6 کروڑ کا ’’ہاتھی جہاز‘‘ پنجاب حکومت کیلئے سفید ہاتھی
دریائے سندھ پر کالا باغ اور ماڑی شہر کی نمک کی کانوں سے مال اور دیگر سازو سامان کی نقل و حرکت کیلئے ہیوی ٹرانسپورٹ اور مال گاڑیوں کا استعمال مہنگا پڑنے پر 2013 میں پنجاب حکومت نے دریائوں، اور نہروں کو نقل و حمل کیلئے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ نمک کی کانوں کی وجہ سے دریائے سندھ پر کالا باغ اور ماڑی شہر میں دریا کے کنارے بڑی بڑی کشتیاں اور بحری جہاز نمک اور دیگر ساز و سامان کی نقل و حرکت کرتے تھے، اس وقت کالا باغ ریلوے پل اور جناح بیراج کا قیام عمل میں نہیں لایا گیا تھا، تاہم مال بردار ریل گاڑیوں اور ہیوی روڈ ٹرانسپورٹ کے بعد دریائی راستوں سے سامان کی نقل و حرکت کم ہوتی چلی گئی۔
سڑک اور ریل کے ذریعے سامان کی ترسیل بہت مہنگی پڑتی تھی چنانچہ حکومت پنجاب نے 2013 میں دریائی راستے سے ساز و سامان کی ترسیل کا منصوبہ بنایا، اور ان لینڈ واٹر ٹرانسپورٹ کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا، اس کمیٹی نے پاکستان نیوی کے ماہرین کی مدد سے کالا باغ کے نواحی علاقے پکی شاہ مردان سے ضلع اٹک تک دریائی کارگو سروس شروع کرنے کے لیے دریائے سندھ کا سروے کیا۔
اس کام کے لیے کالا باغ سے اٹک تک دریائے سندھ پر جہاں جہاں بڑی چٹانیں موجود تھیں انہیں بلاسٹنگ کر کے جہاز کے راستے سے ہٹایا گیا تاکہ جہاز باآسانی سفر کر سکیں، اس مقصد کے لیے داؤد خیل کے قریب بندرگاہ بنانے کے لیے زمین بھی حاصل کر لی گئی۔
ابتدائی مرحلے میں اس کمیٹی نے کارگو جہاز بنانے کا کام شروع کیا اور 11 ماہ کی قلیل مدت میں ’ہاتھی‘ نامی جہاز تیار کر لیا گیا، یہ 35 میٹر طویل، 5.9 میٹر چوڑا اور 120 ٹن وزنی ہاتھی جہاز 300 ٹن وزنی سامان لے جا سکتا تھا، اور اس جہاز کی تیاری پر چھ کروڑ روپے لاگ
ت آئی، پکی شاہ مردان میں دریا کی گہرائی کم ہونے کی وجہ سے اب ایک چھوٹی بندرگاہ کالاباغ میں دریائے سندھ کے کنارے بنائی گئی ہے۔
اس ہاتھی نامی بحری جہاز میں دو انجن لگائے گئے تاکہ دریائے سندھ پر اپ سٹریم میں سفر کرتے وقت اسے دشواری کا سامنا نہ ہو، ابتدائی طور پر اس کے آزمائشی سفر کے لیے اس میں تین سو ٹن پانی بھر کے کالا باغ سے اٹک تک درائی راستے سے سفر کا آغاز کیا گیا مگر اٹک کے قریب اسے دریائے سندھ کی گہرائی کم ہونے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے یہ رک گیا۔
پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا الیکشن حمزہ جیتے گا یا پرویز؟
سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے دور حکومت میں یہ پائلٹ پروجیکٹ شروع کیا گیا تھا جس میں دریائے سندھ پر سیاحوں کے لیے فیری سروس کا منصوبہ بھی شامل تھا تاہم تاحال فیری سروس کا منصوبہ تو چل رہا ہے مگر کروڑوں روپے خرچ ہونے کے بعد ہاتھی نامی بحری جہاز کالاباغ کے نزدیک دریائے سندھ کے کنارے کھڑا گل سڑ رہا ہے۔ محکمہ ٹورازم کے ذرائع نے بتایا کہ بہت جلد اس ہاتھی نامی بحری جہاز پر ہوٹل بنا کر اسے دریائے سندھ کے بیچ لہروں پر کھڑا کیا جائے گا، جہاں سیاح اس جہاز پر بیٹھ کر لطف اندوز ہو سکیں گے اور اسے کاروباری مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ تاہم اس وقت چھ کروڑ روپے کی خطیر رقم سے بنایا جانے والا یہ ہاتھی جہاز پنجاب حکومت کے لیے سفید ہاتھی بن چکا ہے۔
