اسلام آباد اور کابل، روس میں آمنے سامنے کیسے آئے؟

ماسکو میں افغانستان کے مسئلے پر ہونے والا اہم علاقائی اجلاس اس وقت غیر معمولی سفارتی کشیدگی کی تصویر بن گیا جب پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان اختلافات اس حد تک نمایاں ہوگئے کہ اجلاس کے اختتام پر روایتی مشترکہ اعلامیہ بھی جاری نہ ہوسکا۔ روسی صدر کے خصوصی نمائندے زامیر کابلوف نے کھلے لفظوں میں اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کیا، جبکہ پاکستان اور افغانستان کے نمائندوں نے ایک دوسرے کے خلاف سخت الزامات عائد کیے۔ اصل تنازع محض الفاظ کے انتخاب کا نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے سرحد پار دہشت گردی، افغان سرزمین کے پاکستان کے خلاف استعمال، پاکستانی فضائی کارروائیوں، افغان خودمختاری اور دونوں ملکوں کے درمیان مسلسل بگڑتے تعلقات کا پورا بحران موجود ہے۔

روس کے دارالحکومت ماسکو میں پانچ اکتوبر کو افغانستان کے حوالے سے ہونے والے آٹھویں مشاورتی اجلاس میں پاکستان، افغانستان، روس، چین، بھارت، ایران، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان کے نمائندوں نے شرکت کی، جبکہ بیلاروس اور مصر کو بطور مہمان مدعو کیا گیا تھا۔ اجلاس کا بنیادی مقصد افغانستان کی سیاسی، سلامتی اور معاشی صورتحال پر علاقائی مشاورت، دہشت گردی اور منشیات کے خلاف تعاون اور خطے میں استحکام کے لیے مشترکہ لائحہ عمل پر غور کرنا تھا۔ تاہم اجلاس کے اختتام پر شرکا مشترکہ اعلامیے کے متن پر اتفاق نہیں کرسکے۔

روسی صدر کے خصوصی نمائندے برائے افغانستان زامیر کابلوف کے مطابق مشترکہ اعلامیے کا مسودہ تیار کرتے وقت پاکستانی اور افغان وفود کے درمیان اتفاق رائے پیدا نہیں ہوسکا۔ ان کے مطابق افغان فریق کو اعتراض تھا کہ مجوزہ اعلامیے میں افغانستان کا ذکر دہشت گردی کے تناظر میں بہت زیادہ کیا گیا ہے۔ کابل کا مؤقف تھا کہ گزشتہ سال کے اعلامیے میں بھی اسی نوعیت کی زبان استعمال کی گئی تھی، لیکن اس کے بعد پاکستان اور افغانستان کے دوطرفہ تعلقات کی صورتحال تبدیل ہوچکی ہے، اس لیے وہ اس مرتبہ اسی متن کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔

کابلوف نے واضح کیا کہ مشترکہ اعلامیے کے بغیر بھی ماسکو فارمیٹ اپنا کام جاری رکھ سکتا ہے، تاہم اجلاس کے اختتام پر متفقہ اعلامیہ جاری ہونا اس فورم کی روایت اور سفارتی طریقۂ کار کے زیادہ مطابق ہوتا۔ ان کے مطابق ماسکو فارمیٹ دوطرفہ تنازعات حل کرنے کا فورم نہیں بلکہ علاقائی تعاون میں ہم آہنگی پیدا کرنے کا پلیٹ فارم ہے۔ یوں مشترکہ اعلامیے کی عدم موجودگی نے اس فورم کو ختم نہیں کیا، لیکن پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجود اختلافات کی شدت ضرور نمایاں کردی۔

اجلاس میں افغان طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے پاکستان پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے مسائل کو باہمی الزامات اور فوجی کارروائیوں کے بجائے بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق افغانستان اپنی خارجہ اور داخلی پالیسی خودمختاری کے ساتھ چلانا چاہتا ہے اور کسی دباؤ کے نتیجے میں اپنی بنیادی پالیسیوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

امیر خان متقی نے پاکستان کی جانب سے افغانستان کے اندر کی جانے والی فضائی کارروائیوں کو افغان خودمختاری کے خلاف قرار دیا اور الزام عائد کیا کہ پاکستان افغانستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے سابق افغان حکومت کے فوجی اہلکاروں اور داعش کے ارکان کے ذریعے افغانستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے عملی اقدامات شروع کیے ہیں اور ڈیورنڈ لائن کے قریب ہزاروں جنگجو جمع کیے گئے ہیں۔ افغان وزیر خارجہ نے بعض حالیہ بدامنی کے واقعات کا ذمہ دار بھی پاکستان کو قرار دیا۔

پاکستان کی جانب سے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے محمد صادق نے اجلاس میں اس کے برعکس دہشت گردی کو افغانستان سے متعلق سب سے بڑے مسائل میں سے ایک قرار دیا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ افغان سرزمین پر موجود مختلف شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیاں پاکستان کے لیے سنگین سکیورٹی خطرہ ہیں اور گزشتہ تین برس کے دوران افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کے نتیجے میں چار ہزار سات سو سے زائد پاکستانی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

