پاکستان میں کاسمیٹک سرجریز کا رجحان کیوں بڑھنے لگا؟

خوبصورت نظر آنے کا Craze خواتین کے ساتھ مردوں کو بھی اپنے سحر میں جکڑے ہوئے ہے، جس کی وجہ سے ملک میں کاسمیٹک سرجریز کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، ایلیٹ کلاس کے علاوہ اپر مڈل کلاس اور مڈل کلاس میں بھی موجود مرد و خواتین اپنے جسم یا چہرے میں کچھ نہ کچھ تبدیلی کروا رہے ہیں۔
انڈیپینڈنٹ اردو کی نمائندہ تحریم عظیم نے اس حوالے سے بتایا کہ ہم اپنے والدین کی دوسری اولاد ہیں، ہماری پیدائش پر دیکھنے والوں نے ہمارے چہرے پر بس دو بڑی بڑی آنکھیں دیکھی تھیں۔ آج بھی ہمارے رشتے دار ہماری پیدائش کا دن یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کمبل میں بس دو آنکھیں نظر آ رہی تھیں۔
ہم بڑے ہوئے تو وہ آنکھیں نارمل ہو گئیں۔ بقیہ چہرہ بھی بھر گیا۔ سالوں بعد قسمت ہمیں چین لے آئی، یہاں لوگ ہمیں دیکھ کر کہتے تھے کہ ہماری آنکھیں بہت خوبصورت ہیں، اتنی بڑی بڑی سی ہیں۔ ہم انہیں کہتے تھے ہمارے ملک میں اکثریت کی آنکھیں ایسی ہی ہیں۔
چینیوں کو ہمارے ایک کشمیری دوست کی گھنی داڑھی بھی بہت اچھی لگتی ہے۔ ہم دونوں کبھی باہر ہوں تو چینی مرد ہمیں چھوڑ کر انہیں گھور رہے ہوتے ہیں۔ ان کا بس نہیں چلتا کہ ان کے چہرے سے داڑھی نوچ کر اپنے چہرے پر سجا لیں۔ یہ سرجریز انسان کی شکل تبدیل کرنے کے لیے کی جاتی ہیں۔ کچھ لوگ یہ سرجری اپنے چہرے کے خدوخال کو اپنی مرضی کے مطابق بہتر بنانے کے لیے کرواتے ہیں۔ کچھ ان سرجریز کے ذریعے اپنے چہرے کی جھریاں ختم کرواتے ہیں تو کچھ اپنے گنج پن سے نجات پانے کے لیے ڈاکٹر کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ خواتین اپنے چھاتی کے سائز کو کم یا زیادہ کرنے کے لیے بھی کاسمیٹک سرجری کرواتی ہیں۔
یہاں بھنویں گھنی کروانا اور آئی لِڈ لفٹنگ کروانا بھی بہت عام ہو چکا ہے۔پاکستان میں بھی کاسمیٹک سرجریز کافی مقبول ہو چکی ہیں۔ ایلیٹ کلاس کے علاوہ اپر مڈل کلاس اور مڈل کلاس میں بھی موجود مرد و خواتین اپنے جسم یا چہرے میں کچھ نہ کچھ تبدیلی کروا ہی لیتے ہیں۔
بوٹوکس، فلرز، فیس لفٹنگ عام عوامل بن چکے ہیں۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اپنے پسندیدہ فنکاروں کے چہرے تبدیل ہوتے ہوئے دیکھ کر خود اپنے چہرے سے غیر مطمئن ہو جاتے ہیں۔جن کے سر پر بال نہیں ہیں، وہ بال لگوانے پہنچ جاتے ہیں۔ جنہیں چہرہ بھرا بھرا سا نہیں لگتا وہ فلرز لگوا لیتے ہیں۔
کچھ عرصے سے پی آر پی نامی انجیکشنز بھی کافی مقبول ہو رہے ہیں۔ یہ انجیکشنز دس سے 15 ہزار روپے میں لگتے ہیں۔اس عمل میں معالج مریض کے خون کے نمونے کو سینٹری فیوج نامی آلے میں ڈال کر پلیٹ لیٹس سے بھرپور پلازما بناتے ہیں۔ وہ اس پلازما کو انجیکشن میں بھر کر مریض کے جسم کے کسی دوسرے حصے میں لگاتے ہیں۔
اس کا مقصد اس حصے میں مخصوص بائیوپروٹینز یا ہارمونز کے ارتکاز کو بڑھانا ہوتا ہے۔ یہ عمل گنج پن کے عارضی علاج اور اینٹی ایجنگ ٹریٹمنٹ کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔اگرچہ سائنس سے ثبوت نہیں ملتا کہ پی آر پی انجیکشنز لگوانے سے بڑھتی عمر کے اثرات کم ہو سکتے ہیں لیکن لوگ عارضی فائدے کیلئے ہی اس عمل پر ہر چھ ماہ میں ہزاروں روپے خرچ کرتے ہیں۔
لوگ پی آر پی انجیکشن اپنے سر کی جلد اور چہرے کی جلد میں لگواتے ہیں۔ یہ انجیکشنز وقتی طور پر ان حصوں میں نشونما کو فروغ دیتے ہیں، لیکن چھ ماہ کے کورس کے بعد معاملہ پھر وہیں آ جاتا ہے۔ اس کے بعد پھر سے چھ ماہ کا کورس شروع کرنا پڑتا ہے۔
کاسمیٹک سرجری کی ضرورت کو عمر سے جوڑنا بھی غلط ہے۔ ہر عمر کا اپنا ایک حسن ہوتا ہے۔ انسان کو اپنی عمر اور اس کے اپنے اوپر ہونے والے اثرات کو اپناتے ہوئے اپنی زندگی گزارنی چاہئے جو شکل اور جسم مل گیا، اس پر خوش رہیں، اسے تندرست و توانا رکھنے کی کوشش کریں، اس میں تبدیلی لا

مہنگائی کی ماری عوام کوایک اور جھٹکا،چینی اور آٹامہنگاہوگیا

کر اپنی شناخت تبدیل نہ کریں۔

Back to top button