انقلاب کے دعویدار یوتھیے میدان چھوڑ کر کیوں بھاگنے لگے؟

پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا آغاز ہوتے ہی پارٹی قیادت کے دعووں اور زمینی حقائق کے درمیان واضح فرق سامنے آنے لگا ہے۔ لکی مروت میں کھلے آسمان تلے رات گزارنے والے کارکنوں میں سے بیشتر کے صبح ہوتے ہی واپس گھروں کو لوٹنے کی اطلاعات نے نہ صرف مارچ کی تنظیمی تیاریوں پر سوالات اٹھا دیے ہیں بلکہ پارٹی قیادت کے طرزِ حکمرانی اور کارکنوں کے ساتھ رویے پر بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کارکنوں کی جانب سے مایوسی کی وجہ قیادت کی مبینہ خود غرضی، بنیادی سہولیات کے فقدان اور سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی لانگ مارچ سے پسپائی کو قرار دیا جارہا ہے۔
لکی مروت میں لانگ مارچ کے پہلے پڑاؤ کے دوران کارکنوں کو مناسب قیام و طعام کی سہولیات نہ ملنے کی شکایات سامنے آئیں۔ بعض کارکنوں کے مطابق انہیں رات گزارنے کے لیے نہ مناسب جگہ فراہم کی گئی اور نہ دری یا چادر جیسی بنیادی ضروریات کا انتظام کیا گیا۔ ان کا شکوہ تھا کہ ایک طرف قیادت کنٹینر اور دیگر سہولیات میں موجود رہی جبکہ دوسری طرف کارکنوں کو شدید گرمی اور رات کی مشکلات میں کھلے آسمان تلے چھوڑ دیا گیا۔
کارکنوں کی ناراضی کا ایک اہم سبب یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے لانگ مارچ سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔ بعض کارکنوں کا کہنا ہے کہ اگر پارٹی کی ایک اہم شخصیت حالات کا رخ دیکھ کر پیچھے ہٹ سکتی ہے تو عام کارکن سے یہ توقع کیسے کی جاسکتی ہے کہ وہ تمام مشکلات برداشت کرتے ہوئے سڑکوں پر موجود رہے۔ ان کے مطابق قربانی اور گرفتاریوں کے دعوے کارکنوں کے لیے تب ہی قابل قبول ہوسکتے ہیں جب قیادت بھی عملی طور پر ان کے ساتھ کھڑی نظر آئے۔
کارکنوں کی جانب سے یہ الزام بھی سامنے آیا کہ دن بھر انہیں شدید دھوپ میں نعرے لگانے کے لیے استعمال کیا گیا، جبکہ رات ہوتے ہی متعدد سینئر رہنما واپس چلے گئے۔ ان کارکنوں کے مطابق قیادت کا زیادہ وقت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے ساتھ کنٹینر پر موجود رہنے اور تصاویر بنوانے میں گزرا، جبکہ کارکنوں کے حوصلے بلند کرنے یا ان کے مسائل سننے کے لیے کوئی مؤثر انتظام دکھائی نہیں دیا۔
یہ صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کہ کسی بھی سیاسی تحریک کی کامیابی صرف بڑے اعلانات، تقاریر اور نعروں سے نہیں بلکہ کارکنوں کی مسلسل موجودگی، تنظیمی تیاری اور قیادت کے عملی کردار سے مشروط ہوتی ہے۔ اگر آغاز ہی میں کارکن قیادت سے بددل ہوکر واپس جانے لگیں تو اس کے اثرات صرف ایک پڑاؤ تک محدود نہیں رہتے بلکہ دوسرے اضلاع میں موجود کارکنوں کے حوصلے بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔
لکی مروت سے واپس جانے والے کارکنوں کی اطلاعات کے بعد پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع سے لانگ مارچ میں شامل ہونے کی تیاری کرنے والے کارکنوں میں بھی تذبذب پیدا ہونے کی اطلاعات ہیں۔ بعض کارکنوں نے مبینہ طور پر یہ سوچنا شروع کردیا ہے کہ اگر پہلے مرحلے میں ہی قیادت بنیادی سہولیات فراہم نہیں کرسکی تو آگے بڑھنے کے بعد حالات کس طرح سنبھالے جائیں گے۔
اس کے باوجود پی ٹی آئی کا قافلہ لکی مروت سے آگے بڑھ کر کرک پہنچ گیا اور شیڈول کے مطابق کوہاٹ اگلا پڑاؤ قرار دیا گیا۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں جاری مارچ میں جنید اکبر سمیت دیگر پارٹی رہنما بھی شریک ہیں۔ بنوں اور کرک کی سرحد پر واقع ختم نبوت چوک میں شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کو ایک طویل سیاسی مقابلے سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ فی الحال یہ ٹیسٹ میچ ہے اور 2 دن بعد اسے ٹی 20 میچ میں تبدیل کیا جائے گا۔ ان کے اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ پارٹی قیادت مارچ کو مزید تیز اور جارحانہ بنانے کی تیاری کا اشارہ دے رہی ہے۔
لیکن دوسری طرف سیاسی میدان میں حکومت کی تیاری بھی تیز ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ گورنر ہاؤس خیبرپختونخوا کے افسران اور ملازمین کو ہنگامی بنیادوں پر طلب کیے جانے کی اطلاعات نے سیاسی حلقوں میں مزید سوالات پیدا کردیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق گورنر ہاؤس کے مختلف شعبوں سے افسران اور عملے کو فوری طور پر اپنی ڈیوٹی پر پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے کئی ادوار کے باوجود کسی حتمی اتفاق رائے تک نہیں پہنچا۔