محمد صادق نے کہا کہ پاکستان اپنے شہریوں کی سلامتی اور تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو دفاعی نوعیت کا سمجھتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی انسداد دہشت گردی کارروائیاں افغان سرزمین سے ہونے والے حملوں کے جواب میں کی جاتی ہیں اور ان کا مقصد ان مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی کرنا ہے جو پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی، تربیت اور معاونت کے لیے افغان سرزمین استعمال کرتے ہیں۔

پاکستانی نمائندے نے یہ بھی کہا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے اور افغان سرزمین سے جنم لینے والی شدت پسندی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے سیاسی اور سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ تاہم ان کے مطابق پاکستان کے خیرسگالی اقدامات کے باوجود افغانستان سے پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوا اور طالبان حکومت مطلوبہ اقدامات کرنے میں ناکام رہی۔

دوسری جانب کابل پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے فضائی حملوں اور دیگر اقدامات کو افغان خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے مسائل کو طاقت کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ اس طرح دونوں فریقوں کے بیانیے میں بنیادی فرق واضح ہے۔ اسلام آباد اپنی کارروائیوں کو دہشت گردی کے خلاف دفاعی اقدامات قرار دیتا ہے، جبکہ کابل انہیں اپنی خودمختاری کے خلاف کارروائی سمجھتا ہے۔ یہی بنیادی اختلاف ماسکو میں مشترکہ اعلامیے کے متن پر بھی اثرانداز ہوا۔

اس صورتحال میں روس کا کردار بھی خاص اہمیت اختیار کرجاتا ہے۔ ماسکو فارمیٹ کا آغاز دو ہزار سترہ میں روس نے افغانستان سے متعلق علاقائی ممالک کے درمیان مشاورت کے لیے کیا تھا۔ وقت کے ساتھ یہ افغانستان کی سلامتی، سیاسی صورتحال، دہشت گردی، منشیات، معاشی تعاون اور علاقائی رابطوں پر گفتگو کا ایک اہم پلیٹ فارم بن گیا۔ روس کی جانب سے طالبان حکومت کو دو ہزار پچیس میں باضابطہ طور پر تسلیم کیے جانے کے بعد ماسکو اور کابل کے تعلقات بھی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئے، تاہم ماسکو فارمیٹ میں شریک دیگر ممالک نے طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا۔

ماسکو اجلاس کا اہم پہلو یہ ہے کہ ایک ایسے فورم پر جہاں مختلف علاقائی طاقتیں افغانستان کے مستقبل، سلامتی اور علاقائی تعاون پر مشترکہ سوچ پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، پاکستان اور افغانستان اپنے بنیادی اختلافات پر بھی اتفاق رائے پیدا نہیں کرسکے۔ مشترکہ اعلامیہ سفارتی طور پر محض ایک دستاویز نہیں ہوتا بلکہ شرکا کے درمیان کم از کم بنیادی نکات پر اتفاق کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے اس کا جاری نہ ہونا دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کے بحران کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔

اگرچہ مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں ہوسکا، تاہم اجلاس مکمل طور پر بے نتیجہ بھی نہیں رہا۔ شرکا نے افغانستان کے ساتھ برابری اور باہمی مفاد کی بنیاد پر تعاون جاری رکھنے، افغانستان کو علاقائی اور عالمی معاشی نظام میں شامل کرنے اور کابل کے ساتھ تعمیری روابط برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کے ممالک افغانستان کو مکمل طور پر تنہا کرنے کے بجائے اس کے ساتھ روابط برقرار رکھنے کو ترجیح دے رہے ہیں، اگرچہ دہشت گردی، سرحدی سلامتی اور سیاسی اختلافات جیسے معاملات اب بھی بڑی رکاوٹ ہیں۔

اصل سوال اب یہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو سفارتی راستے سے کس حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ ماسکو فارمیٹ نے دونوں فریقوں کو ایک ہی میز پر ضرور بٹھایا، لیکن مشترکہ اعلامیے پر اتفاق نہ ہونا اس بات کا اشارہ ہے کہ محض علاقائی اجلاس کافی نہیں۔ جب تک سرحد پار دہشت گردی، افغان سرزمین کے استعمال، پاکستانی کارروائیوں اور افغان خودمختاری سے متعلق بنیادی اختلافات پر قابلِ عمل طریقۂ کار وضع نہیں ہوتا، دونوں ممالک کے تعلقات میں موجود تناؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔

ماسکو اجلاس کا اصل پیغام کسی ایک فریق کی کامیابی یا ناکامی سے زیادہ یہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد کا بحران اب علاقائی سفارتی فورمز تک پہنچ چکا ہے۔ روس نے مشترکہ اعلامیے کے بغیر بھی ماسکو فارمیٹ کو برقرار رکھنے کی بات کی ہے، لیکن آئندہ اس پلیٹ فارم کی اہمیت اس بات سے بھی جڑی ہوگی کہ آیا یہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان اختلافات کو کم کرنے کے لیے عملی سفارتی گنجائش پیدا کر پاتا ہے یا نہیں۔

Back to top button