلے ہی مرحلے میں پارٹی قیادت کی غیر معمولی غیر حاضری نے مارچ کی سیاسی طاقت، تنظیمی یکجہتی اور خود وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی پوزیشن پر بڑے سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ لکی مروت سے شروع ہونے والے قافلے میں سہیل آفریدی کے ساتھ مرکزی قیادت کے بڑے نام دکھائی نہ دینا، صوبائی قیادت کی محدود شرکت اور سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا ڈیرہ اسماعیل خان سے آگے نہ بڑھنا اس تاثر کو تقویت دے رہا ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر لانگ مارچ کی حکمت عملی پر مکمل اتفاق رائے موجود نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ محض مارچ کے ابتدائی مرحلے کی حکمت عملی ہے یا سہیل آفریدی واقعی اپنی ہی جماعت کے اندر سیاسی طور پر تنہا ہوتے جارہے ہیں؟
سہیل آفریدی سرکاری ہیلی کاپٹر کے ذریعے لکی مروت پہنچے اور گنڈی چوک سے لانگ مارچ کا آغاز کیا۔ ان کے ہمراہ بعض قریبی ساتھی اور مقامی رہنما موجود تھے، تاہم پارٹی کی مرکزی قیادت کی نمایاں شخصیات اس موقع پر نظر نہیں آئیں۔ خیبرپختونخوا کی صوبائی قیادت کی موجودگی بھی محدود رہی۔ بعد ازاں سہیل آفریدی قافلے کے ساتھ کرک اور کوہاٹ تک پہنچ گئے، لیکن مرکزی قیادت کی عدم شرکت نے اس سیاسی مہم کے آغاز ہی میں ایک ایسا سوال ضرور پیدا کردیا کہ جس مارچ کو پوری جماعت کی تحریک کے طور پر پیش کیا جارہا ہے، اس کی قیادت عملی طور پر صرف چند افراد تک کیوں محدود دکھائی دے رہی ہے۔
پی ٹی آئی کے اندرونی حلقوں سے منسوب اطلاعات کے مطابق مرکزی قیادت کا ایک بڑا حصہ وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے سیاسی راستہ نکالنے کے حق میں ہے، جبکہ سہیل آفریدی اور ان کے قریبی ساتھیوں کا مؤقف ہے کہ کسی بھی مذاکراتی پیش رفت سے پہلے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے مشاورت اور منظوری ضروری ہے۔ یہی بنیادی اختلاف لانگ مارچ کی حکمت عملی پر جماعت کے اندر موجود تقسیم کی ایک بڑی وجہ قرار دیا جارہا ہے۔
مرکزی قیادت کی جانب سے فی الحال سہیل آفریدی کے لانگ مارچ کی کھلی مخالفت نہیں کی جارہی، بلکہ بیانات کی حد تک مارچ کی حمایت بھی نظر آتی ہے، لیکن عملی طور پر بڑے رہنماؤں کی عدم شرکت نے اس حمایت کی نوعیت پر سوال اٹھا دیے ہیں۔ اگر قیادت کسی تحریک کی سیاسی سمت سے متفق ہو تو عام طور پر اس کے اہم رہنما ابتدائی مرحلے ہی سے کارکنوں کے درمیان موجود ہوتے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب حکومت کے ساتھ کشیدگی اپنے عروج پر ہو۔ یہاں صورتحال اس کے برعکس دکھائی دے رہی ہے۔
پارٹی کے ایک صوبائی رہنما کے حوالے سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ مرکزی قیادت کی جانب سے مارچ کو مکمل تعاون حاصل نہیں اور مالی معاونت بھی نہیں کی گئی۔ اسی حلقے کے مطابق اس وقت سہیل آفریدی اور جنید اکبر ایک صفحے پر دکھائی دے رہے ہیں جبکہ پارٹی کی بڑی تعداد اس حکمت عملی سے اختلاف رکھتی ہے۔ اگر یہ تاثر درست ہے تو یہ اختلاف صرف ایک لانگ مارچ کا نہیں بلکہ پی ٹی آئی کی مستقبل کی صوبائی سیاست اور قیادت کے اختیار کا مسئلہ بھی بن سکتا ہے۔
دوسری جانب سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور سہیل آفریدی کے درمیان سیاسی فاصلے بھی کم نہیں ہوسکے۔ علی امین گنڈاپور نے مارچ میں شرکت کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان سے روانگی کی کوشش کی، تاہم لکی مروت پہنچنے کے بجائے واپس گھر چلے گئے۔ ان کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں دفعہ 144 کے نفاذ نے مارچ میں شرکت کے لیے رکاوٹ پیدا کی۔ تاہم اس وضاحت کے باوجود ان کی عملی عدم شرکت نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے حوالے سے مزید سوالات پیدا کردیئے ہیں۔
