بریگیڈیئر رضوان کس حسینہ کے جال میں پھنس کر جاسوس بنے؟

2018 میں لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال کے ہمراہ گرفتار ہونے کے بعد دشمن کے لیے جاسوسی کے الزام پر سزائے موت پانے والے بریگیڈیئر راجہ رضوان کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ انھیں ایک امریکی جاسوس حسینہ نے اپنی زلفوں کا اسیر بنا لیا تھا۔ اس دوران بریگیڈئیر رضوان کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کرتے ہوئے حسینہ نے رومانوی لمحات کی ایک ویڈیو بھی بنا لی جس کی بنیاد پر انہیں بلیک میل کیا جانے لگا۔ یوں رضوان نے جاسوس بننے پر آمادگی ظاہر کر دی۔ یہ انکشاف سینئیر صحافی اسد علی طور نے اپنے وی لاگ میں کیا یے اور بتایا ہے کہ پاکستان آرمی کے بریگیڈئیر موصوف کس طرح غیر ملکی ایجنسیوں کا آلہ کار بن کر ان کیلئے جاسوسی کرتے رہے اور پھر پکڑے جانے کے بعد سزائے موت کے حقدار ٹھہرے۔ بریگیڈیئر رضوان نے سزائے موت کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے اور فیصلے کے انتظار میں ہیں۔
واضح رہے کہ غداری کے الزام میں بریگیڈیئر راجہ رضوان، لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے ایک سائنسدان ڈاکٹر وسیم اکرم کو 7 جولائی 2018 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں ملٹری کورٹ نے بریگیڈیر رضوان اور وسیم اکرم کو سزائے موت جبکہ لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال کو 14 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
تاہم حیرت انگیز طور پر جاوید اقبال کو 14 سال کی بجائے صرف ڈھائی سال سزا کاٹنے کے بعد حال ہی میں رہا کر دیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے سزا کے خلاف اپیل کی تھی لہذا ان کی جلد جان خلاصی ہو گئی۔ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کو پاکستانی نیوکلیئر پروگرام اور تنصیبات کے بارے میں خفیہ معلومات دینے کے جرم میں سزائے موت پانے والے بریگیڈیئر رضوان پچھلے تین برس سے اپنی رحم کی اپیل پر فیصلے کے انتظار میں ہیں۔ یاد رہے کہ سابق آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے 2019 میں بریگیڈیئر راجہ رضوان کی سزائے موت کی توثیق کر دی تھی۔ تاہم پھانسی سے بچنے کے لئے رضوان نے آرمی چیف کو رحم کی ایک آخری اپیل کی تھی جس کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔
بریگیڈیئر راجہ رضوان کو پاکستان کی نیوکلیئر میزائل ٹیکنالوجی کے حوالے سے خفیہ معلومات سی آئی اے اور را کو بیچنے کے الزام میں گرفتار کرکے کورٹ مارشل کیا گیا تھا۔ 31 مئی 2019 کو آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے رضوان کو جاسوسی کرنے اور غیر ملکی ایجنسیوں کو حساس معلومات فراہم کر نے کے الزام میں فوجی عدالت کی جانب سے دی گئی سزا کی توثیق کی تھی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ان افسران کا پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت علیحدہ علیحدہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کیا گیا تھا۔ جن افسران کو سزائیں دی گئی ان میں بریگیڈئیر (ر) راجہ رضوان کو سزائے موت، لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال کو 14 سال قید با مشقت اور شاہین میزائیل ٹیکنالوجی پراجیکٹ سے وابستہ ایک حساس ادارے کے انڈر کور سویلین ملازم ڈاکٹر وسیم اکرم کو سزائے موت سنائی گئی تھی۔
