خواجہ آصف نے پی ٹی آئی قیادت کی بینڈ کیسے بجائی؟

خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی اور وفاق و صوبے کے درمیان تعاون کا تنازع اب براہِ راست سیاسی محاذ آرائی میں تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان تحریک انصاف سے آٹھ بنیادی سوالات پوچھتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گزشتہ تیرہ برس کے دوران صوبے میں اپنی حکومت کے اقدامات، نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد اور افغان سرزمین سے ہونے والی مبینہ دراندازی کے معاملے پر اپنا مؤقف واضح کرے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی دہشت گردی جیسے قومی مسئلے پر سیاسی الزام تراشی کے بجائے مؤثر حکمت عملی اور باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیتی رہی ہے۔ ایسے میں اصل سوال یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیاسی اختلافات اور ذمہ داریوں کے تعین کے درمیان توازن کیسے قائم ہوگا؟
خواجہ آصف نے پی ٹی آئی سے پہلا سوال یہ کیا کہ جب جماعت گزشتہ تیرہ برس سے خیبرپختونخوا میں حکومت کرتی رہی اور وفاق میں بھی اقتدار میں رہی تو اسے دہشت گردی کے خلاف پالیسی بنانے، نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کرنے اور اعلیٰ سطحی سکیورٹی اجلاس بلانے سے کس نے روکا؟ ان کا مؤقف ہے کہ صوبائی حکومت کو اپنی آئینی اور انتظامی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے دستیاب اختیارات استعمال کرنے چاہییں تھے۔
وزیر دفاع نے دوسرا سوال دہشت گردی کی مذمت اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ اظہار یکجہتی سے متعلق اٹھایا۔ ان کے مطابق دہشت گردوں کی کارروائیوں کی مذمت کرنے، افغانستان سے آنے والے حملہ آوروں کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرنے اور پاک فوج و عوام پر حملوں کی مخالفت کے لیے کسی الگ پالیسی کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔
خواجہ آصف نے کوہاٹ میں مبینہ ڈرون حملوں اور افغان سرزمین سے پاکستانی سرحدی چوکیوں پر فائرنگ اور دراندازی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے پوچھا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے ان واقعات پر کھل کر احتجاج کیوں نہیں کیا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ پی ٹی آئی واضح کرے کہ افغان حکومت کا نام لے کر ان واقعات کی مذمت کرنے میں کیا رکاوٹ تھی۔ یہ الزامات اور سوالات وزیر دفاع کے بیان کا حصہ ہیں، جبکہ ان کی آزادانہ تصدیق اور متعلقہ فریقوں کا جواب الگ معاملہ ہے۔
چوتھے اور پانچویں سوال میں انہوں نے دہشت گردی کی معاونت کرنے والی مبینہ غیر قانونی معیشت اور صوبے میں بھتہ خوری، اسمگلنگ اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے کاروبار کا معاملہ اٹھایا۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت کو یہ بتانا چاہیے کہ ان سرگرمیوں کے خاتمے کے لیے گزشتہ برسوں میں کیا عملی اقدامات کیے گئے۔ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ دہشت گردی کے مالی وسائل روکنے کے لیے صرف سکیورٹی کارروائیاں کافی نہیں ہوتیں بلکہ مالیاتی نگرانی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مؤثر کارروائی اور غیر قانونی کاروبار کے خلاف مسلسل اقدامات بھی ضروری ہوتے ہیں۔
چھٹے سوال میں خواجہ آصف نے سکیورٹی فورسز کی قربانیوں اور دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ صوبائی قیادت کی یکجہتی پر سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ اور صوبائی قیادت کو دہشت گردی کے خلاف برسرپیکار اہلکاروں اور متاثرہ شہریوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ اس معاملے میں سیاسی بیانات کے بجائے عملی اقدامات، متاثرین کی معاونت اور سکیورٹی اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کو اہمیت حاصل ہے۔
ساتویں سوال میں وزیر دفاع نے پی ٹی آئی کے دہشت گردی سے متعلق بیانیے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے پوچھا کہ جماعت بعض مسلح گروہوں کو واضح طور پر دہشت گرد یا خارجی کیوں نہیں کہتی اور ان کی کارروائیوں کی غیر مبہم مذمت کیوں نہیں کرتی۔ ان کے مطابق قومی سلامتی کے معاملے پر واضح مؤقف ضروری ہے۔ دوسری جانب دہشت گردی کے خلاف پالیسی پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود تمام فریق تشدد کی مذمت، شہریوں کے تحفظ اور قانون کی بالادستی جیسے بنیادی نکات پر مشترکہ مؤقف اختیار کریں۔
آٹھویں سوال میں خواجہ آصف نے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی طویل حکمرانی کے دوران مبینہ کرپشن، سرکاری وسائل کے استعمال اور پارٹی فنڈز سے متعلق الزامات کا حوالہ دیا۔ انہوں نے جماعت کے اندر سامنے آنے والے الزامات کی بنیاد پر جواب طلب کیا۔ تاہم ان الزامات کو ثابت شدہ حقائق قرار دینے کے لیے متعلقہ شواہد اور قانونی کارروائی کے نتائج کا جائزہ ضروری ہے۔
مجموعی طور پر خواجہ آصف کے آٹھ سوالات کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو خیبرپختونخوا میں اپنی حکمرانی، انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات اور سکیورٹی پالیسی پر عمل درآمد کے حوالے سے جواب دینا چاہیے۔ لیکن اس بحث کا دوسرا پہلو بھی اہم ہے: دہشت گردی کے خلاف قومی حکمت عملی کی کامیابی کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر رابطہ، وسائل کی فراہمی، انٹیلی جنس تعاون اور سیاسی اعتماد ناگزیر ہیں۔
دہشت گردی کا مسئلہ کسی ایک جماعت یا حکومت تک محدود نہیں۔ اس کے حل کے لیے ضروری ہے کہ الزامات کی جانچ شواہد کی بنیاد پر ہو، ہر حکومت اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے اور سیاسی اختلافات کو قومی سلامتی کے معاملات پر تعاون کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے دیا جائے۔ اصل کامیابی سوالات کی تعداد یا سیاسی بیانات کی شدت سے نہیں بلکہ دہشت گردی میں کمی، عوام کے تحفظ اور ریاستی اداروں کے مؤثر باہمی تعاون سے طے ہوگی۔
