PTIلانگ مارچ میں دہشتگردوں کی موجودگی،سیکیورٹی اداروں نے کمر کس لی

خیبرپختونخوا سے شروع ہونے والے لانگ مارچ نے سیاسی کشیدگی کے ساتھ کئی نئے سوالات بھی کھڑے کردیئے ہیں۔ سرکاری وسائل کے مبینہ استعمال، مارچ میں مسلح افراد کی موجودگی کے دعووں، کارکنوں میں بے یقینی اور وفاق و صوبے کے درمیان بڑھتے اختلافات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ دوسری جانب وفاقی سطح پر خیبرپختونخوا کی سیاسی، آئینی اور سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں مختلف ممکنہ راستوں پر غور شروع ہوگیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ لانگ مارچ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی تنازع کو کس نئے مرحلے میں لے جائے گا؟
پی ٹی آئی کا خیبرپختونخوا سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع ہونے کے بعد سیاسی صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی ہے۔ مارچ کے حوالے سے سرکاری وسائل کے استعمال، عدالتی احکامات کی خلاف ورزی اور بعض شرکا کے پاس اسلحہ موجود ہونے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے کارکنوں میں بھی مارچ کی منزل، طریقہ کار اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے واضح معلومات نہ ہونے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر میں پی ٹی آئی لانگ مارچ کے شرکا میں سالٹ رائفلز سے لیس مسلح افراد موجود ہیں۔انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق تصویر میں ہتھیار کے ساتھ نظر آنے والے افراد میں سے ایک کی شناخت خارجی گل بہادر گروپ کے اہلکار خارجی شہیداللہ عرف غازی کے طور پر ہوئی ہے ، خارجی شہیداللہ عرف غازی مکین کا رہائشی ہے اور متعدد دہشت گرد حملوں میں حصہ لے چکا ہے ۔انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق مارچ کی آڑ میں چھپے دوسرے دہشت گردوں کی نشاندہی کا عمل بھی جاری ہے ۔
سرکاری وسائل کے مبینہ استعمال کا معاملہ اس لیے اہم ہے کہ سیاسی احتجاج کے لیے ریاستی وسائل استعمال نہ کرنے سے متعلق عدالتی ہدایات پہلے ہی موجود ہیں۔ اگر ان الزامات کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ معاملہ صرف سیاسی احتجاج تک محدود نہیں رہے گا بلکہ قانونی اور انتظامی سوالات بھی پیدا کرسکتا ہے۔ اسی طرح مارچ میں مسلح افراد کی مبینہ موجودگی کے دعوے نے سکیورٹی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے، تاہم ان دعووں کی حتمی حیثیت کا تعین تحقیقات کے بعد ہی ہوسکے گا۔
دوسری جانب مارچ میں شریک کارکنوں کے حوالے سے یہ تاثر سامنے آیا ہے کہ انہیں قیادت کی جانب سے آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں مکمل طور پر آگاہ نہیں کیا گیا۔ بعض کارکنوں کی شکایات ہیں کہ وہ احتجاج، گرفتاریوں اور ممکنہ تصادم کا سامنا تو کرتے ہیں لیکن فیصلوں اور حکمت عملی میں انہیں اعتماد میں نہیں لیا جاتا۔ اسلام آباد اور گردونواح میں بھی مارچ کے حوالے سے پی ٹی آئی کی مقامی سطح پر سرگرمیاں محدود دکھائی دینے کی اطلاعات ہیں۔
لانگ مارچ کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا کی مجموعی سیاسی اور آئینی صورتحال بھی اہم ہوگئی ہے۔ وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد صدر اور وزیراعظم کے درمیان صوبے کی صورتحال پر دوبارہ مشاورت متوقع ہے۔ اس میں سیاسی کشیدگی، امن و امان، لانگ مارچ کے اثرات اور آئندہ کی حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔
خیبرپختونخوا میں ممکنہ آئینی اقدامات، جن میں گورنر راج یا ہنگامی صورتحال جیسے اختیارات بھی زیرِ غور آنے کی اطلاعات ہیں، سیاسی منظرنامے کو مزید حساس بنا رہے ہیں۔ تاہم ایسے کسی بھی اقدام کے لیے آئینی، قانونی اور سیاسی پہلوؤں کا جائزہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
یوں ایک طرف پی ٹی آئی لانگ مارچ کے ذریعے اپنے سیاسی مطالبات منوانے کی کوشش کر رہی ہے، تو دوسری طرف وفاقی حکومت امن و امان اور آئینی دائرہ کار کو بنیاد بنا کر صورتحال سے نمٹنے کی حکمت عملی تشکیل دے رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں اصل امتحان یہ ہوگا کہ کیا سیاسی فریق کشیدگی کو مزید بڑھانے کے بجائے دوبارہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرتے ہیں یا لانگ مارچ صوبائی اور وفاقی سطح پر ایک بڑے سیاسی و آئینی بحران کا باعث بنتا ہے۔
