پاکستان میں استعمال شدہ گاڑیاں سستی کیوں ہونے والی ہیں ؟

 

 

 

 

پاکستان میں استعمال شدہ کاروں کی کمرشل بنیادوں پر درآمد کی اجازت نے ملکی آٹو موبیل انڈسٹری کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ پاکستان میں استعمال شدہ کاروں کی بڑے پیمانے پر امپورٹ سے جہاں آٹو پارٹس بنانے والی 1200 سے زائد چھوٹی بڑی کمپنیوں کی بندش کا امکان ہے وہیں 18 لاکھ سے زیادہ لوگوں کے بے روزگار ہونے کا خطرہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔ دوسری جانب بھاری ٹیکسز کے نفاذ کی وجہ سے گاڑیوں کی امپورٹ کی اجازت ملنے کے باوجود پاکستان میں گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کا کوئی امکان موجود نہیں ہے۔

خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے ابتدائی طور پر زیادہ سے زیادہ پانچ سال پرانی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دے دی ہے اس حوالے سے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے جاری کئے گئے اعلامیے کے مطابق استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدی پالیسی فوری طور پر نافذ العمل ہو گی جبکہ جون 2026 کے بعد پانچ سال والی حد بھی ختم کر دی جائے گی۔جون 2026 تک استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد پر موجودہ کسٹمز ڈیوٹیز کے علاوہ 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہو گی تاہم اس اضافی ڈیوٹی کو 2029-30 تک ختم کر دیا جائے گا۔پاکستانی آٹو اسمبلرز اور پارٹس مینوفیکچررز نے اس حکومتی فیصلے کو مقامی انڈسٹری کیلئے زہر قاتل قرار دے دیا ہے۔ سوزوکی، ٹویوٹا اور ہنڈا جیسے کار اسمبلرز کی نمائندہ تنظیم ’پاما‘ کا کہنا ہے کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کی اجازت دینے سے جہاں گاڑیوں کی مقامی صنعت تباہ ہو جائے گی وہیں لاکھوں لوگ بھی بے روزگار ہو جائیں گے۔ نئے درآمدی ٹیرف نظام کے نفاذ کے بعد انھیں نئی گاڑیاں بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ہو گی۔

 

پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹو موٹیو پارٹس اینڈ اسیسریز مینوفیکچررز  کے سینیئر وائس چیئرمین شہریار قدیر کے مطابق اگر خام مال اور کار پر ایک جتنا ٹیرف نافذ ہو گا تو ہزاروں ورکرز کے ذریعے فیکٹری چلانے کی بجائے اسمبلرز شوروم کھول کر درآمد شدہ گاڑیاں بیچ لیں گے۔ فیکٹری کے تمام اخراجات برداشت کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔’ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومتی فیصلے سے جہاں لوکل انڈسٹری میں ملازمتیں ختم ہو جائیں گی وہیں وینڈر انڈسٹری بھی تباہ ہو جائے گی۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی مقامی آٹو موبیل انڈسٹری کو یہاں تک پہنچنے میں 45 سال لگے ہیں اور صرف وینڈر انڈسٹری میں گذشتہ چار سال کے دوران ایک ارب روپے کی سرمایہ کاری کی گئی جو حکومتی فیصلے کے بعد ضائع ہو جائے گی۔ ’ایسے میں باہر سے سرمایہ کاری کون لائے گا؟‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں پہلے ہی گاڑیوں کی اسمبل انڈسٹری سست روی کا شکار ہے ہم پچھلے 25 سال سے سالانہ ڈیڑھ لاکھ گاڑیوں پر کھڑے ہیں ایسے میں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دینے سے مقامی انڈسٹری کا بالکل کباڑہ نکل جائے گا۔

 

اُدھر سوزوکی، ٹویوٹا اور ہنڈا سمیت دیگر کار اسمبلرز کی نمائندہ تنظیم پاما سے وابستہ عبدالوحید خان کا کہنا ہے کہ اگر استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد میں عمر کی قید ختم ہو جائے گی اور ڈیوٹی بتدریج کم ہوتی جائے گی تو یہ فیصلہ مقامی آٹو سیکٹر کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گا۔کیونکہ جیسے ہی ایک کار امپورٹ ہو کر بندرگاہ پر پہنچے گی تو پروڈکشن لائن پر ایک کار کم بنے گی جس سے جہاں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کرنے والے بزنس مین متاثر ہونگے وہیں حکومت کو بھی ٹیکسز کی مد میں خسارہ برداشت کرنا پڑے گا کیونکہ گاڑیوں کی قیمت میں ’40 سے 50 فیصد حکومتی ٹیکسز شامل ہوتے ہیں۔ جیسا کہ فارچونر کی مینوفیکچرنگ کاسٹ قریب 90 لاکھ روپے ہے۔ لیکن اس کی قیمت سوا دو کروڑ روپے ہے۔ یہ باقی پیسہ ٹیکسز کی مد میں حکومت کو جا رہا ہے۔ ایسے میں اگر حکومت فیصلے کے بعد گاڑیوں کی درآمدات میں اضافہ ہو گا تو حکومت کو مقامی گاڑیوں کی پیداوار نہ ہونے کی وجہ سے ٹیکس خسارے کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔

 

ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا گاڑیوں کی کمرشل بنیادوں پر درآمد کی اجازت ملنے کے بعد پاکستان میں گاڑیاں سستی ہونگی؟ ماہرین کے مطابق گاڑیوں کی درآمدات کے باوجود پاکستان میں گاڑیوں کے سستا ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے کیونکہ ٹیکسز اور ڈیوٹیز تو درآمد شدہ پرانی گاڑیوں پر بھی بہت زیادہ ہیں مگر پھر بھی درآمدی گاڑیاں عام صارفین کے لیے بہتر متبادل ہوسکتی ہیں۔تاہم تمام چھوٹی بڑی گاڑیوں پر 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی کے نفاذ کے بعد عام لوگوں کے لیے قیمت کم ہونے کی بجائے مزید بڑھ جائے گی۔ لوکلائزیشن ہونے تک پاکستان میں گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی ممکن نہیں۔۔

Back to top button