مذاکرات کی ناکامی کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے اعلان کے مطابق لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ لکی مروت کے گنڈی چوک سے شروع ہوا اور قافلے نے مختلف اضلاع سے گزر کر 8 اکتوبر کو خیرآباد پہنچنا ہے۔ وفاقی حکومت نے اس مارچ کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے اسے روکنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں سیاسی اور انتظامی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں اور آنے والے دنوں میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
اسی دوران گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا بیان بھی خاص اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر صوبے کو بچانے کے لیے ایمرجنسی نافذ کرنا ضروری ہوئی تو اسے ضرور نافذ کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر صدر مملکت، وزیراعظم اور متعلقہ ادارے یہ سمجھتے ہیں کہ صوبے کے حالات خراب ہوچکے ہیں تو آئین کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ کی گنجائش موجود ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے پی ٹی آئی قیادت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بعض رہنما اس وقت روپوش ہیں یا گرفتاریوں کا سامنا کررہے ہیں، تاہم انہوں نے کہا کہ وہ صرف دعووں تک محدود نہیں رہیں گے اور اگر میدان لگا تو پی ٹی آئی کا سامنا کریں گے۔ گورنر نے لانگ مارچ کی عملی طاقت پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پشاور میں اب تک ایسی سرگرمیاں دکھائی نہیں دیں جن سے ایک بڑے لانگ مارچ کا تاثر ملے۔
انہوں نے پی ٹی آئی کو یہ چیلنج بھی دیا کہ پہلے صوابی عبور کرکے دکھائیں۔ یہ بیان اس بات کی علامت ہے کہ وفاق اور خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کے درمیان سیاسی مقابلہ اب براہ راست طاقت کے مظاہرے میں تبدیل ہونے کا خطرہ رکھتا ہے۔
اس تمام صورتحال کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ایک طرف پی ٹی آئی قیادت لانگ مارچ کو بڑے سیاسی معرکے کے طور پر پیش کررہی ہے اور کارکنوں کو مزید آگے بڑھنے کے لیے تیار کررہی ہے، جبکہ دوسری طرف خود کارکنوں کے ایک حصے کی جانب سے قیادت کے طرزِ عمل پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ کسی بھی تحریک کے لیے یہ صورتحال خطرے کی گھنٹی ہوسکتی ہے، کیونکہ سیاسی احتجاج میں کارکنوں کا اعتماد اور قیادت پر یقین بنیادی طاقت سمجھا جاتا ہے۔
اگر پی ٹی آئی قیادت کارکنوں کی شکایات دور کرنے، ان کے لیے بنیادی سہولیات فراہم کرنے اور خود عملی طور پر ان کے ساتھ کھڑے ہونے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو لانگ مارچ کو دوبارہ رفتار مل سکتی ہے۔ لیکن اگر کارکنوں میں یہ احساس مضبوط ہوگیا کہ قیادت خود محفوظ اور آرام دہ ماحول میں رہتے ہوئے انہیں مشکلات، گرفتاریوں اور ممکنہ تصادم کی طرف دھکیل رہی ہے تو مارچ کی رفتار متاثر ہوسکتی ہے۔
دوسری طرف گورنر ہاؤس میں ہنگامی بنیادوں پر سرگرمیوں اور گورنر کے ایمرجنسی سے متعلق بیان نے سیاسی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ اگر لانگ مارچ صوابی، مردان اور دیگر اہم علاقوں کی جانب بڑھتا ہے تو وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کے درمیان تصادم کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ اس مرحلے پر سیاسی مذاکرات کی بحالی ہی وہ راستہ ہے جو صورتحال کو مزید کشیدگی سے بچا سکتا ہے۔
خیبرپختونخوا میں اب اصل امتحان صرف پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا نہیں بلکہ اس کی تنظیمی طاقت، کارکنوں کے اعتماد، قیادت کی سیاسی حکمت عملی اور حکومت کے ردعمل کا بھی ہے۔ لکی مروت میں کارکنوں کی مایوسی کی اطلاعات اگر ایک محدود واقعہ ثابت ہوتی ہیں تو مارچ دوبارہ منظم ہوسکتا ہے، لیکن اگر یہی رجحان دوسرے اضلاع تک پھیل گیا تو پی ٹی آئی کے لیے سب سے بڑا چیلنج حکومت نہیں بلکہ اپنے ہی کارکنوں کا حوصلہ برقرار رکھنا بن جائے گا۔
آنے والے 2 دن اس لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ سہیل آفریدی کے بقول ٹیسٹ میچ کو ٹی 20 میں تبدیل کرنے کا مرحلہ قریب ہے، جبکہ حکومت بھی لانگ مارچ کو روکنے کے لیے اپنی حکمت عملی واضح کرچکی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سڑکوں پر کارکنوں کی تعداد بڑھتی ہے یا گھروں کو واپس جانے والوں کی، مذاکرات دوبارہ شروع ہوتے ہیں یا تصادم کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے، اور خیبرپختونخوا کا یہ سیاسی بحران کسی نئے آئینی مرحلے میں داخل ہوتا ہے یا سیاسی مفاہمت کی طرف واپس آتا ہے۔
