سی این جی گیس بھرے پلاسٹک کے تھیلے بم بن گئے

موسم سرما میں گیس کی بجت کے لیے سی این جی سٹیشنز کی بندش کے نتیجے میں گیس کی غیرقانونی فروخت کا سلسلہ عروج پر پہنچ گیا ہے۔ یہ غیر قانونی کام پہلے صرف پشاور تک محدود تھا جق اب پنجاب کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ موثر کارروائیاں نہ ہونے کے باعث صوبے پلاسٹک کے شاپرز میں میں ایل جی گیس گیس کا غیرقانونی اور خطرناک استعمال جاری ہے، دوسری جانب مختلف اضلاع میں دفعہ 144 کے تحت پابندی اور کریک ڈائون کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ تاہم خفیہ طور پر کاروبار انتہائی منافع بخش بنتا جا رہا ہے کیونکہ حکومت کی جانب سے سی این جی سٹیشنز بند کرنے کے فیصلے کے باوجود کئی اضلاع میں گیس لوڈشیڈنگ اور کم پریشر کے مسائل جوں کے توں موجود ہیں۔ پلاسٹک کے تھیلوں میں گیس بھر کر فروخت کرنے کا کاروبار صوبائی دارالحکومت پشاور کے علاوہ صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی پھیل چکا ہے جہاں اس خطرناک کاروبار سے دکاندار بڑے پیمانے پر منافع اور پیسہ کما رہے ہیں۔
تاہم اس کاروبار کو وسعت ملنے کے بعد حکومت خواب غفلت سے جاگ گئی ہے، کوہاٹ سمیت کرک اور دیگر اضلاع میں دفعہ 144 کے تحت پلاسٹک تھیلوں کے کاروبار سے وابستہ دکانداروں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے اور پابندی بھی عائد کر دی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق کرک میں ڈپٹی کمشنر کی ہدایت پر پولی تھین بیگز میں گیس بھر کے فروخت کرنے والے دکانداروں کو فوری طور پر کاروبار بند کرنے کے نوٹس جاری کر دیئے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ اگر کوئی دکاندار پلاسٹک کے تھیلے میں گیس بھر کر فروخت کرتا پایا گیا تو سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ڈپٹی کمشنر کوہاٹ فرقان اشرف نے بھی دفعہ 144 ضابطہ فوجداری کے تحت ضلع کی حدود میں پلاسٹک تھیلوں کی خرید و فروخت اور ان میں گیس و ایل پی جی بھرنے پر فوری طور پر ایک ماہ کیلئے پابندی عائد کر دی ہے۔
عوامی حفاظت کے تحت جاری کردہ اس حکم کی خلاف ورزی ضابطہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 188 کے تحت قابل سزا ہے۔ واضح رہے کہ پشاور سمیت صوبے کے اکثر علاقوں میں پلاسٹک شاپنگ بیگز کی نئی ٹیکنالوجی کا استعمال بدستور جاری ہے جبکہ کرک میں مقامی لوگ گیس کے بڑے پائپوں سے تھیلے لے جا کر گیس بھرکر لا رہے ہیں۔ جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوئی ہیں۔ پشاور کے مصروف ترین بازاروں سمیت گلی کوچوں میں پلاسٹک تھیلوں کی فروخت جاری ہے، دکانداروں نے خفیہ خانوں اور الماریوں میں تھیلے چھپا کر فروخت کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ کرک میں مقامی لوگ ایک عرصے سے گیس کی مین لائنوں سے تھیلے بھر کر گھروں کو لے جا رہے ہیں۔ سوئی نادرن کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ تھیلے چلتے پھرتے بم ہیں تاہم شہریوں کی جانب سے گیس لوڈ شیڈنگ اور کم پریشر کی وجہ سے ان کا استعمال بے دھڑک جاری ہے۔
چکن کی قیمت بیف کے برابر 800 روپے فی کلو ہونے کا خدشہ
