ججز کی مراعات میں اضافہ، تدفین کا خرچ بھی عوام پر ڈال دیا

پاکستان میں سپریم کورٹ کے ججز کو ملنے والی مراعات میں ججز کمیٹی کی جانب سے مذید اضافے کا اعلان اس وقت سوشل میڈیا پر شدید عوامی تنقید کی زد میں ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ  ججز کی فوج بھرتی کرنے کے باوجود عدالتوں میں لاکھوں کیسز لٹکے پڑے ہیں جن کے فیصلے نہیں کیے جا رہے، جبکہ دوسری جانب عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ ججز کی عیاشیوں پر بے دریغی سے لٹایا جا رہا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ دنیا کے اور کسی ملک میں ججز کو نہ تو اتنی تنخواہیں ملتی ہیں اور نہ ہی اتنی مراعات جتنی کہ پاکستان میں دی جا رہی ہیں۔

تاہم چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں فیصلے کرنے والے ججز کمیٹی کا سب سے دلچسپ فیصلہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے کسی بھی سابق جج کے انتقال کی صورت میں اس کی میت کو جنازہ گاہ اور پھر قبرستان تک لے جانے کے لیے ٹرانسپورٹ کا خرچ اور قبر پر پھولوں کی چادر کا خرچ دونوں سرکاری خزانے سے ادا کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے 26 اکتوبر 2024 سے لیکر 12 اگست 2025 تک سپریم کورٹ کی پالیسیز، ہدایات، اور ایس او پیز پبلک کر دیے ہیں جن میں ججز کیلئے گاڑیوں کی سہولت اور مراعات کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی تنخواہ 15 لاکھ روپے ہے۔ باقی ججز کی ماہانہ تنخواہ 12 لاکھ روپے بنتی ہے۔ سپریم کورٹ کے ججز کو ماہانہ تنخواہ کے علاوہ سرکاری گھر بھی ملتا ہے۔ سرکاری گھر نہ ملنے کی صورت میں سپریم کورٹ کے جج کو کرائے کے گھر میں رہنے پر ماہانہ کرائے کی مد میں الاؤنس دیا جاتا ہے۔ گھر کے ساتھ ساتھ حکومت پاکستان ججز کے گھر میں استعمال ہونے والی بجلی، گیس اور پانی کا بل حکومتی خزانے سے ادا کرتی ہے۔ اس کے علاوہ ججز کی تنخواہ کو ٹیکس سے استثنی حاصل ہوتا ہے۔

اب ججز کی نئی مراعات کچھ یوں ہیں کہ سپریم کورٹ کے ججز 18 سو سی سی کی دو سرکاری گاڑیاں استعمال کرنے کے حقدار ہوں گے، ایک کار دفتری اور  دوسری فیملی کار کہلائے گی، کاروں کی مینٹیننس سرکاری خرچ سے کی جائے گی۔ دونوں کاروں کیلئے چھ سو لیٹر تک ماہانہ پٹرول عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے ادا کیا جائے گا حالانکہ اہم ترین سوال یہ ہے کہ ایک جج نے ایک ہی وقت میں دو گاڑیاں کیوں استعمال کرنی ہیں۔

لیکن ججز کی عیاشیوں کا یہ قصہ یہاں ختم نہیں ہوتا۔ نئے ایس او پیز کے مطابق ہر جج دو ڈرائیورز کا حقدار ہوگا جن میں سے ایک ریگولر جب کہ دوسرا عارضی ہوگا۔ فوری ضرورت کے تحت تیسری کار بھی جج کو فراہم کی جاسکتی ہے جس کی منظوری رجسٹرار دے گا۔ ایک مرتبہ منگوانے کے بعد تیسری کار زیادہ سے زیادہ 15روز کیلئے استعمال کی جا سکتی ہے۔ لیکن اگر جج صاحب نے تیسری کار 15روز سے زائد وقت تک اپنے پاس رکھنی ہو تو اُسکی منظوری چیف جسٹس دیں گے۔

ہر مستقل جج کو ریٹائرمنٹ کے بعد، ایک ماہ کے لیے پرائمری گاڑی رکھنے کی اجازت ہوگی جس کے بعد یہ گاڑی واپس لی جائے گی۔ چیف جسٹس آف پاکستان کو بلیو بک کے تحت ایک چیف سکیورٹی آفیسر کی نگرانی میں سکیورٹی ایسکارٹ اور گاڑیاں لینے کا استحقاق دیا گیا ہے، ہر جج کو ایک تربیت یافتہ گن مین اور ایک سکیورٹی ایسکارٹ گاڑی لینے کا استحقاق حاصل ہوگا، جس کا تناسب 1؍4 ہوگا۔

کسی جج کو  خطرے کے پیشِ نظر اضافی سکیورٹی درکار ہو تو چیف جسٹس  کی منظوری سے دوسری ایسکارٹ گاڑی فراہم کی جائے گی، مستقل جج کو ریٹائرمنٹ کے بعد سرکاری پالیسی کے مطابق متروک قیمت پر ایک پرائمری یا سیکنڈری گاڑی خریدنے کا حق ہوگا بشرطیکہ اُس جج نے اس سہولت سے اس سے قبل استفادہ نہ کیا ہو، ریٹائرڈ جج کو اپنی خواہش پر اسلام آباد اور صوبائی دارالحکومتوں میں قیام کے دوران سرکاری گاڑی لینے کا استحقاق ہو گا۔ جبکہ ججز کو کسی بھی ایٔرپورٹ تک بلا معاوضہ پک اینڈ ڈراپ کی سہولت بھی حاصل ہوگی۔

اسکے علاوہ ججز کے بیرون ملک دوروں اور چھٹیوں کی پالیسی بھی متعارف کرائی گئی ہے جس کے مطابق کسی جج کو چھٹی دینے نہ دینے کا اختیار چیف جسٹس کو حاصل ہوگا۔ بیرونِ ملک روانگی کے لیے چیف جسٹس سے این او سی حاصل کیا جائے گا، ہر جج گرمیوں اور سردیوں کی تعطیلات کے دوران نجی غیر ملکی دورے؍بیرونِ ملک سفر کریں گے جس کے لیے چیف جسٹس کا این او سی درکار ہوگا۔  گرمیوں اور سردیوں کی تعطیلات کے علاوہ ججز کو مذہبی فریضوں، زیارت کی ادائیگی، سرکاری نامزدگیاں، بین الاقوامی اعزازات یا ایوارڈز کی وصولی، ذاتی یا اہلِ خانہ کے فوری طبی مسائل، بچوں کی گریجویشن تقریب کیلئے  ہی بیرونِ ملک سفر کی اجازت ہوگی۔

اسکے علاوہ موجودہ چیف جسٹس، سابق چیف جسٹسز، اُنکی اہلیہ، سرونگ ججز اور اُنکے اہل خانہ، سابقہ ججز اور مرحوم ججز کی بیواؤں کو پرائیویٹ وزٹ کے لیے گیسٹ ہاؤس چار روز کیلئے الاٹ کیا جائے گا، جبکہ آفیشل وزٹ کیلئے وقت کی قید نہیں ہوگی ۔

اسکے علاوہ چیف جسٹس نے سابق ججز اور  مجاز افسران کی طرف سے سرکاری  گاڑیوں کے نجی استعمال کی صورت میں مختص کردہ فی کلو میٹر ریٹ میں معمولی اضافہ کیا ہے۔ تاہم دلچسپ ترین فیصلہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے سابق جج کے انتقال کی صورت میں میت کو جنازہ گاہ اور قبرستان تک لے جانے کے لیے ٹرانسپورٹ کا خرچ اور قبر پر پھولوں کی چادر کا خرچ بھی سرکاری خرچے سے ادا کیا جائے گا۔

Back to top button