PTIاحتجاج، گنڈاپور ہمیشہ میدان سے بھاگ کیوں جاتے ہیں؟

پاکستان تحریک انصاف کے حکومت مخالف احتجاجی مارچ میں ایک بار پھر سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی واپسی نے پارٹی کے اندر اور باہر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایک طرف وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں مرکزی قافلہ لکی مروت سے آگے بڑھ رہا تھا تو دوسری جانب علی امین گنڈاپور کا قافلہ ڈیرہ اسماعیل خان سے روانہ ہونے کے بعد یارک ٹول پلازہ سے واپس لوٹ گیا۔ گنڈاپور کا مؤقف ہے کہ پولیس نے دفعہ 144 کے تحت راستہ روک دیا، کئی گھنٹے انتظار کے باوجود پارٹی قیادت کی جانب سے آئندہ حکمت عملی واضح نہیں کی گئی اور علاقے کی سکیورٹی صورتحال بھی تشویش ناک تھی، اس لیے واپسی کا فیصلہ کیا گیا۔ تاہم اس وضاحت کے باوجود یہ سوال ایک بار پھر پوری شدت سے سامنے آیا ہے کہ احتجاجی سیاست کے اہم مواقع پر علی امین گنڈاپور کی پیش قدمی رک کیوں جاتی ہے اور وہ اکثر مرکزی احتجاجی مقام تک پہنچنے سے پہلے واپس کیوں آ جاتے ہیں؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر نے حالیہ احتجاج میں شریک نہ ہونے والے رہنماؤں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کارکنوں کو مشورہ دیا کہ وہ ایسے رہنماؤں کی نشاندہی کریں جو صرف رسمی طور پر پارٹی سرگرمیوں کا حصہ بنتے ہیں اور مستقبل میں انہیں پارٹی ٹکٹ دینے کی مخالفت کریں۔ اگرچہ جنید اکبر نے کسی رہنما کا نام نہیں لیا، لیکن ان کے بیان کے فوراً بعد علی امین گنڈاپور کے قافلے کی یارک ٹول پلازہ سے واپسی نے سیاسی حلقوں میں یہ تاثر مضبوط کیا کہ پارٹی کے اندر احتجاجی حکمت عملی اور قیادت کے کردار پر اختلافات موجود ہیں۔
علی امین گنڈاپور کے احتجاجی کردار پر سوالات نئے نہیں ہیں۔ ستمبر، اکتوبر اور نومبر 2024 کے احتجاجی واقعات میں بھی ان کی موجودگی، پیش قدمی، واپسی اور بعض مواقع پر طویل غیر موجودگی سیاسی بحث کا موضوع بنتی رہی۔ 8 ستمبر 2024 کو سنگجانی کے جلسے میں انہوں نے عمران خان کی رہائی کے لیے حکومت کو 2 ہفتوں کا الٹی میٹم دیا، لیکن اس کے بعد واپس چلے گئے۔ اکتوبر 2024 کے احتجاج میں پی ٹی آئی کارکنوں کے ساتھ اسلام آباد پہنچنے اور ڈی چوک کی جانب پیش قدمی کے بعد ان کی کے پی ہاؤس میں موجودگی اور پھر کئی گھنٹوں تک منظر عام سے غائب رہنے کا معاملہ بھی زیر بحث رہا۔ بعد ازاں خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں ان کی اچانک آمد اور 12 اضلاع عبور کرکے پشاور پہنچنے کے دعوے نے سیاسی طنز اور تنقید کو مزید ہوا دی۔
نومبر 2024 کے احتجاج میں بھی صورت حال مختلف نہ تھی۔ مظاہرین ڈی چوک تک پہنچے، حکومت نے کارروائی شروع کی اور احتجاج ختم ہوگیا۔ علی امین گنڈاپور اگلے روز مانسہرہ میں منظر عام پر آئے اور احتجاج کے اختتام اور اپنی واپسی کی وجوہات بیان کیں۔ اس پورے سلسلے کو دیکھا جائے تو علی امین گنڈاپور کے بارے میں ایک مخصوص سیاسی تاثر ضرور پیدا ہوا ہے کہ وہ احتجاجی تحریک کے ابتدائی مرحلے میں متحرک دکھائی دیتے ہیں، لیکن جب صورتحال انتہائی حساس یا تصادم کی طرف بڑھتی ہے تو ان کا کردار متنازع یا غیر واضح ہوجاتا ہے۔
تاہم تصویر کا دوسرا رخ بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ علی امین گنڈاپور کے حامیوں اور پارٹی کے بعض رہنماؤں کے مطابق احتجاجی سرگرمیوں کے لیے سب سے زیادہ انتظامی اور مالی وسائل فراہم کرنے والوں میں وہ نمایاں رہے ہیں۔ ان کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان سے بڑے قافلے نکالنے، کارکنوں کے لیے ٹرانسپورٹ اور دیگر انتظامات کرنے اور احتجاجی سرگرمیوں کے اخراجات برداشت کرنے میں گنڈاپور نے اہم کردار ادا کیا۔ پارٹی سے وابستہ بعض ارکان اسمبلی کا دعویٰ ہے کہ ان کے دور میں احتجاج کے لیے الگ سے چندہ مہم چلانے کی ضرورت نہیں پڑی کیونکہ کارکنوں اور قافلوں کے انتظامات کے لیے وسائل فراہم کیے جاتے رہے۔
