یوم آزادی پر بلوچستان کو بہت بڑی تباہی سے بچایا گیا ہے : سرفراز بگٹی

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ یومِ آزادی کے موقع پر سکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے کالعدم تنظیم مجید بریگیڈ کے ایک رکن اور مبینہ خودکش حملہ آور کو گرفتار کرلیا ہے۔
کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے سکیورٹی اداروں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہاکہ پہلی مرتبہ دہشت گرد تنظیم مجید بریگیڈ کے ایک رکن کو حراست میں لیا گیا ہے، جو سرکاری یونیورسٹی کا لیکچرار ہے۔ یہ شخص طلبہ کو گمراہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر میں دہشت گردوں کا علاج بھی کرواتا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہاکہ پاکستان کو منظم سازش کے تحت کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، لیکن اب یہ روش برداشت نہیں کی جائے گی۔ ایسے افراد کے اہلِ خانہ اگر اطلاع نہیں دیں گے تو یہ سمجھا جائےگا کہ پورا خاندان اس نیٹ ورک میں شریک ہے۔والدین پر لازم ہے کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نگاہ رکھیں۔
سرفراز بگٹی کےمطابق گرفتار لیکچرار نے متعدد انکشافات کیے ہیں، مجید بریگیڈ مختلف سطحوں پر کام کرتی ہے،افراد کو ورغلا کر انہیں تربیت دی جاتی ہے اور پھر خودکش حملوں پر مامور کیا جاتا ہے۔ایک سطح پر پولیس، لیویز اور فورسز کے اہلکاروں کو نشانہ بنانے پر معاوضہ دیاجاتا تھا جب کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے شہری بھی ٹارگٹ لسٹ پر تھے۔
انہوں نے بتایا کہ نومبر 2024 کے کوئٹہ ریلوے سٹیشن بم دھماکے میں بھی یہ لیکچرار مبینہ طور پر ملوث تھا اور اس نے حملہ آور کو سہولت فراہم کی تھی۔
پریس کانفرنس میں گرفتار شخص کا ویڈیو بیان بھی جاری کیاگیا،جس میں اس نے اعتراف کیاکہ وہ قائداعظم یونیورسٹی سے ماسٹرز اور پشاور یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرچکا ہے اور بطور گریڈ 18 لیکچرار تعینات ہے۔ ملزم نے کہاکہ ریاست نے اسے اور اس کی اہلیہ کو عزت اور ملازمت دی لیکن اس کے باوجود اس نے قانون شکنی اور ملک سے غداری کی۔
معیشت کی ترقی کےلیے نجی شعبے کا کردار اہم ہے : وفاقی وزیر خزانہ
گرفتار لیکچرار نے بتایا کہ اس نے دہشت گردوں کو پناہ دی، ہتھیار خریدے اور مختلف کارروائیوں میں سہولت فراہم کی۔ اس نے اعتراف کیا کہ یہ سب کچھ اس کی بدترین غلطی تھی اور کہا کہ نوجوانوں کو شدت پسند گروہوں کے جال میں نہیں پھنسنا چاہیے۔
