ایشیاکپ:پاک بھارت میچ کاٹکٹ لاکھ روپے سےاوپرکیوں چلاگیا؟

حالیہ پاک بھارت کشیدگی کی وجہ سے ایشیا کپ میں پاکستان اور بھارت کا ٹاکرا ایک سفارتی اور نفسیاتی جنگ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ سرحدوں پر تناؤ، سفارتی محاذ پر تلخی اور عوامی جذبات کے تناظر میں یہ میچ ایک ایسے ایونٹ میں تبدیل ہو چکا ہے جسے کروڑوں لوگ قومی وقار اور برتری کی علامت کے طور پر دیکھتے نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس میچ کے حوالے سے شائقین کا جوش عروج پر ہے جس کے بعد پاک بھارت میچ کی ٹکٹوں کی قیمتیں آسمان کو چھوتی نظر آ رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان اور بھارت کے ٹکٹ کی قیمت ایک لاکھ روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاک و بھارت میچ کیلئے ٹکٹ کے سب سے زیادہ خریدار بھارتی شائقین ہیں۔ جنہوں نے چودہ ستمبر کے میچ کیلئے بڑے پیمانے پر ٹکٹ حاصل کر لئے ہیں۔ اس بات کے امکانات ہیں کہ دونوں ٹیموں کا اس ایونٹ میں تین مرتبہ آمنا سامنا ہو۔ اس تناظر میں 14 ستمبر کے پاک بھارت میچ کے ٹکٹ تقریبا ختم ہو چکے ہیں اور دوسروں کے مقابلے میں کافی مہنگے ہیں۔ ٹورنامنٹ کے ٹکٹوں کو ایک ساتھ بنڈل کیا گیا ہے۔ جس میں 14ستمبر کے پاک بھارت میچ کے ٹکٹ سمیت تین میچوں کے جنرل ایڈمیشن پاس کی قیمت 150ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ زیادہ تر جنرل ایڈمیشن ٹکٹ فروخت ہو چکے ہیں جبکہ تین میچوں کے بنڈل کیلئے پریمیم ٹکٹ 300 ڈالر میں فروخت ہو رہے ہیں۔ اس کے برعکس 15 ستمبر کو سری لنکا اور ہانگ کانگ کے درمیان ہونے والے میچ کے ٹکٹ کی قیمت صرف 15 ڈالر  ہے، ذرائع کے مطابق ایشیا کپ کے دوران حکام کی جانب سے سٹیڈیم میں آنے والے افراد کیلئے سخت ترین پروٹو کولز متعارف کرائے گئے ہیں جبکہ سٹیڈیم میں پلاسٹک کی بوتلیں لاناممنوع قرار دیا گیا ہے۔ نسلی تعصب اور سیاسی نعرے بازی کرنے والوں پر بھاری جرمانے عائد کرنے کے علاوہ ہلڑ بازی کرنے والوں کو جیل کی سزا کا بھی سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

مبصرین کے مطابق عمومی طور پر پاکستان اور بھارت کے کرکٹ میچ کو صرف ایک کھیل نہیں بلکہ ایک تاریخی اور ثقافتی تصادم کے طور پر دیکھا جاتاہے۔ تاہم دونوں ممالک کے مابین ہونے والی حالیہ جنگ اور سیاسی کشیدگی نے ان مقابلوں کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی دونوں ٹیمیں آمنے سامنے آتی ہیں، سٹیڈیم کھچاکھچ بھرا ہوتا ہے، اور ٹی وی پر دیکھنے والے کروڑوں شائقین اسے کسی ورلڈ کپ فائنل سے کم نہیں سمجھتے۔ اسی لئے ایشیا کپ کے پاک بھارت میچ کی ٹکٹس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسپورٹس اکنامکس کے ماہرین کے مطابق، پاک بھارت ٹاکرا دنیا میں چند ایسے میچز میں شمار ہوتا ہے جس کی مارکیٹ ویلیو سپر بول یا ورلڈ کپ فائنل جیسے ایونٹس کے قریب سمجھی جاتی ہے۔اگرچہ ایسے میچز کے ٹکٹس کی قیمتیں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن کرکٹ کے شوقین انہیں خریدنے سے دریغ نہیں کرتے۔

بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اتنی زیادہ قیمتیں عام مداحوں کے لیے  مشکلات پیدا کرتی ہیں اور کھیل کو صرف مراعات یافتہ طبقے تک محدود کر دیتی ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ پاک بھارت میچ صرف ایک کھیل نہیں بلکہ ایک تہوار کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، جس میں شائقین اپنی جذباتی وابستگی کے ساتھ پرجوش طریقے سے شریک ہوتے ہیں۔ دبئی میں ہونے والے اس ٹاکرے کے لیے ٹکٹوں کی قیمتیں اگرچہ عام شائقین کی پہنچ سے دور ہو رہی ہیں، مگر اس کے باوجود کرکٹ کے دیوانے ہر ممکن طریقے سے اس مقابلے کو براہِ راست دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 

دوسری جانب متحدہ عرب امارات میں شروع ہونے والے ایشیا کپ 2025ء میں دیگر ٹیموں کے مقابلے میں پاک و بھارت کرکٹ ٹیموں کیلئے سیکورٹی کا سخت ترین بندوبست کیا گیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ امارات میں دونوں ٹیموں اور ان کے مقابلوں کے دوران سخت ترین سیکورٹی پروٹو کولز متعارف کرائے گئے ہیں۔ بھارتی ٹیم کی سیکورٹی پر مامور آئی بی اور را کے اہلکاروں کی تعداد ماضی کے مقابلے میں زیادہ دیکھنے کومل رہی ہے۔ ذرائع کے بقول تھریٹ الرٹ نہ ہونے کے باوجود پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں غیر معمولی سیکیورٹی اقدامات  کیے جارہے ہیں کیونکہ ایسی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں کہ چند عناصر سفارتی سر پرستی میں پاک بھارت میچ سبوتاثر کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ یہ عناصر شائقین کے روپ میں بھی ہو سکتے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ ایک گروپ میں ہونے کے باوجود پاک بھارت ٹیموں کے پریکٹس کا دورانیہ بھی تبدیل رکھا گیا ہے۔ پاکستانی کھلاڑی اسٹیڈیم سے منسلک اکیڈمی میں پریکٹس کر رہے ہیں۔ جبکہ بھارتی کرکٹ ٹیم کیلئے دبئی میں موجود آئی سی سی کرکٹ اکیڈمی میں پریکٹس کا اہتمام کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم کی سیکورٹی کیلئے حاضرسروس پاکستانی سیکیورٹی اہلکاروں، پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز اور دبئی سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر مشتمل سیکیورٹی کی تین لہریں بنائی گئی ہیں۔ تاکہ ایونٹ کے دوران کھلاڑیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے ذرائع نے بتایا کہ شائقین پر آٹوگراف لینے اور سیلفی بنانے کی بھی پابندی عائد کی گئی ہے ۔ اسی طرح ایشیا کپ کے دوران کھلاڑیوں کو سوشل میڈیا کے استعمال سے بھی سختی سے منع کیا گیا ہے۔ جبکہ شاپنگ اور ڈنر کیلئے آؤٹنگ سے بھی قومی کھلاڑیوں کو روکا گیا ہے۔

Back to top button