عمران کا اسٹیبلشمنٹ سے رومانس نفرت میں کیسے بدلا؟

گذشتہ کئی برسوں سے اسٹیبلشمنٹ کا خیال تھا کہ عمران خان کی صورت میں انھیں ملک کو بچانے والا نجات دہندہ سیاست دان مل گیا ہے اور عمران خان بھی اقتدار کے دوران عسکری قیادت کے گن گاتے اور ون پیج کی گردان الاپتے نہیں تھکتے تھے۔ تاہم اقتدار سے ہٹنے کے ایک برس بعد ہی وہ ایک ایسے خطرے کے طور پر سامنے آئے ہیں جس نے نہ صرف اپنے محسنوں کو ہدف الزام بنایا ہے بلکہ ملکی سلامتی کو بھی داؤ پر لگا دیا ہے۔ عمران خان کی شرپسندانہ سیاست کی وجہ سے جہاں تحریک انصاف اپنی بقاء کی جنگ لڑنے مٰیں مصروف ہے بلکہ پاکستان بظاہر اس کے نتیجے میں جمود کی کیفیت کا شکار ہے۔تاہم اس سب کے درمیان پورا ملک اس سوچ میں الجھا ہوا ہے کہ عمران خان اب آگے کیا کریں گے اورحکومت اور اسٹیبلشمنٹ انھیں محدود کرنے کے لیے کیا کر سکتی ہے۔

بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک برس قبل جب عمران خان کو اقتدار سے ہٹایا گیا تھا تو ان کے حامیوں کی جانب سے کہا گیا تھا کہ عمران خان ہماری ‘ریڈ لائن’ ہیں اور اگر انھیں گرفتار کیا جاتا ہے تو ملک جلے گا۔ عمران خان کو گرفتار کرنے کی کئی ناکام کوششوں کے بعد رینجرز کی جانب سے نو مئی کو باکل ایسا ہی کیا گیا۔ملک بڑے پیمانے پر جلا تو نہیں لیکن عمران خان کے حامیوں نے فوجی چھاؤنیوں کا رخ کیا۔فوج کا ہیڈکوارٹر جی ایچ کیو، جسے بلاشبہ پاکستان میں سب سے محفوظ جگہ تصور کیا جاتا ہے، اس کا دروازہ توڑ دیا گیا اور لوگوں نے فوجی لوگو والے سائن بورڈز کو روند ڈالا۔لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس کو نذرِ آتش کر دیا گیا اور عمران خان کے حامیوں نے گھر میں فرنیچر اور گاڑیوں کو آگ لگاتے ہوئے ویڈیوز بھی بنائیں۔ مظاہرہ کرنے والے ایک شخص نے جنرل کا یونیفارم پہن لیا اور ایک نے گھر سے پالتو مور اٹھا لیا۔اس میں انقلاب کی تمام علامات تو موجود تھیں، لیکن یہ انقلاب نہیں تھا۔ عمران خان سے پہلے فوج کو محبت تھی لیکن بعد میں انھوں نے عمران خان کو نظرانداز کیا اور اب ان کے حامی حساب برابر کر رہے تھے۔ یہ انقلاب سے زیادہ دو محبت کرنے والوں کے بیچ کی لڑائی تھی۔

پاکستان میں اب یہ معمول بن چکا ہے کہ ہر وزیرِ اعظم کے پاکستانی فوج کے ساتھ معاملات کچھ عرصے کے بعد بگڑ جاتے ہیں۔ملک کے پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی تھی، ان کی بیٹی بینظیر بھٹو کو بطور وزیرِ اعظم دو مرتبہ اقتدار سے ہٹایا گیا اور ایک خودکش دھماکے کے نتیجے میں ان کی شہادت کی کبھی بھی مکمل طور پر تحقیقات نہیں کی گئیں۔نواز شریف کو اقتدار سے ہٹایا گیا، جیل بھیجا گیا اور پھر ملک بدر کیا گیا۔ اب ایک مرتبہ پھر سے وہ ملک سے باہر ہیں اور اپنے چھوٹے بھائی شہباز شریف کے ذریعے ایک پراکسی حکومت چلا رہے ہیں لیکن اب بھی وہ ملک واپس نہیں آ سکتے۔

عمران خان کی گرفتاری کے بعد ان کے حامیوں نے وہ کیا جو آج تک کسی بھی سیاسی جماعت کے کارکنوں نے نہیں کیا تھا۔ سڑکوں پر احتجاج کرنے کے بجائے انھوں نے فوجی چھاؤنیوں پر حملہ کیا۔گرفتاری سے کچھ ہی وقت پہلے عمران خان نے کہا تھا کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر ان کی جماعت کو کچلنا چاہتے ہیں۔ اس سے پہلے انھوں نے سابق آرمی چیف جنرل باجوہ کو غدار، میر جعفر اور میر صادق کہا جنھوں نے انھیں اقتدار میں لانے اور اس دوران مدد فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

عمران خان نے ایک آئی ایس آئی جنرل فیصل نصیر کو نہ صرف بیہودہ القابات سے نواز بلکہ اپنے اوپر ہونے والے قاتلانہ حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا جس میں وہ زخمی ہوئے تھے۔ وہ اور ان کے حامی اس جنرل کو عوامی اجتماعات میں ’ڈرٹی ہیری‘ کے لقب سے پکارتے رہے ہیں۔

