لاہور ہائیکورٹ نے فوج کو قبضہ گروپ کیوں قرار دیا؟

اوقاف کی زمین پر پولیس ٹریننگ سکول بنائے جانے اور پھر اس پر ڈی ایچ اے کی جانب سے ملکیت کے دعویٰ کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ قاسم خان نے جلال میں آ کر فوج کو قبضہ گروپ قرار دے دیا اور ڈی ایچ میں قبضے کی زمین پر بنی تمام کوٹھیاں منہدم کرانے اور پولیس کو وردی والے قابضین کے خلاف فوری مقدمات درج کرنے کا احکامات جاری کر دیے۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے ان احکامات نے فوجی اسٹیبشلمنٹ کے ایوانوں میں بھونچال پیدا کردیا ہے اور سوشل میڈیا صارفین چیف جسٹس قاسم خان کی دلیری پر اظہار حیرت کرتے ہوئے ان کے مستقبل کے لیے دعائیں کرتے نظر آتے ہیں۔
28 اپریل کو اس کیس سماعت کے دوران چیف جسٹس قاسم خان نے پولیس اور فوج پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صرف پولیس قبضہ گیر نہیں بلکہ یہاں آرمی نے بھی ہائیکورٹ کی 50 کنال اراضی پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں آج رجسٹرار ہائی کورٹ کو حکم دے رہا ہوں کہ آرمی چیف کو خط لکھ کر پوچھا جائے کہ یہ آرمی ملک میں کیا کر رہی ہے ۔چیف جسٹس قاسم خان نے کہا کہ رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ میری طرف سے یہ لیٹر لکھے گا۔ انہوں نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے فوج سب سے بڑی قبضہ گروپ بن گئی ہے۔ میں کل کور کمانڈر لاہور اور ڈی ایچ اے کو عدالت بلا لیتا ہوں۔ یہ معاملہ رسہ گیری کا ہے۔ کیا فوج کا کام قبضہ گیری ہے؟ چیف جسٹس قاسم خان نے کہا کہ میرے منہ سے فوج کے قبضے سے متعلقہ جملے غلطی سے نہیں نکلے، اللہ تعالیٰ نے میرے منہ سے سچ بلوایا ہے کیونکہ آرمی کی جانب سے کسی اور کی اراضی پر قبضہ کرنا رسہ گیری کی ایک قسم ہے۔ انہون نے کہا کہ اراضی سے ناجائز قابض کا تعلق آرمی سے ہے اور وہاں سے بار بار پوچھے جانے کے باوجود جواب نہیں آتا۔ مجھے بطور جج کام کرتے 11سال ہوگئے ہیں لیلن کسی کی جرات نہیں کہ مجھے جواب نہ جمع کروائے۔ انہون نے کہا کہ مجھے جواب منگوانا آتا ہے اور یہ صرف دو دن کا کام ہے۔ یہ کہتے ہوئے چیف جسٹس قاسم خان نے ڈی ایچ اے کے ایڈمنسٹریٹر بریگیڈیئر ستی کو فوری طور پر عدالت طلب کرلیا اور حکم دیا کہ بریگیڈیئر ستی اپنے سٹارز اتار کر انکے سامنے آئیں۔ چیف جسٹس قاسم نے کہا کہ میں اس بریگیڈیئر کو یہیں سے جیل بھجواؤں گا۔
چیف جسٹس قاسم خان نے رجسٹرار ہائی کورٹ سے مزید کہا کہ ڈی ایچ اے لاہور کے اعلیٰ حکام اور سی سی پی او لاہور کو بلوا لیں آج اور ابھی۔ انہوں نے کہا کہ وردی قوم کی سروس کے لیے ہوتی ہے، بادشاہت کے لیے نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے ڈی ایچ اے کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ قبضہ گروپ بنے ہوئے ہیں۔ ملک کو لوٹ کک کھا گئے ہیں آپ لوگ ۔چیف جسٹس نے پولیس پر بھی سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سی سی پی او کو کہو اگر پانی ہے تو خود آ جائے ورنہ آئی جی آئے، ویسے تو آئی جی میں بھی پانی نہیں ہے۔ سماعت میں وقفے کے بعد ڈی ایچ اے کے وکیل نے قاسم خان سے کہا کہ اگر ان کو آرڈر کی کاپی مل جائے تو بہتر ہوگا، اس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسی کو آرڈر سمجھیں، آپ بچے نہیں ہیں۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس قاسم خان نے ڈی ایچ اے لاہور کی انتظامیہ کے خلاف ہر آنے والی درخواست پر سی سی پی او لاہور کو مقدمہ درج کرنے کا حکم بھی جاری کردیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ اپنے تمام ایس ایچ اوز کو کہہ دیں کہ اگر کسی بھی وردی والے کے خلاف قبضے کی درخواست آئے تو جیسے سویلینز کے خلاف مقدمہ درج ہوتا ہے ویسے ہی ان وردی والوں کے خلاف بھی فوراً پرچہ درج ہونا چاہیے ورنہ آپ کخیلاف کارروائی ہوگی۔ اس موقع پر اہنے ریمارکس میں جسٹس قاسم خان نے کہا کہ فوج والے پراپرٹی پر قبضہ کر کے بیٹھے ہیں۔ آرمی کی وردی پہننے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ لوگوں کی جائیدادوں پر قبضہ کریں۔ میں کہتا ہوں کہ آپ اہنے ادارے کے ساتھ کھلواڑ سے باز آ جائیں۔ چیف جسٹس نے سی سی پی او لاہور کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ڈی ایچ اے لاہور والوں نے اندھیر نگری مچائی ہوئی ہے، اگر آپ نے ان سے ڈرنا ہے تو پھر نوکری چھوڑ دیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کئی بار فوجی وردی والے اقتدار پر قابض رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی مرضی کے قانون بنارکھے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہیں کوئی نہیں پوچھتا۔ دوران سماعت چیف جسٹس کو بتایا گیا کہ ڈی ایچ اے لاہور کے ایڈمنسٹریٹر ستی اس وقت سپریم کورٹ، اسلام آباد میں مصروف ہیں، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کل میں دوبارہ کیس کی سماعت کروں گا۔ بریگیڈیئر ستی سے کہیں کہ ریکارڈ لے کر بغیر وردی کے کل عدالت میں حاضر ہوں۔ جتنی بھی کوٹھیاں قبضے کی زمین پر بنی ہیں میں سب کو گرا دوں گا۔
یاد رہے کہ ناجائز قبضے خے اس کیس کی رواں برس 15 جنوری کو ہونے والی سماعت میں بھی لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس قاسم خان نے پولیس کی جانب سے غیر قانونی طور پر قبضہ کی گئی متروکہ وقف املاک بورڈ کی زمین پر ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی یا ڈی ایچ اے کا اپنی ملکیت کا دعوی کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا تھا۔چیف جسٹس نے کہا تھا کہ اب میں سمجھ گیا ہوں کہ پولیس کا محکمہ زمین سے اپنا قبضہ خالی کرنے میں کیوں ہچکچا رہا ہے۔اس کیس میں پنجاب حکومت کی درخواست میں بتایا گیا تھا کہ ایلیٹ پولیس ٹریننگ اسکول کے خلاف ڈی ایچ اے کے مقدمے میں سول عدالت کے سامنے قانونی چارہ جوئی زیر التوا ہے۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل آصف بھٹی نے عدالت کو بتایا تھا کہ سول عدالت نے ڈی ایچ اے کے حق میں حکم امتناع جاری کر رکھا ہے لہذا زمین کا قبضہ پولیس کو نہیں دیا جا سکتا۔ چیف جسٹس نے اس معاملے میں ڈی ایچ اے کے ملوث ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی کو شہدا کے اہلخانہ کے لیے مختص پلاٹوں کے سکینڈل کا سامنا ہے۔ تب بھی چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ ایسا لگتا ہے کہ پولیس ڈی ایچ اے کے ساتھ مل کر زمین پر قبضہ کرنا چاہتی ہے، لیکن کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں۔ چیف جسٹس نے انسپکٹر جنرل پولیس انعام غنی اور عدالت میں موجود دیگر سرکاری عہدیداروں کو یاد دلایا تھا کہ آپ لوگ اقلیتوں کے لیے مختص اراضی پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس۔موقع پر لا آفیسر نے موقف اپنایا تھا کہ ڈی ایچ اے نے دعویٰ کیا تھا کہ اسنے یہ اراضی متروکہ وقف املاک بورڈ سے خریدی ہے، تاہم پولیس ٹریننگ اسکول نے حفاظتی وجوہات کی بنا پر یہ قبضہ اپنے پاس رکھا ہے۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر کے دفتر کی جانب سے تیار کردہ زمین کا نقشہ بھی پیش کیا تھا اور بتایا تھا کہ متروکہ وقف اور پولیس کے درمیان تبادلے کے معاہدہ کو ڈپٹی کمشنر نے منظور نہیں کیا تھا۔چیف جسٹس نے آئندہ سماعت پر لا آفیسر کو عدالت کی مدد کرنے کی بھی ہدایت کی تھی کہ اقلیتوں کی زمین پر قبضہ کرنے کے لیے پولیس کے محکمہ پر کس جرم میں فرد جرم عائد کیا جاسکتا ہے۔
