عوام چوتیا نہیں، بشریٰ انصاری کی عمرانڈو سٹائل میں ڈرامہ انڈسٹری کو وارننگ

لیجنڈری اداکارہ بشریٰ انصاری اداکارہ اچھی ہیں یا گلوکارہ؟ ہدایتکارہ اچھی ہیں یا لکھاری؟ اس کا فیصلہ ان کے فینز زیادہ بہتر کر سکتے ہیں۔۔فی الوقت تو ان کے ایک حالیہ انٹرویو کی بات کرتے ہیں جس میں انھوں نے ڈرامہ انڈسٹری کی ان کمیوں کی نشاندہی کی ہے جو ڈرامے کے شیدائیوں کو بہت ناگوار گزرتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ عوام کیا ”چوتیا“ ہیں کہ آپ جو دکھائیں گے وہ چپ چاپ دیکھ لیں گے؟
وہ ذکر کر رہیں تھیں اپنے بلاک بسٹر ڈرامے ”تیرے بن“ کا جس میں وہ ”ماں بیگم“ کا کردار نبھا رہی ہیں اور جس میں کام کرنے والے ینگ ٹیلنٹ کی بہت مداح ہیں۔ بشریٰ کا کہنا ہے کہ یمنیٰ زیدی اور وہاج علی بہت اچھا کام کر رہے ہیں اور تو اور انھوں نے سبینہ کی بھی تعریف کی جو ڈرامے میں حیا کا کردار کر رہی ہیں۔ بشریٰ کے مطابق ایک دن وہ ان کے پاس آئیں اور کہنے لگیں کہ آپا مجھے فلاں ایکٹر کے ساتھ بستر میں لیٹنے کا سین کرنے کو کہہ رہے ہیں، اب آپ ہی بتائیں ہم کوئی ایسے ویسے گھروں سے اٹھ کر تھوڑی آئے ہیں۔۔تو ہماری ینگ جنریشن کو اپنی فیملی کی ویلیوز اور حدود کا بھی پتا ہے تاہم بشریٰ کا خیال تھا کہ جب فنکار کسی کردار کو ادا کرنے کی حامی بھرتے ہیں تو کچھ ذمہ داری ان کی بھی ہے کہ وہ سین کی ڈیمانڈ کے مطابق اپنی رائے دیں۔ ڈراموں میں کچھ غلطیاں تو ایسی بھی ہیں، جنھیں دیکھ کر کم از کم انھیں بہت شرمندگی محسوس ہوتی ہے کہ وہ کیوں نہیں بولیں؟
اب اس میں اداکار بھی اکثر قصور وار نہیں ہوتے کہ وہ صبح سے جس سین کے لئے میک اپ کے ساتھ بیٹھے ہوتے ہیں وہ سین رات بارہ ایک بجے اور بعض اوقات تین چار بجے شوٹ ہوتا ہے اور اگر اسی شفٹ میں کوئی دوسرا سین ہو جائے تو دھیان نہیں رہتا کہ سویرے والا میک اپ دوسرے سین کے لئے اوور تو نہیں ہو جائے گا؟
مثلاً ڈرامے میں بشریٰ کی بیٹی اغواء ہو جاتی ہے اور انھیں رات بہت دیر سے علم ہوتا ہے لیکن اس وقت بھی بشریٰ اپنے دن والے بنے سنورے حلیے میں نظر آتی ہیں، حتیٰ کہ رات کے اس پہر کانوں میں بڑے بڑے جھمکے بھی پہنے ہوتی ہیں۔۔بشریٰ نے اس غلطی کو اپنی لاپرواہی قرار دیا کہ اگر ڈائریکٹر نے نہیں بتایا تھا تو وہی رات کی مناسبت سے کوئی نائٹی وغیرہ پہن لیتیں جیسے انھوں نے صبح کے وقت تسبیح پڑھتے ہوئے مصنوعی پلکیں اتار دیں اور سادہ حلیے میں سین شوٹ کروایا۔ بشریٰ نے ایک اور غلطی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ڈرامے کے ہیرو مرتسم کو ولن فون کرتا ہے کہ تمھاری بہن کو میں نے اغواء کیا ہے تو وہ اس کے پیچھے گاؤں جانے کی بجائے اپنے ملازم کو بھیج دیتا ہے جبکہ مرتسم کو جس طرح اکھڑ اور بارعب دکھایا گیا ہے، اسے چاہیئے تھا کہ بندوق نکالتا اور فوراً اس کے گاؤں پہنچتا۔۔بشریٰ کا کہنا تھا کہ انٹرٹینمنٹ چینلز نے اپنے اپنے کانٹینٹ ڈیپارٹمنٹس بھی بنائے ہوئے ہیں لیکن پتا نہیں ان ڈیپارٹمنٹس کے ہیڈز کیا کرتے ہیں؟ کیونکہ آج کل کے ڈراموں میں بلنڈرز بڑھتے جا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا ہم نے بھی اپنے وقت میں بہت کام کیا ہے لیکن ہم صرف گلیمر کے پیچھے نہیں بھاگتے تھے، کردار اور سین کی ڈیمانڈ کے مطابق ڈائریکٹر منہ دھو کر بھی کیمرے کے سامنے آنے کے لئے کہتا تو ہچکچاتے نہیں تھے۔۔اس وقت ڈائریکٹرز کا بھی بہت رعب ہوتا تھا اگر ڈائریکٹر نے کہہ دیا ہے کہ یہ کس رنگ کی لپ سٹک لگا کر آ گئی ہو تو فوراً ہونٹ رگڑ کر لپ سٹک اتار دیتے تھے۔ بشریٰ نے ڈرامہ انڈسٹری کو وارننگ دی کہ اپنی غلطیوں کو سدھار لیں ورنہ موجودہ حالات میں یہ ایک جملہ ہی کافی ہے کہ ”کیا عوام کوئی چوتیا ہیں؟“
