پھلوں کا بادشاہ پاکستانی آم نمبر ون ہے یا بھارتی؟

بات پھلوں کے بادشاہ آم کی ہو تو پاکستان کا نام زبان پر آتا ہے کیونکہ پاکستانی آم ذائقے، خوشبو کے لحاظ سے پوری دنیا میں مقبولیت رکھتے ہیں لیکن بھارتی کسانوں کا ماننا ہے کہ ان کا آم بھی کسی سے کم نہیں۔
جنوبی ایشیا کے یہ دونوں ہی ملک آم کے حوالے سے مشہور ہیں اور جہاں انڈیا دنیا بھر کی پیداوار کا 40 فیصد آم پیدا کر رہا ہے وہیں پاکستان اور انڈیا کی آم کی برآمد تقریباً برابر ہے، آموں کی چاہت کے لیے مشہور شاعر مرزا غالب نے ایک بار کہا تھا کہ ’آموں میں بس دو خوبیاں ہونی چاہئیں، ایک تو وہ میٹھے ہوں اور بہت زیادہ ہوں تاہم انڈیا کے ’مینگو مین‘ کلیم اللہ خان اس میں اس جملے کا اضافہ کریں گے کہ ’اس کی بہت ساری اقسام ہونی چاہئیں کیونکہ وہ انڈیا کے شہر ملیح آباد میں اسی وجہ سے مشہور ہیں۔
ان کے ’کالج‘ میں چونسہ، دسہری اور لنگڑا جیسے مشہور آموں کے آگے بھی دنیا ہے، وہ ان کے نام گنوانا شروع کر دیتے ہیں کہ ’خاص الخاص، گلاب خاص، شمس الاسمار، بدرالاسمار، محمودالاسمار، امین کلاں، امین خورد، سورخہ خالص پور، سورخہ مرشد آباد، سورخہ شاہ آباد، کچا میٹھا، گول بھدیّاں، رام کیلا، فجری۔
دوسری جانب پاکستان کے شہر ملتان کے کاشت کار سہیل خان بابر مذاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ لوگ ملتان والوں سے دوستیاں ہی اس لیے کرتے ہیں کیونکہ یہاں کے آم مشہور ہیں۔ہفتوں تک بے ترتیب موسم کے بعد ریاست اتر پردیش کے علاقے میلح آباد میں آخرکار بارش’مینگو مین‘ کے طور پر مشہور کلیم اللہ خان کے چہرے پر خوشی لے کر آئی ہے۔
کلیم خان کہتے ہیں کہ ’1919 میں ملیح آباد میں آم کی 1300 اقسام تھیں لیکن اب پورے اتر پردیش ریاست میں شاید 600 قسمیں بھی نہیں بچی ہیں اور یہ نمبر ہر روز کم ہو رہا ہے۔ان تبدیلیوں سے عمر رسیدہ کلیم خان کو شدید تشویش لاحق ہے لیکن وہ آم کے اپنے ایک تجرباتی درخت سے اس کمی کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس پر انھوں نے آم کی 300 سے زائد اقسام پیدا کیا ہے، یہ درخت 120 سال سے زیادہ پرانا ہے اور کلیم خان کے ’گرافٹنگ‘ کے تجربات کی وجہ سے اس کی تقریباً تمام شاخوں پر آم کی مختلف اقسام پھلتی ہیں۔
اس درخت کے اصل آم کا نام ’اسرار المکرر‘ ہے۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کلیم خان کہتے ہیں کہ ’یہ ایک پیڑ بھی ہے، باغ بھی اور یہ دنیا کے آموں کا کالج بھی ہے۔‘انھیں امید ہے کہ ان کے تجربات اگلی نسل کے کام آئیں گے۔
ملتان مینگو ریسریچ سنٹر کے پرنسپل سائنسدان عبدالغفار گریوال کے مطابق پاکستانی آم دنیا بھر کے آموں سے ذائقے اور ساخت میں مختلف ہوتا ہے، وہ کہتے ہیں کہ ویسے تو پاکستان اور انڈیا میں ایک جیسی ہی اقسام پائی جاتی ہیں لیکن پاکستان نے پچھلے کچھ عرصے میں کئی نئی اقسام پیدا کر لی ہیں جیسا کہ سینسیشن یا چناب گولڈ جبکہ انڈیا اپنی پرانی اقسام پر ہی مزید کام کر رہا ہے۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ ’پاکستان میں تقریباً 200 کے قریب مختلف آم کی اقسام پائی جاتی ہیں جبکہ کمرشل استعمال کے لیے دس اقسام ہی زیادہ مارکیٹ میں پائی جاری ہیں۔
سہیل خان بابر ملتان کے رہائشی ہیں اور پندرہ برس کی عمر سے اپنے آم کے باغات کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ ان کو یہ کام کرتے ہوئے تقریباً پچاس سال ہو گئے ہیں۔آم کے باغ کو سنبھالنا ایسے ہی ہے جیسے آپ اپنے بیٹے کو پالتے ہیں۔ مثال کے طور پر آم کو درخت سے اتارنا بھی ایک آرٹ ہے۔ اگر زرا زور سے اتار کر نیچے رکھو گے تو اس پر چوٹ آ جاتی ہے اور یہ کالا ہو جاتا ہے۔
غلام قادر جلال پور پیر والا سےتعلق رکھتے ہیں اور وہ بھی ایسے آم اگانے کی کوشش کرتے ہیں جن کی پیداوار میں کم سے کم کھاد اور دیگر کیمیکل استعمال ہوں۔وہ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ پچھلے تین سال میں انھوں جو آم اپنے باغ میں اگائے ہیں وہ نامیاتی ہیں۔پاکستانی آم تحریک کی علامت اور پاکستانی سفارت کاری کا حصہ بھی بن گئے اور یہ ’مینگو ڈپلومیسی‘ کہلائی جانے لگی۔
سہیل خان بابر کہتے ہیں کہ یہ صرف یہاں تک محدود نہیں۔ پاکستان میں بھی جیسے ہی آم کا سیزن شروع ہوتا ہے تو سب کہتے ہیں کہ ’ملتان والوں سے تعلقات بہتر کر لو آم کا تحفہ آئے گا جن ممالک میں ہمارے آم سب سے زیادہ فروخت ہوتے ہیں ان میں ایران، متحدہ عرب امارات، افغانستان، چین اور
بزدل کپتان بھٹو اور منڈیلا کی جوتی کے برابر بھی نہیں
یورپ سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔
