ایم کیو ایم میئر کراچی کی دوڑ سے باہر کیوں ہو گئی؟

متحدہ قومی موومنٹ پہلی مرتبہ میئر کراچی کی دوڑ سے باہر ہوتی نظر آرہی ہے اور مقابلہ بظاہر پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، اور جماعت اسلامی کے درمیان نظر آتا ہے، جن میں سے عین ممکن ہے کہ کوئی دو جماعتیں یونین کونسل کے الیکشن کے بعد اتحاد کر لیں۔ اس خیال کا اظہار کرتے ہوئے کراچی سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی مظہر عباس کہتے ہیں کہ کراچی اور حیدر آباد کے نئے میئر کوئی بھی منتخب ہوں، میری تو بس چند معصومانہ سی خواہشات ہیں، اگر پوری ہوسکیں۔ مثلا اس شہر کے باسیوں کو پانی ٹینکروں کے بجائے نلکوں سے ملے، ان کے لیے کچھ مناسب سی ٹرانسپورٹ کا بندوبست ہوجائے، غیر قانونی تجاوزات ہٹاکر سڑکیں کشادہ کردی جائیں اور کوئی بیٹا بیٹی کسی ’’سٹریٹ کرمنل‘‘ یا پولیس کے ہاتھوں جان کی بازی نہ ہارے، کوئی بچہ یا بچی سکول سے گھر واپسی پر کسی کھلے ’’گٹر‘‘ میں نہ گر جائے۔ مظہر عباس کہتے ہیں کہ میری تو بس اتنی سی خواہشات ہیں، باقی آپ جانیں اور آپ کی سیاست۔ لیکن انکا کہنا ہے کہ مجھے اب بھی یقین نہیں کہ سندھ کے دو بڑے شہروں کراچی اور حیدرآباد میں واقعی بلدیاتی الیکشن 15 جنوری کو ہی ہو رہے ہیں کہ یہاں الیکشن کا حال بھی رویتِ ہلال کمیٹی کے اعلان کی طرح ہے کہ رات گئے تک پتا نہیں چلتا کہ دوسرے روز عید ہے کہ روزہ۔
سندھ میں بلدیاتی الیکشن کے اس دوسرے مرحلے کے بعد یہ واضح ہوجائے گا کہ شہری سندھ میں حق حکمرانی کس کے ہاتھ آتا ہے۔ اصولی طور پر بلدیاتی الیکشن ہر چار سال کے بعد ہونے چاہئیں اور جیسے ہی مدت پوری ہو 90 روز کے اندر، اندر یہ عمل پورا ہونا ضروری ہے مگر ہر بار ’’نظریۂ ضرورت‘‘ آڑے آجاتا ہے، ایسا ہی کچھ 2020ء کے بعد ہوا ۔ مظہر عباس کا کہنا ہے کہ ہمارے ہاں معاملہ چاہے مردم شماری کا ہو یا حلقہ بندیوں کا، سیاسی مصلحتیں آئینی عمل کو روک دیتی ہیں، ورنہ آج اس شہر کی آبادی سرکاری طور پر تین سے ساڑھے تین کروڑ ہوتی۔ کراچی ہمیشہ ہی نشانے پر رہا ہے۔ اختیارات کا تعلق بھی ’’نیت‘‘ سے ہے، پاکستان کے ’’معاشی حب‘‘ کو جس طرح تباہ کیا گیا، اس کی بنیادی ذمہ داری اس سوچ پر ہے جس نے جگہ جگہ رکاوٹ کھڑی کی، یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ شہر چلتا ہے تو ملک چلتا ہے، یہ رُکتا ہے تو سب کچھ ٹھپ ہوکر رہ جاتا ہے۔ اب تو یہ ’’شہرِ مافیا‘‘ ہے، آپ نام لیتے چلے جائیں آپ کو ہر جگہ ایک مافیا نظر آئے گی، بڑی مافیا کو تو ایک طرف رکھیں یہاں تو گاڑیاں سڑکوں پر دھونے والوں سے لے کر بھیک مانگنے والوں تک کے منظم گینگ ہیں۔ پھر ٹینکر، پولیس، کے ایم سی، کے ڈی اے، واٹر بورڈ، بلڈنگ کنٹرول اور ان سب کی سرپرست ہماری سیاسی مافیا چاہے وہ صوبائی حکومت ہو یا شہری۔ ایسے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا نئی بلدیاتی قیادت ماضی سے کچھ مختلف کر پائے گی کیونکہ اس شہر کے میئر کا اختیار 34 فیصد کراچی پر ہی ہوتا ہے، اب 6 کنٹونمنٹ بورڈ، پھر DHA، پھر وفاق کے زیر اثر زمینیں، ایسے میں پتہ نہیں ہم اس معصوم کوکیوں ’’شہر کی کنجی‘‘ تھما دیتے ہیں جو صرف اپنے زیر استعمال تالے ہی کھول سکتا ہے۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ بلدیاتی الیکشن مہم آخری مراحل میں ہے اور بظاہر مقابلہ پی پی پی، پی ٹی آئی، اور جماعت اسلامی میں ہے، دوسری جانب بلدیاتی الیکشن سے پہلے ایم کیو ایم کو اکٹھا کرنے میں تاخیر ہو گئی۔ اب اگر ایم کیو ایم اتحاد کی کوئی شکل نکالتی ہے تو وہ میئر کی ریس میں تو شاید نہ ہو، البتہ اگر ایم کیو ایم بلدیاتی الیکشن کا بائیکاٹ نہیں کرتی اور میدان خالی نہیں چھوڑتی تو کسی بھی جماعت سے الیکشن کے بعد اتحاد کر سکتی ہے ۔ اسی طرح تحریک لبیک بھی کئی جگہوں سے کامیاب ہوسکتی ہے۔ بہرحال ’’میئر‘‘ کی دوڑ کا اصل پتہ 15جنوری کے بعد مخصوص نشستوں کے انتخاب کے بعد ہوگا جب تقریباً 367 ارکان پر مشتمل ہائوس مکمل ہوگا۔ اس مرتبہ پہلی بار تین نشستیں ’’ٹرانس جینڈرز‘‘ کےلئے بھی رکھی گئی ہیں۔
مظہر عباس بتاتے ہیں کہ کہ امیدواروں کی ریس میں پی پی پی نے اپنے امیدوار کا اعلان 15جنوری تک موخر کیا ہوا ہے، یوسی چیئرمین کے الیکشن کے بعد یا تو ان ہی میں سے کوئی یا مخصوص نشستوں میں سے کسی کو نامزد کیا جاسکتا ہے۔ دوسری طرف تحریک انصاف میں فردوس شمیم نقوی، خرم شیر زمان اور علی زیدی کے درمیان مقابلہ ہے لیکن غالباً عمران خان 13جنوری کو جلسے میں میئر کے امیدوار کا اعلان کرسکتے ہیں، جو ان تین کے علاوہ بھی ہوسکتا ہے۔ جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جس کا امیدوار پچھلے دو تین سال سے عملی طور پر میدان عمل میں ہے اور وہ ان کے کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن اور شاید سب سے زیادہ منظم مہم بھی انہوں نے ہی چلائی ہے۔ اب دیکھنا صرف یہ ہے کہ انہیں ووٹ بھی اسی انداز میں پڑتا ہے یا نہیں۔ ان کی ایک مشکل یہ بھی ہے کہ مقابلہ پی ٹی آئی سے ہے اور دونوں کا ووٹ خاص حد تک ایک جیسا ہے۔ بلدیاتی الیکشن کے ’’تجربے‘‘ کے پیشِ نظر پی پی پی اور ایم کیو ایم کو اس خاص الیکشن کی سائنس کا اندازہ ہے۔ متحدہ کا تو اصل وجود ہی 1987ء کے بلدیاتی الیکشن میں قائم ہوا اور اس کے بے شمار رہنما اسی نظام کی پیداوار ہیں۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ کراچی کا اصل مسئلہ ہی شہری حکومت کا ہے۔ اگر یہ شہر ایک میٹرو پولیٹن سٹی دنیا کے دوسرے بڑے شہروں کی طرح بنایا جاتا تو شاید آج کراچی کا رونا نہ رویا جارہا ہوتا۔ اس لیے نئے آنے والے میئر اور اس جماعت پر بھاری ذمہ داری ہوگی۔ اگر کامیابی پی ٹی آئی کے نصیب میں آئی تو وہ آئندہ عام انتخابات میں بھی سندھ کے شہروں سے کامیابی حاصل کرسکتی ہے۔ میئر جماعت کا منتخب ہوتا ہے تو یہ کم از کم یہاں کی سیاست میں جماعت کی واپسی کا راستہ ہموار کرسکتا ہے لیکن پی پی پی کی کامیابی کی صورت میں وہ پہلی بار شہروں میں میئر کامیاب الیکشن جیت پائے گی۔ رہ گئی بات شہر کے مسائل کی تو ہم شہریوں نے انہی پتھروں پر چلنے کی عادت ڈال لی ہے کیونکہ گھر کے راستے میں کہکشاں تو کیا ہوگی کھلے گٹر ضرور ملیں گے۔ نومنتخب میئر اور 367 ارکان پر مشتمل کے ایم سی کا ہائوس بس اتنا کرلے کہ شہر کی سڑکیں کشادہ ہوجائیں جو تجاوزات اور بے ڈھنگی پالیسیوں کے باعث اربوں روپے لگانے کے بعد بھی کھنڈر بنی ہوئی ہیں۔ باقی مقابلہ درجنوں مافیا زسے ہے، بس آپ کو صرف اپنے حصے کا کام کرنا ہے۔