یہی وجہ ہے کہ علی امین گنڈاپور کے کردار کو صرف اس بنیاد پر جانچنا بھی درست نہیں ہوگا کہ وہ احتجاج کے کسی خاص مرحلے پر واپس کیوں گئے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان کی واپسی ہر مرتبہ ذاتی سیاسی فیصلہ ہوتی ہے، سکیورٹی حالات کا نتیجہ، حکمت عملی کا حصہ یا پارٹی قیادت کے اندر موجود اختلافات کی عکاسی؟ اگر یارک ٹول پلازہ پر پولیس کی جانب سے راستہ روکنا ہی بنیادی وجہ تھی تو یہ بھی پوچھا جائے گا کہ ایسی صورتحال میں پارٹی کی مرکزی قیادت نے متبادل حکمت عملی کیوں اختیار نہیں کی اور کیا قیادت کے درمیان اس حوالے سے بروقت رابطہ موجود تھا؟
دوسری جانب جنید اکبر اور علی امین گنڈاپور کے درمیان ماضی کے اختلافات بھی اس معاملے کو مزید حساس بنا دیتے ہیں۔ پارٹی کے اندر موجود بعض رہنماؤں کے مطابق دونوں شخصیات کے درمیان سیاسی اختلافات پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں اور حالیہ تنقید کو اسی پرانے اختلاف کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر موجودہ تنازع محض ایک احتجاجی قافلے کی واپسی کا معاملہ نہیں بلکہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی آئندہ قیادت، تنظیمی اختیار اور احتجاجی سیاست کی سمت سے جڑا ہوا معاملہ بن سکتا ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ احتجاجی سیاست میں قیادت کا اصل امتحان صرف بڑے جلوس نکالنے یا کارکنوں کو متحرک کرنے تک محدود نہیں ہوتا۔ جب ریاستی دباؤ، گرفتاریوں، دفعہ 144، سکیورٹی خدشات اور ممکنہ تصادم کا مرحلہ آتا ہے تو قیادت کو فیصلہ سازی، رابطہ کاری اور کارکنوں کے تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنا پڑتا ہے۔ اسی مقام پر سیاسی قیادت کے فیصلے اس کے مستقبل کے تاثر کو تشکیل دیتے ہیں۔
علی امین گنڈاپور کے معاملے میں اب یہی تاثر ایک مستقل سیاسی سوال بن چکا ہے۔ اگر ان کی واپسی ہر مرتبہ کسی واضح انتظامی یا سکیورٹی وجہ سے ہوئی ہے تو پارٹی قیادت کو کھل کر اس کی وضاحت کرنا ہوگی، کیونکہ خاموشی سے پیدا ہونے والا تاثر بالآخر سیاسی حقیقت بن جاتا ہے۔ لیکن اگر پارٹی کے اندر واقعی یہ اختلاف موجود ہے کہ کون احتجاج کی قیادت کرے، کون مذاکرات کرے اور کون حکومت کے خلاف سڑکوں پر موجود رہے، تو پھر علی امین گنڈاپور کی واپسی اس بڑی اندرونی کشمکش کی صرف ایک علامت ہے۔
موجودہ احتجاج میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت اور علی امین گنڈاپور کی علیحدہ پیش قدمی نے پی ٹی آئی کے اندر قیادت کے دو مختلف انداز بھی نمایاں کیے ہیں۔ ایک طرف سہیل آفریدی مرکزی قافلے کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں جبکہ دوسری طرف گنڈاپور اپنے علاقے سے قافلہ لے کر نکلے مگر مرکزی مارچ میں شامل ہونے سے پہلے واپس آگئے۔ آنے والے دنوں میں اگر پی ٹی آئی کی مرکزی اور صوبائی قیادت احتجاج میں عملی طور پر شامل ہوتی ہے تو موجودہ اختلافات کا تاثر کم ہوسکتا ہے، لیکن اگر اہم رہنما مسلسل الگ تھلگ رہتے ہیں تو یہ سوال مزید شدت اختیار کرے گا کہ پارٹی کے اندر فیصلہ کن سیاسی قیادت کس کے پاس ہے۔
بالآخر علی امین گنڈاپور کے بارے میں اصل فیصلہ کسی ایک احتجاجی دن کی بنیاد پر نہیں بلکہ ان کے پورے سیاسی اور احتجاجی کردار کو دیکھ کر ہوگا۔ ان کے حامی انہیں پارٹی کے لیے مالی اور انتظامی وسائل فراہم کرنے والا مؤثر رہنما قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین احتجاج کے حساس مرحلوں پر ان کی واپسی کو سیاسی کمزوری یا غیر واضح حکمت عملی سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہی تضاد اس وقت پی ٹی آئی کے لیے بھی ایک بڑا سوال ہے کہ احتجاجی تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے پارٹی کو صرف بڑے قافلوں کی ضرورت ہے یا ایسی متفقہ قیادت کی بھی، جو مشکل ترین مرحلے میں کارکنوں کے ساتھ آخر تک کھڑی نظر آئے۔
