کیا فوج کی سیاست میں کھلی مداخلت کا راستہ رک گیا؟

آرمی ایکٹ میں ترمیم کا بل منظور کر کے فوج کی سیاست میں کھلی مداخت کا راستہ روکا گیا ہے اب ممکن نہیں رہے گا کہ ادھر کوئی ریٹائر ہو جائے اور اگلے دن آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل فیض حمید کی طرح اپنے گھر کے لان میں ایک سیاسی جماعت کا اجتماع منعقد کر کے نہ صرف یہ کہ اپنے سیاسی عزائم کا اعلان کر دے بلکہ اپنے شاگردوں کو نشان ’منزل‘ سے بھی روشناس کرا دے۔ ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اور تجزیہ کار ڈاکٹر فاروق عادل نے اپنی ایک تحریر میں کیا ہے . وہ لکھتے ہیں کہ فوج کے ریٹائرڈ افسر اور ملازمین ہوں یا سول سروس کے سابق افسران ان سب پر پابندی ہے کہ وہ 2 برس تک ذرائع ابلاغ سے گفتگو کر سکتے ہیں اور نہ سیاست میں حصہ لے سکتے ہیں۔ ترمیم شدہ ایکٹ میں پابندی کی نوعیت بنیادی طور پر اب بھی وہی ہے لیکن وہ لوگ جو حساس عہدوں پر فائز رہے ہیں، ان پر اب یہی پابندی 5 برس طویل ہوگی۔ اس ترمیم کا مقصد کیا ہے؟ ایک سوال تو یہ ہے، دوسرا ایک اعتراض ہے۔ اعتراض یہ ہے کہ اس قانون کی منظوری میں جلد بازی سے کام لیا گیا ہے۔ یہ اعتراض 2 نہایت قابل احترام سینیٹر صاحبان کی طرف سے سامنے آیا ہے۔ ان میں ایک سینیٹر رضا ربانی ہیں اور دوسرے جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ آرمی ایکٹ میں یہ ترمیم جس کی مخالفت اتنے سنجیدہ سیاستدان کر رہے ہیں، کیا واقعی محلِ نظر ہے اور کیا ایسی قانون سازی نہیں ہونی چاہیے تھی؟ ڈاکٹر فاروق عادل کہتے ہیں کہ پارلیمان میں قانون سازی کا معاملہ یقیناً بہت حساس اور غیر معمولی ہوتا ہے۔ کبھی حالات ایسے ہوتے ہیں کہ ایوان نہایت اطمینان سے بلکہ سست رفتاری کے ساتھ قانون سازی کرتا ہے اور کبھی صورت حال مختلف ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ 9 مئی کے واقعات کے بعد سے ملک ایک ہنگامی صورت حال سے گزر رہا ہے۔ نہیں بھولنا چاہیے کہ 9 مئی کے ہنگاموں اور قانون شکنی کے واقعات کو عمران خان کی معذرت خواہی کرنے والے دانشوروں نے انقلاب سے تعبیر کیا تھا اور ریاست کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اس کے سامنے سر جھکا دے۔ اب یہ الگ بحث ہے کہ انقلاب کی تعریف کیا ہے اور کیا 9 مئی جیسے واقعات کو انقلاب کا نام دیا جا سکتا ہے کہ نہیں۔ حقیقت میں یہ ایک منظم سازش تھی جس میں بعض نہایت اہم اور حساس مناصب پر فائز افراد بھی شریک تھے، جس کا مقصد ایک ایسی بغاوت تھا جس کے ذریعے دفاعی اداروں کو زیر کرنے کے بعد ریاست پر قبضہ کرنا تھا۔ اس سازش کے تانے بانے بہت دور تک جاتے ہیں جب اس سازش کی تفصیلات سے پردہ اٹھے گا تو اس کے ساتھ ہی آرمی ایکٹ میں کی جانے والی ترمیم کی حکمت اور فوری ضرورت بھی سامنے آ جائے گی۔ ڈاکٹر فاروق عادل کے مطابق اس ایکٹ میں ترمیم کا دوسرا مقصد اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ سیاست سے لا تعلق ہو جانے سے متعلق …. مختلف زمانوں میں ذمے داری سنبھالنے والی فوجی قیادت کی طرف سے اکثر اعلانات آتے رہے ہیں لیکن بعد کے حالات نے یہ ثابت کیا کہ یہ محض اعلانات ہی تھے لیکن یہ پہلی بار ہے کہ اس ضمن میں نہایت سنجیدگی کا مظاہرہ کیا گیا ہے اور ایسی قانون سازی کی گئی ہے جس کے نتیجے میں حالیہ برسوں کی طرح کھلی مداخت کا راستہ رک جائے گا اور یہ بھی ممکن نہیں رہے گا کہ ادھر کوئی ریٹائر ہو جائے اور اگلے دن اپنے گھر کے لان میں ایک سیاسی جماعت کا اجتماع منعقد کر کے نہ صرف یہ کہ اپنے سیاسی عزائم کا اعلان کر دے بلکہ اپنے شاگردوں کو نشان ’منزل‘ سے بھی روشناس کرا دے۔ اس قانون کی منظوری فوج کی طرف سے دراصل اس عزم کا اظہار ہے کہ ’جس کا کام، اسی کو ساجھے‘ جس کسی کو کارِ سیاست میں کار گزاری دکھانے کا شوق ہے، یہ کام وہ اپنے بل بوتے پر کرے۔ ادارے کی طاقت کو وہ اپنی قوت بنانے سے گریز بھی کرے اور اسے ایسے حالات بھی میسر نہ آ سکیں جن کی مدد سے وہ ریاست کو غیر مستحکم کر سکے۔ مختصر الفاظ میں اگر یوں کہیں کہ یہ قانون سازی 9

سپریم کورٹ نے حلقہ بندیوں کامعاملہ واپس الیکشن کمیشن کو بھجوادیا

مئی کے تکلیف دہ حالات کے سبق کا نتیجہ ہے تو غلط نہ ہو گا۔

Back to top button