یہ صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کہ علی امین گنڈاپور خود خیبرپختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ اور پی ٹی آئی کے اہم رہنما ہیں۔ اگر وہ مارچ کے آغاز ہی میں سہیل آفریدی کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے تو اس کے سیاسی اثرات ضرور مرتب ہوتے ہیں۔ خصوصاً اس وقت جب پارٹی کے اندر پہلے ہی یہ بحث موجود ہے کہ سہیل آفریدی کی قیادت کو مرکزی سطح پر کس حد تک قبولیت حاصل ہے۔
اس دوران پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر کا سخت بیان بھی سامنے آیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو قیادت بانی پی ٹی آئی کے بیانیے کے ساتھ نہیں چل سکتی، اسے ایک طرف ہوجانا چاہیے اور دوسروں کو آگے بڑھنے کا موقع دینا چاہیے۔ انہوں نے کارکنوں سے ایسے رہنماؤں کی نشاندہی کرنے کا بھی کہا جو ان کے بقول صرف خانہ پوری کررہے ہیں۔ یہ بیان اس بات کی واضح علامت ہے کہ پارٹی کے اندر اختلافات اب محض بند کمروں کی گفتگو تک محدود نہیں رہے بلکہ کارکنوں کے سامنے بھی زیر بحث آنے لگے ہیں۔
جنید اکبر کا یہ مؤقف کہ کچھ لوگ جیلوں اور مقدمات کا سامنا کررہے ہیں جبکہ بعض رہنما مشکل وقت میں بانی پی ٹی آئی کے نظریے کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیار نہیں، پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی بے چینی کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر ایسے بیانات مزید شدت اختیار کرتے ہیں تو پی ٹی آئی میں آنے والے دنوں میں تنظیمی صف بندی اور قیادت کے حوالے سے ایک نئی کشمکش جنم لے سکتی ہے۔
سہیل آفریدی دوسری جانب مسلسل یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ لانگ مارچ پوری قوت کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے 8 اکتوبر کو بڑے اجتماع کا اعلان کیا اور مارچ کو ایک ایسے مقابلے سے تشبیہ دی جس میں ابتدا ٹیسٹ میچ جیسی ہے لیکن 8 اکتوبر کو یہ ٹی 20 میچ بن جائے گا۔ یہ بیان دراصل اس حکمت عملی کی طرف اشارہ ہے کہ مارچ کے ابتدائی مرحلے میں محدود شرکت کے باوجود آنے والے دنوں میں کارکنوں اور پارٹی قیادت کی بڑی تعداد قافلے میں شامل ہوسکتی ہے۔
پی ٹی آئی کے بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ مارچ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور پشاور، مردان، صوابی اور دیگر علاقوں میں پہنچنے کے بعد مرکزی و صوبائی قیادت کی بڑی تعداد قافلے کا حصہ بن سکتی ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق 8 اکتوبر کو صوابی یا اس کے آس پاس بڑے اجتماع کا منصوبہ ہے، جبکہ مردان پہنچنے پر مقامی قیادت بھی مارچ میں شامل ہوسکتی ہے۔ جنید اکبر کے مالاکنڈ سے قافلے کی قیادت کرنے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔
اس صورت میں ابتدائی مرحلے میں قیادت کی عدم شرکت کو مکمل طور پر مارچ کی ناکامی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ سیاسی جماعتیں بعض اوقات احتجاجی تحریک کے مختلف مراحل میں مختلف رہنماؤں کو متحرک کرتی ہیں، لیکن اگر 8 اکتوبر تک بھی مرکزی قیادت کی بڑی تعداد عملی طور پر سامنے نہ آئی تو سہیل آفریدی کے لیے یہ تاثر ختم کرنا مشکل ہوگا کہ وہ پارٹی کی مکمل حمایت کے ساتھ مارچ کررہے ہیں۔
