کرائے کے قاتل کو اسلحے کے بغیر گورایہ کو مارنے کا کہا گیا تھا

برطانوی پولیس نے پاکستانی بلاگر احمد وقاص گورایہ کے قتل کا منصوبہ بنانے کے الزام میں گرفتار گوہر خان بارے عدالت کو بتایا ہے کہ ملزم نے ایک لاکھ پاؤنڈ کے عوض گورایہ کو ختم کرنے کی خاطر نیدر لینڈ سے 19 انچ لمبا چاقو خریدا تھا کیونکہ اس کے لیے برطانیہ سے اسلحے کے ساتھ سفر کرنا ممکن نہیں تھا۔

برطانوی عدالت میں زیر سماعت مقدمے کی کارروائی کے دوران پراسیکیوشن نے بتایا کہ کرائے کے قاتل گوہر خان نے نیدرلینڈ کے شہر روٹرڈیم پہنچ کر جلا وطن بلاگر احمد وقاص گورایا کا گھر تلاش کیا اور پھر ایک چاقو بھی خریدا جس کی ساخت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسکا مقصد قتل کرنا ہی تھا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق گوہر خان نے اپنے پاکستان میں موجود مڈل مین سے، جس نے اسے قتل کے منصوبے کے لیے اجرت پر رکھا تھا، بلاگر کی شناخت اور اس کی رہائش سے متعلق مزید معلومات دینے کا کہا۔ 14 جنوری کو ٹرائل کے دوسرے روز پراسیکیوشن نے ایک بار پھر جیوری کے سامنے دلائل دیے کہ مدعا علیہ نے وقاص گورایا کے قتل کی منصوبہ بندی کی اور اس کے موبائل فون میں موجود آنے اور جانے والے پیغامات سے بھی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے۔

پراسیکیوشن نے بتایا کہ گوہر خان کی احمد وقاص گورایا سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں لیکن اسے ایک پاکستانی ایجنسی نے اس واردات کے لیے ایک کروڑ برطانوی پاؤنڈ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ گوہر واردات کرنے کی خاطر برطانیہ سے نیدرلینڈ گیا لیکن ناکام رہا کیونکہ بلاگر ان دنوں اپنے گھر پر موجود نہیں تھا۔

خیال رہے کہ احمد وقاص گورایا ایک اسٹیبلشمنٹ مخالف سرگرم بلاگر ہیں جنہوں نے 2017 میں اسلام آباد میں اپنے اور پانچ دیگر بلاگرز کے اغوا ہونے کے بعد ملک چھوڑ دیا تھا۔ احمد وقاص گورایہ کے قتل کی منصوبہ بندی کرنے والے گرفتار شخص کا نام گوہر خان ہے جس کا تعلق پاکستان سے ہے لیکن وہ برطانیہ میں مقیم ہے۔ 31 سالہ گوہر خان کے خلاف کیس کی سماعت 13 جنوری کو برطانیہ کی کنگسٹن اپون تھیمز کراؤن کورٹ میں شروع ہو گئی ہے۔ تاہم سماعت کے دوسرے روز

گوہر خان نے خود پر عائد الزامات کو رد کیا اور عدالت سے بری کرنے کی درخواست کی۔ اس نے کہا کہ وہ 80 ہزار پاؤنڈ کی رقم ضرور لینا چاہتا تھا لیکن اس کا بلاگر کو قتل کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ ٹرائل کے دوران گوہر خان کی موبائل فون میسجز کے ذریعے پاکستان میں موجود موڈز، زیڈ یا پاپا نامی مڈل مین سے بات چیت کی لرزہ خیز تفصیلات سامنے آئیں۔

نیدرلینڈ کے شہر روٹر ڈیم کے دورے کے دوران جب گوہر کو اس کے دو رابطہ کار گورایہ بارے مزید معلومات نہیں دے پائے تو بات چیت کے دوران گوہرخان نے بلاگر کے گھر پر ڈکیتی کی کوشش کا ڈرامہ کرنے کی تجویز دی۔ ایک اور موقع پر بات چیت کے دوران گوہر نے ایجنسی کے رابطہ کار سے کہا کہ ’ہمیں کیسے پتا چلا کہ اس پتے پر اگر پاکستانی خاندان رہائش پذیر ہے تو وہ گورایہ ہی ہے؟‘

رابطہ کار نے گوہر خان کو کہا کہ وہ ایک اور رابطہ کار سے ملے، جو کہ وقاص گورایا سے متعلق کافی معلومات رکھتا ہے، مگر اس سے اسکے بارے مزید معلومات لینے کی توقع نہ رکھے۔ پراسیکیوشن کا کہنا یے کہ روٹرڈیم میں کرونا کی پابندیوں نے گوہر کے سفر کے منصوبے کو متاثر کیا۔ گوہر نے جعلی پی سی آر ٹیسٹ کرایا اور مبینہ فرضی شخص زبیر خان کی طرف سے جعلی دعوت نامہ حاصل کیا۔

حکومتی رہنمائوں پر تنقید، پی ٹی آئی کے نورعالم کو شوکاز نوٹس

ک ہو گیا جب زبیر سے گوہر کی عمر سے متعلق پوچھا گیا اور اس نے فون بند کردیا۔ چنانچہ گوہر خان کو ایمسٹرڈیم میں داخلے سے روک دیا گیا اور واپس انگلینڈ بھیج دیا گیا، اس کے بعد وہ پیرس گیا اور وہاں سے بس کے ذریعے روٹرڈیم آیا جہاں اس کا مطلوبہ ٹارگٹ رہائش پذیر ہے۔

برطانوی پراسیکیوشن نے جیوری کو دکھایا کہ اسکے رابطہ کار اور گوہر خان نے اسلحے کی ضرورت سے متعلق بھی بات چیت کی، گوہر کو بتایا گیا کہ اس کا ٹارگٹ اتنا مشکل نہیں بلکہ آسان ہے اس لیے اسلحے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ گوہر خان کا کہنا تھا کہ اسلحہ نیدرلینڈ میں خریدا جائے گا۔ رابطہ کار نے اسے کہا کہ اسلحے کے ساتھ برطانیہ سے نیدر لینڈز تک سفر کرنا ناممکن ہے، اس نے گوہر خان کو بتایا کہ تم کافی ایکشن فلمیں دیکھ چکے ہو لیکن ناتجربہ کار لیگے ہو۔ رابطہ کار نے کہا کہ میرے خیال میں ٹارگٹ کو حاصل کرنے کے لیے اسلحے کی ضرورت نہیں ہے، جس پر گوہر کا کہنا تھا کہ بغیر اسلحے کے پیچیدگی ہوگی۔

پراسیکیوشن نے دلائل دیے کہ گوہر خان نے وقاص گورایا کے گھر کے قریب واقع ایک اسٹور سے 19 سینٹی میٹر لمبا چاقو خریدا اور سوال اٹھایا کہ مدعا علیہ اگر قتل کے ادارے سے نہیں گیا تھا تو اس نے یہ خطرناک چاقو کیوں خریدا تھا۔ کیس کا ٹرائل یکم فروری تک جاری رہنے کی توقع ہے۔

Back to top button