خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگے گا یا ایمرجنسی؟ بڑا فیصلہ ہو گیا

خیبرپختونخوا میں سیاسی کشیدگی ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے جہاں اب سوال صرف پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا نہیں بلکہ صوبے کے آئینی اور انتظامی مستقبل کا بھی بن چکا ہے۔ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں لانگ مارچ شروع ہونے اور وفاق و صوبائی حکومت کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کے بعد ذرائع کا دعویٰ ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے بجائے آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی نافذ کرنے کے آپشن کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ تاہم یہ فیصلہ کب اور کس بنیاد پر عملی شکل اختیار کرتا ہے، اس کا انحصار صوبے کی امن و امان کی صورتحال، لانگ مارچ کی رفتار اور آئینی تقاضوں پر ہوگا۔

ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے آپشن پر پہلے ہی غور کیا جا رہا تھا، تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سیاسی عمل اور مذاکرات کو ایک اور موقع دینے کی خواہش کے باعث حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان بات چیت کی گئی۔ مذاکرات کے دوران ایک مرحلے پر معاہدے کے امکانات بھی سامنے آئے، مگر بعد میں دونوں فریق کسی حتمی اتفاق رائے تک نہ پہنچ سکے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مذاکرات کا یہ موقع بھی سیاسی عمل کو برقرار رکھنے کے لیے دیا گیا تھا، لیکن اب اس کے بعد مزید مذاکرات کی گنجائش محدود ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

تاہم دوسری جانب پی ٹی آئی نے ایک بار پھر حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔ اس پیشکش پر وفاقی حکومت کا ردعمل اس بحران کی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ اگر مذاکرات دوبارہ شروع ہوتے ہیں تو ممکن ہے کہ ایمرجنسی کے آپشن پر فوری پیش رفت مؤخر ہوجائے، لیکن اگر سیاسی رابطے بھی ناکام رہتے ہیں تو وفاق کے سامنے آئینی اور انتظامی اقدامات کا سوال مزید اہم ہوسکتا ہے۔

اس پورے معاملے میں گورنر راج کے بجائے ایمرجنسی کا آپشن کیوں زیرغور ہے، یہ سوال بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس کی ایک وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ گورنر راج کی صورت میں صوبے کے انتظامی معاملات میں گورنر کا کردار مرکزی ہوجائے گا، جبکہ موجودہ سیاسی صورتحال میں پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے گورنر کے کردار اور اختیارات کے حوالے سے وفاقی حلقوں میں تحفظات موجود ہیں۔ اسی لیے بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وفاقی حکومت ایسے انتظامی بندوبست کو ترجیح دے سکتی ہے جس میں صوبے کے انتظامی اختیارات براہ راست وفاقی دائرے میں آجائیں۔

آئینی اعتبار سے گورنر راج اور ایمرجنسی دو مختلف انتظامی و آئینی راستے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت مخصوص سنگین حالات میں صدر مملکت ایمرجنسی نافذ کرسکتے ہیں، تاہم اس کے لیے آئینی شرائط پوری کرنا ضروری ہیں۔ اگر داخلی بدامنی کی بنیاد پر یہ قدم اٹھایا جائے تو صوبائی اسمبلی اور پارلیمان سے متعلق آئینی تقاضے بھی اہم ہوجاتے ہیں۔ اس لیے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ محض سیاسی فیصلہ نہیں ہوگا بلکہ اسے آئینی طریقۂ کار کے مطابق آگے بڑھانا ہوگا۔

ایمرجنسی کے ممکنہ سیاسی اثرات بھی غیر معمولی ہوسکتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں صوبائی اسمبلی فوری طور پر تحلیل نہیں ہوتی، لیکن وفاقی اختیارات اور قانون سازی کے دائرے میں اہم تبدیلیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خیبرپختونخوا کے سیاسی بحران میں ایمرجنسی کا آپشن گورنر راج کے مقابلے میں ایک مختلف نوعیت کا انتظامی راستہ بن سکتا ہے۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ایمرجنسی کے نفاذ کا وقت پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی رفتار سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر کو لکی مروت سے مارچ کا آغاز کیا اور اس کے اعلان کردہ منصوبے کے مطابق قافلوں نے مختلف اضلاع سے آگے بڑھنا ہے۔ اس صورتحال میں یہ سوال اہم ہے کہ مارچ کس رفتار سے آگے بڑھتا ہے اور آیا یہ خیبرپختونخوا کی حدود تک محدود رہتا ہے یا وفاقی دارالحکومت کی جانب پیش قدمی کرتا ہے۔