راجہ رضوان اور ڈاکٹر وسیم دونوں اسوقت ساہیوال جیل میں قید ہیں اور ان کی رحم کی اپیلیں زیر غور ہے۔ لیکن لیفٹینینٹ جنرل جاوید اقبال کی سزا کم کرنے کی اپیل منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کیا جا چکا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر وسیم اکرم نیشنل انجینرنگ اینڈ سائنٹیفیک کمیشن سے منسلک تھا جو پاکستان کے نیوکلیئر میزائل بنانے کے عمل سے وابستہ ہے اور جس نے شاہین ٹو اور شاہین تھری بیلسٹک میزائل تیار کیے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وسیم اکرم نے جب اچانک اسلام آباد میں 7 کروڑ روپے مالیت کا بنگلہ خریدا اور پھر امریکہ اور میکسیکو کے مسلسل دورے کیے تو خفیی ایجنسیوں کی نظروں میں آ گیا جس کے بعد اس کی مذید نگرانی کی گئی۔ اس دوران پتہ چلا کہ وہ ماضی میں امریکہ میں قیام کے دوران امریکی سی آئی اے کا جاسوس بن چکا تھا۔ 2018 میں اسلام آباد سے گرفتاری کے بعد وسیم اکرم نے بتایا کہ وہ 2012 سے امریکی خفیہ ایجنسی کو معلومات بیچ رہا تھا اور اس کھیل میں راجہ رضوان بھی اس کے ساتھ شامل تھے۔
غداری کے جرم میں موت کی سزا پانے والے بریگیڈیئر (ر) راجہ رضوان فوج اور آئی ایس آئی میں کئی اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ 2014ء میں وہ آرمی سے ریٹائر ہونے کے بعد اسلام آباد میں رہائش پذیر تھے۔ ایجنسیاں رضوان کی ریٹائرمنٹ سے قبل ہی ان پر نظر رکھے ہوئے تھیں اور ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ان پر نظر رکھی گئی، راجہ رضوان 2009 سے 2012 کے دوران ملٹری اتاشی کے طور پر اہم یورپی ممالک میں تعینات رہے اور اسی دوران ان کا رابطہ بھارتی خفیہ ایجنسی را سے ہوا اور بعد ازاں وہ ڈاکٹر وسیم اکرم کے ذریعے سی آئی اے سے بھی رابطے میں آگئے گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ راجہ رضوان نے جرمنی اور آسٹریا میں تعیناتی کے دوران امریکہ اور بھارت کو بھاری رقوم کے عوض ملکی راز فروخت کیے۔ اس بارے میں آئی ایس آئی کو علم ہو گیا تھا۔
اسی وجہ سے راجہ رضوان کی نگرانی مزید سخت کر دی گئی تھی۔ فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ خوش قسمتی سے رضوان نے دشمن کو جو راز بیچے اس سے پاکستان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ 10 اکتوبر 2018 کو راجہ رضوان کو جی 10 مارکیٹ اسلام آباد سے تحویل میں لے لیا گیا تھا۔ جب کئی روز تک وہ گھر واپس نہ آئے تو ان کے بیٹے علی رضوان نے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی اور موقف اختیار کیا کہ سادہ کپڑوں میں ملبوس تین افراد میرے والد کو اغواء کر کے لے گئے ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست کی سماعت ہوئی اور 15 نومبر 2018 کو عدالت میں وزارت دفاع نے بتایا کہ راجہ رضوان کی گرفتاری کے بعد انکے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے اور فوجی ہونے کی وجہ سے انکا آرمی ایکٹ کے تحت کورٹ مارشل کا مقدمہ کیا جائے گا۔