یہ بحران اچانک پیدا نہیں ہوا۔ 5 اگست کو پشاور کے جلسے میں سہیل آفریدی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کی تاریخ دی تھی اور اس کے لیے سیاسی مہم شروع کی گئی، لیکن مقررہ تاریخ سے تقریباً 36 گھنٹے پہلے مارچ کو 4 اکتوبر تک مؤخر کردیا گیا۔ اس فیصلے نے پہلے ہی پارٹی کی حکمت عملی اور تیاریوں پر سوالات پیدا کیے تھے۔ اب 4 اکتوبر کو مارچ کے دوبارہ آغاز کے باوجود مرکزی قیادت کی عدم موجودگی ان سوالات کو مزید گہرا کررہی ہے۔
دوسری طرف وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات بھی اس بحران کی ایک بڑی کڑی ہیں۔ مذاکرات کے کئی ادوار ہوئے اور دونوں جانب سے ایک مرحلے پر اتفاق رائے کے قریب پہنچنے کے دعوے بھی سامنے آئے، لیکن آخری مرحلے میں معاملات طے نہ ہوسکے۔ حکومتی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم کو ہدایات دے رہے تھے اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں تعاون سمیت مختلف معاملات پر اختلافات پیدا ہوئے۔ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد لانگ مارچ دوبارہ شروع کردیا گیا۔
یوں پی ٹی آئی کا موجودہ لانگ مارچ بیک وقت 2 محاذوں پر لڑ رہا ہے۔ ایک محاذ وفاقی حکومت کے ساتھ سیاسی اور انتظامی کشمکش کا ہے، جبکہ دوسرا محاذ پارٹی کے اندر اپنی حکمت عملی، قیادت اور فیصلوں پر اعتماد بحال رکھنے کا ہے۔ بیرونی دباؤ کے مقابلے میں اندرونی اتحاد کسی بھی سیاسی تحریک کی اصل طاقت ہوتا ہے، اور اگر جماعت کے اہم رہنما مختلف سمتوں میں کھڑے نظر آئیں تو کارکنوں کو متحرک رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔
سہیل آفریدی کے لیے سب سے بڑا امتحان یہی ہے کہ وہ مارچ کو محض خیبرپختونخوا حکومت کے ایک اقدام کے بجائے پوری پی ٹی آئی کی مشترکہ سیاسی تحریک ثابت کریں۔ اگر پشاور، مردان اور صوابی میں پارٹی کی مرکزی و صوبائی قیادت بڑی تعداد میں قافلے میں شامل ہوجاتی ہے تو ابتدائی خدشات بڑی حد تک ختم ہوسکتے ہیں۔ لیکن اگر قیادت کا بڑا حصہ بدستور اسلام آباد یا دیگر مقامات پر مذاکرات اور سیاسی رابطوں تک محدود رہا تو یہ تاثر مضبوط ہوگا کہ پی ٹی آئی کے اندر لانگ مارچ کے طریقۂ کار پر اتفاق نہیں۔
اس پورے معاملے میں 8 اکتوبر فیصلہ کن دن بن سکتا ہے۔ اگر اس روز واقعی بڑا اجتماع ہوتا ہے، مرکزی قیادت بھرپور انداز میں سامنے آتی ہے اور کارکنوں کی بڑی تعداد مارچ کا حصہ بنتی ہے تو سہیل آفریدی اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ لیکن اگر مطلوبہ تعداد جمع نہ ہوسکی اور اہم رہنما پھر بھی مارچ سے دور رہے تو یہ صرف لانگ مارچ کی کمزوری نہیں بلکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جماعت کے اندر سیاسی تنہائی کا واضح اشارہ سمجھا جاسکتا ہے۔
فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ سہیل آفریدی واقعی تنہا رہ گئے ہیں، کیونکہ مارچ ابھی اپنے ابتدائی مرحلے میں ہے اور پی ٹی آئی کی قیادت نے باضابطہ طور پر ان سے لاتعلقی کا اعلان نہیں کیا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ لانگ مارچ جیسے بڑے سیاسی اقدام کے پہلے دن مرکزی اور صوبائی قیادت کی نمایاں غیر موجودگی نے ایک ایسا سوال ضرور کھڑا کردیا ہے جس کا جواب خود پی ٹی آئی کو دینا ہوگا: کیا یہ واقعی پوری جماعت کا لانگ مارچ ہے، یا ایک ایسا سیاسی معرکہ جس کی قیادت اس وقت سہیل آفریدی اور چند قریبی ساتھیوں تک محدود ہوچکی ہے؟
