گلوکارہ عروج آفتاب کو پاکستانی گلوکارہ کہلانے پر اعتراض کیوں ہے؟

گلوکارہ عروج آفتاب نے خود پر پاکستان کا ٹیگ لگائے جانے پر اعتراض عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک موسیقار جو سفید فام نہیں ہے کبھی اس ٹیگ یا ہمارا تعلق کہاں سے ہے، اس بارے میں جو بھی لوگ سمجھ رہے ہیں، اس کے بغیر بھی پہچانا جا سکتا ہے؟
عروج آفتاب جنھوں نے 2022 کے گریمی ایوارڈز میں اپنے گانے ’محبت‘ کے لیے بہترین گلوبل میوزک پرفارمنس کا ایوارڈ جیتا تھا اب انھیں پاکستانی اور اردو گلوکارہ کہلانے پر کچھ اعتراضات ہیں۔
ایک اور ٹویٹ میں انھوں نے لکھا ’ہاں میں سکون سے جدید زمانے کی موسیقی بنا سکتی ہوں، تنقید کے بعد انھوں نے لکھا کہ اس ٹویٹ نے ’یہ تو پاکستان مخالف ہے‘ جذبات کو جگا دیا ہے۔ زبردست۔ میں اپنی جڑوں اور ورثے کو مٹانے یا ترک کرنے کی بات نہیں کر رہی ہوں۔‘
انھوں نے شکوہ کیا کہ ان دنوں وہ یورپ اور برطانیہ کا دورہ کرتے ہوئے محسوس کر رہی ہیں کہ ’ہمیں صرف ایک جغرافیائی اور لسانی تناظر میں رکھ کر دیکھا جاتا ہے اور اس سے ان کے لیے ہمیں اور ہماری کامیابی کو نظر انداز کرنا آسان ہو جاتا ہے اور اس سے ہم اس سے بھی محروم رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے جو ہم مزید حاصل کر سکتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر اس پر ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ کچھ لوگ عروج پر تنقید کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ اگر ایسا ہی تو آپ اردو کی کلاسک غزلیں گانا چھوڑ دیں، ایک صارف نے عروج کی ٹویٹ کا طنزیہ جواب دیتے ہوئے کہا کہ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ اردو میں غزلیں گاتی ہیں جو ان کی زبان نہیں ہے۔
فرح نے ان پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ کیا وہ اردو عزلیں نہیں گاتیں؟ اور کیا انھیں ایک اردو غزل پر ہی گریمی نہیں ملا؟ حبیب اللہ خان نے کہا کہ آپ اسی چیز کا شکوہ کر رہی ہیں جس نے آپ کو پہچان دلائی، آپ اس سے ہٹ کر اپنی پہچان چاہتی ہیں تو اسے کمائیں جبکہ کئی افراد عروج سے متفق نظر آتے ہیں۔
اگر عروج کی زندگی کو ایک جملے میں سمویا جائے تو وہ ایک 38 سالہ پاکستانی ہیں جنھوں نے لاہور سے اپنی موسیقی کا آغاز کیا، امریکہ کے برکلے کالج آف میوزک سے تعلیم حاصل کی اور اب تک ان کی تین سولو البم آ چکی ہیں مگر ان کی زندگی کی اصل کہانی دراصل اس سے زیادہ دلچسپ ہے۔
سعودی عرب میں پیدا ہونے والی عروج آفتاب جب اپنے والدین کے ساتھ لاہور آئیں تو انھوں نے اپنے میوزک کیریئر کا آغاز بطور کوور آرٹسٹ کیا یعنی وہ کسی مشہور گانے کو اپنے انداز میں گا کر نیا رنگ دیتی تھیں، 18 سال کی عمر میں ان کے ایسے ہی دو گانے ’ہالیلویا‘ اور عامر ذکی کا ’میرا پیار‘ انٹرنیٹ پر وائرل ہوئے جس سے انھیں ابتدائی طور پر پذیرائی ملی۔
عروج کو بچپن سے کلاسیکی موسیقی، غزل اور قوالی سے لگاؤ رہا ہے۔ 90 کی دہائی میں لاہور میں ان کے دوست اور رشتہ دار سب استاد نصرت فتح علی خان سے متاثر تھے اور ان کی نایاب ریکارڈنگز بڑے شوق سے سُنا کرتے تھے۔
2010 کے دوران نیویارک میں صوفی میوزک فیسٹیول کا میلا سج رہا تھا جب عروج کو پتا چلا کہ ’صوفی موسیقی کی ملکہ‘ عابدہ پروین بھی وہاں پرفارم کرنے والی ہیں، پِچ فارک کو دیئے ایک انٹرویو میں عروج یاد کرتی ہیں کہ انھوں نے ہوٹل میں عابدہ پروین کا روم نمبر پتہ کیا اور ان کے دروازے پر بن بلائے دستک دے دی، عابدہ پروین نے انھیں آڈیشن سے پہچان لیا، ہاتھ پکڑا اور کمرے میں بلا لیا اور یوں دونوں ہارمونیم پر ساتھ گانے لگے۔
عروج نے کہا ہے کہ وہ بچپن سے ہی خود کو دوسروں سے الگ اور مختلف سمجھتی تھیں۔ وہ موسیقی کی تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھیں جس کے لیے انھیں لاہور سے بہت دور جانا پڑتا اور جو بہت مہنگا ثابت ہو سکتا تھا۔
ان کے والدین کو بھی موسیقی سے کافی لگاؤ تھا مگر ایک بار ان کے والد نے کہا تھا کہ کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ وہ میوزک میں جانا چاہتے ہیں مگر حقیقت میں انھیں صرف میوزک پسند ہوتا ہے۔مجھے سمجھ نہیں آتا تھا کہ کیا کروں اور ایک بار میں ایک گانا سن رہی تھی اور میں نے فیصلہ کیا کہ میں بھی اسے دل سے گا سکتی ہوں۔ میں دنیا سے تھک چکی تھی، 2018 میں ان کے بھائی اور ایک قریبی دوست کی موت نے ان کی زندگی اور موسیقی
سپریم کورٹ معاشی معاملات میں مداخلت نہیں کرےگی
پر گہرا اثر چھوڑا۔