راجہ رضوان کو کورٹ مارشل کے بعد غداری کا الزام ثابت ہونے پر سزائے موت سنا دی گئی۔ اب راجہ رضوان کے جاسوس بننے کی کہانی بیان کرتے ہوئے سینئر صحافی اسد طور نے بتایا ہے کہ رضوان بطور میجر سیک کورس کرنے کے لیے سٹاف اینڈ کمانڈ کالج کوئٹہ گئے تھے، وہاں امریکہ سے بھی کچھ لوگ کورس پر آئے ہوئے تھے، اس دوران راجہ کی ایک امریکی آفیسر اور اسکی بیوی سے دوستی ہو گئی، امریکی آفیسر اسلام آباد میں امریکن ایمبیسی میں تعنیات تھا، رضوان کا امریکی آفیسر کے گھر آنا جانا شروع ہوگیا اور تعلقات گہرے ہوں گے۔
اسد علی طورنے بتایا کہ ایک روز راجہ رضوان اپنے امریکی دوست سے ملنے گئے تو انہوں نے کہا کہ ابھی مجھے ایک کام کے سلسلے میں کہیں جانا ہے لیکن آپ بیٹھیں اور میری بیوی کیساتھ چائے پئیں، لیکن دراصل وہ عورت اس امریکی کی بیوی نہیں بلکہ سی آئی اے کی ایجنٹ تھی، وہ حسینہ راجہ رضوان کو ٹریپ کرنے پر مامور تھی۔ رضوان اور امریکی خاتون کے مابین جسمانی تعلق قائم ہو گیا، اور اس دوران رومانوی لمحات کی ویڈیو بنا لی گئی، اسکے بعد راجہ رضوان کو بلیک میل کیا گیا اور امریکہ کے لیے جاسوسی کرنے کے لیے پیسے بھی آفر کیے گئے، لہذا رضوان جاسوسی کرنے پر راضی ہو گئے۔ رضوان کو ریٹائرمنٹ کے بعد فیملی کے ساتھ امریکہ میں سیٹل کروانے کی یقین دہانی بھی کروائی گئی تھی۔
اسد علی طور کے مطابق راجہ رضوان اس کے بعد 9 برس سال تک امریکہ کے لیے جاسوسی کرتے رہے، اس دوران وہ فوج میں بریگیڈئر کے عہدے پر پہنچ گے۔ اس دوران جب انہیں یہ شک ہوا کہ ان کی جاسوسی کی جارہی ہے تو انہوں نے امریکی دوستوں سے رابطہ کرکے اصرار کیا کہ مجھے اور میری فیملی کو امریکی ویزے دے کر یہاں سے نکالا جائے۔ ان کے دوستوں نے انہیں سفارتخانے بلوانے کے لیے کالے شیشوں والی گاڑی بھیجی، جس میں بیٹھ کر وہ امریکی سفارت خانے میں چلے گئے، انہوں نے امریکی دوستوں سے اپنی فیملی کیلئے امریکی شہریت کا بندوبست کرنے پر اصرار کیا۔ جب وہ امریکی دوستوں سے ملاقات کر کے نکلے تو انکی گاڑی کے پیچھے انٹیلی جنس کا ایک اہلکار موٹر سائکل پر ان کے پیچھے کر رہا تھا۔ اس دوران ان کی گاڑی اچانک ایک موٹر سائیکل سے ٹکرا گئی، چنانچہ ان کے اندر کا فوجی جاگ اٹھا اور انہوں نے کار سے نکل کر موٹر سائیکل سوار سے جھگڑا شروع کر دیا۔
ان کے پیچھے آنے والے خفیہ ایجنسی کے اہلکار نے اپنے ہینڈلر کو فون کر کے ساری تفصیل بتا دی۔ چنانچہ ملٹری انٹیلی جنس نے بریگیڈیئر رضوان کو گرفتار کر لیا۔ بتایا جاتا ہے کہ رضوان تفتیش کے ابتدائی مراحل میں ہی مان گئے کہ ان کا امریکی سفارت خانے کے ساتھ رابطہ ہے اور وہ سی آئی اے کے لیے جاسوسی کر رہے تھے۔ اس کے بعد ان کے گھر پر چھاپہ مارا گیا، ان کے گھر سے ایک لیپ ٹاپ برآمد ہوا جسے وہ امریکیوں سے رابطے کے لیے استعمال کرتے تھے، لیکن اس سے پہلے کہ ملٹری انٹیلیجنس کے کمپیوٹر ایکسپورٹس اس لیپ ٹاپ سے کوئی انفرمیشن نکال پاتے، امریکیوں نے آن لائن ہی اس کمپیوٹر میں موجود تمام ڈیٹا ڈیلیٹ کر دیا۔ راجہ رضوان نے دوران تفتیش بتایا تھا کہ وہ ملک سے غداری کرنے پر اس لیے مجبور ہوئے کہ ان کی ایک خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو بنا لی گئی تھی اور وہ بلیک میل ہونے پر مجبور تھے۔