اگر لانگ مارچ تیزی سے آگے بڑھتا ہے اور حالات مزید کشیدہ ہوتے ہیں تو وفاقی حکومت پر کسی آئینی یا انتظامی اقدام کے لیے دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر مارچ کی رفتار سست رہتی ہے یا سیاسی رابطے دوبارہ بحال ہوجاتے ہیں تو ممکن ہے کہ کسی بڑے اقدام میں تاخیر ہو۔ یوں ذرائع کے مطابق ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ کا وقت براہ راست لانگ مارچ کی رفتار اور صوبے کی مجموعی صورتحال سے جڑا ہوا ہے۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی سیاسی اور قانونی صورتحال بھی اس بحران کا اہم حصہ بن چکی ہے۔ ذرائع کی جانب سے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ان کے خلاف مختلف مقدمات اور الیکشن کمیشن سے متعلق ایک معاملہ موجود ہے اور ان میں سے کسی ایک میں فیصلہ ان کے سیاسی مستقبل پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔ تاہم جب تک کسی متعلقہ عدالت یا آئینی ادارے کی جانب سے حتمی فیصلہ سامنے نہیں آتا، ان کی نااہلی کو حتمی حقیقت قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

اسی طرح بعض ذرائع نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر بیرونی عناصر کے اثر و رسوخ کے حوالے سے ریاستی حلقوں میں تحفظات موجود ہیں۔ ان دعوؤں میں افغانستان اور تحریک طالبان پاکستان سے مبینہ روابط کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم یہ الزامات ہیں جن کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ ایسے حساس معاملات میں سیاسی دعوے اور ثابت شدہ حقائق الگ الگ رکھنا اہم ہے۔

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ ہونے کی صورت میں صوبے کے انتظامی معاملات کس شخصیت کے سپرد ہوں گے، یہ بھی ایک اہم سوال ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کسی ایسی شخصیت کو انتظامی ذمہ داری دینے پر غور کرسکتی ہے جو صوبے کے انتظامی معاملات اور سیاسی صورتحال سے واقف ہو۔ بعض حلقوں میں سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک کا نام بھی بطور ممکنہ انتظامی ذمہ دار زیر بحث لایا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

اس پورے بحران میں پاکستان پیپلز پارٹی کا کردار بھی اہم ہے۔ ذرائع کے مطابق سیاسی عمل کو ایک اور موقع دینے کی خواہش کے باعث مذاکرات کی کوشش کی گئی تھی۔ اس کے بعد اگر مذاکرات کا راستہ مکمل طور پر بند ہوجاتا ہے تو وفاقی حکومت کے لیے آئینی اقدام کی راہ نسبتاً زیادہ نمایاں ہوسکتی ہے۔ تاہم پی ٹی آئی کی جانب سے دوبارہ مذاکرات کی پیشکش نے سیاسی عمل کے دروازے کو مکمل طور پر بند ہونے سے روک دیا ہے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے لیے بھی یہ صورتحال ایک بڑے سیاسی امتحان کی حیثیت رکھتی ہے۔ لانگ مارچ کو کس حد تک آگے بڑھایا جاتا ہے، کارکنوں اور قیادت کی حکمت عملی کیا ہوتی ہے اور حکومت کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کے لیے کس نوعیت کی شرائط سامنے آتی ہیں، یہ تمام عوامل آنے والے دنوں میں اہم ہوں گے۔

خیبرپختونخوا کا بحران اب محض وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان سیاسی اختلاف نہیں رہا بلکہ اس میں امن و امان، دہشت گردی، صوبائی خودمختاری، وفاقی اختیار اور آئینی حدود جیسے بنیادی سوالات بھی شامل ہوگئے ہیں۔ ایک طرف پی ٹی آئی لانگ مارچ کو اپنے سیاسی مطالبات کے حصول کا ذریعہ قرار دے رہی ہے، جبکہ وفاقی حکومت صوبے کی امن و امان کی صورتحال اور ریاستی نظم کو بنیادی اہمیت دے رہی ہے۔

اس صورتحال میں دوبارہ مذاکرات کی کوئی بھی پیشکش اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ سیاسی تصادم کا راستہ جتنا طویل ہوگا، اتنا ہی آئینی اور انتظامی اقدامات کا سوال بھی شدت اختیار کرے گا۔ اگر فریقین کسی قابل قبول سیاسی فارمولے پر واپس آتے ہیں تو ایمرجنسی یا دوسرے غیر معمولی اقدامات کی ضرورت کم ہوسکتی ہے۔ لیکن اگر لانگ مارچ اور حکومتی اقدامات کے باعث صورتحال مزید بگڑتی ہے تو وفاق کے سامنے آئینی راستوں کا سوال زیادہ اہم ہوجائے گا۔

چنانچہ اس وقت خیبرپختونخوا کے بحران کا سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ ایمرجنسی یا گورنر راج میں سے کون سا راستہ اختیار کیا جائے گا، بلکہ یہ ہے کہ آنے والے چند دنوں میں سیاسی درجہ حرارت کس سمت جاتا ہے۔ لانگ مارچ کی رفتار، مذاکرات کی بحالی، صوبے کی امن و امان کی صورتحال اور وفاقی حکومت کی آئینی حکمت عملی—یہ چاروں عوامل مل کر طے کریں گے کہ خیبرپختونخوا کا سیاسی بحران مذاکرات کی میز پر واپس آتا ہے یا ایک نئے آئینی مرحلے میں داخل ہوتا ہے۔

Back to top button