ماضی میں بھی کئی سیاست دانوں نے پاکستانی فوج پر بطور ادارہ نام لے کر الزامات لگائے ہیں لیکن پاکستانیوں نے کم از کم کور کمانڈر ہاؤس نذرِ آتش ہونے کے مناظر نہیں دیکھے، نہ ہی خواتین مظاہرین کو جی ایچ کیو کے گیٹ کو جھنجھوڑتے دیکھا گیا اور نہ ہی اعلٰی فوجی اعزاز حاصل کرنے والے فوجیوں کے مجسموں کو اکھاڑنے کی کوئی نظیر موجود ہے۔یہ سب وہ عوامل تھے جو عمران خان کی مخالف جماعتوں پر مبنی پی ڈی ایم کی موجودہ اتحادی حکومت کو ایک جوابی وار کے لیے درکار تھے۔اس وقت حکومت میں موجود اکثر سیاست دان عمران خان کی جماعت پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ماضی میں بھی ایسے سیاست دانوں کے خلاف فوری کارروائی کی جاتی رہی ہے جو فوج پر تنقید کرتے تھے۔

منتخب رکنِ پارلیمان علی وزیرِ جنھوں نے طالبان کے حوالے سے فوج کی مبینہ ہمدردیوں پر کھل کر تنقید کی تھی کو دو برس تک جیل میں رکھا گیا تھا۔ انھیں قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی تھی۔اب تک بلوچستان سے ہزاروں سیاسی کارکنوں کو مبینہ طور پر جبری گمشدگیوں کا سامنا رہا ہے اور کوئی پاکستانی عدالت یا مرکزی سیاسی جماعت ان کے اس مسئلے کا حل تلاش کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔تو پھر عمران خان پر متعدد مقدمات ہونے کے باوجود وہ تاحال آزاد کیوں ہیں۔

اس حوالے سے عام تاثر یہ ہے کہ عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ کو بھی تقسیم کر دیا ہے۔ فوج میں ایسے افسر اور ان کے خاندان ہیں جو عمران خان کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ دوسری طرف عدلیہ ہے جو ان کی ضمانت میں توسیع کیے جا رہی ہے۔حراست میں ایک دن گزارنے کے بعد پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے انھیں اپنی عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا اور کہا کہ ’آپ کو دیکھ کر خوشی ہوئی‘ اور پھر انھیں سرکاری گیسٹ ہاؤس میں بھیج دیا۔ اگلے ہی روز ایک اور جج نے ان کی ضمانت منظور کر لی۔

عمران خان نے پاکستان میں ایک ایسے حلقے کی حمایت حاصل کر لی ہے جسے ان کے آنے سے پہلے تک سیاست اور سیاست دانوں سے شدید نفرت تھی۔ ان کے انصاف اور کرپشن سے پاک گورننس کے بیانیے کی عام عوام میں خاصی مقبولیت ہے حالانکہ جب عمران خان خود اقتدار میں تھے تو کرپشن میں نہ صرف اضافہ ہوا بلکہ انھوں نے اپنے متعدد سیاسی مخالفین کو جیل میں ڈالا۔تاہم اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد سے ان کے حامی مزید پرجوش ہیں اور ان میں سے اکثر خواتین اور نوجوان ہیں جنھوں نے پہلے کبھی ووٹ نہیں دیا نا ہی کسی سیاسی ریلی میں شرکت کی۔

انھیں اکثر سیاسی لاشعوری کا طعنہ دیا جاتا ہے کہ وہ موجودہ بحران کو تاریخی سیاق و سباق سے ہٹ کر دیکھتے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جو کچھ اس وقت ہو رہا ہے وہ اس سے پہلے پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا۔ وہ اپنے آپ کو ایک ایسی اصلاحی تحریک کا حصہ سمجھتے ہیں جو ملک سے تمام کرپٹ سیاستدانوں کو نکالنا چاہتی ہے۔عمران خان کی طرح انھیں بھی فوج سے محبت تھی۔ اب وہ فوج کر ہر چیز کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

عمران خان کی جانب سے فوجی سربراہان پر مسلسل تنقید کے باوجود اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ وہ فوج کا اثرورسوخ کم نہیں کرنا چاہتے، وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ فوج کے جنرل دوبارہ سے ان سے محبت کریں اور ان کی جماعت کی حمایت کریں جیسے وہ پہلے کیا کرتے تھے۔تاہم نو مئی کے واقعات کے بعد فوج کی اعلیٰ کمانڈ نے بظاہر یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ اب بہت ہو چکا۔ موجودہ آرمی چیف نے اس دن کو ’پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن‘ قرار دیا ہے۔

عمران خان نے پاکستان میں شاید ایک نئی طرز کی پاپولسٹ سیاست کی بنیاد رکھی ہے لیکن فوج ماضی میں دیگر سیاست دانوں کے خلاف استعمال کیے گئے ہتھکنڈے اب ان کے خلاف استعمال کرتی نظر آ رہی ہے۔اب تک ان پر درجنوں کرپشن کے مقدمات درج کیے جا چکے ہیں اور ان کے پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کو بڑے پیمانے پر گرفتار کیا گیا ہے اور ایک واضح پیغام دیا جا رہا

گلوکارہ عروج آفتاب کو پاکستانی گلوکارہ کہلانے پر اعتراض کیوں ہے؟

ہے کہ آرمی پر حملہ کر کے دراصل عمران خان نے ریڈ لائن کراس کی۔

Back to top button