’’ریٹائرمنٹ سے یوٹرن لینے والے نامور کرکٹرز‘‘

کئی نامور کرکٹرز نے کیرئیر سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کرنے کر بعد یوٹرن لے لیا، جن میں بنگلہ دیشی کرکٹر ترمیم اقبال بھی شامل ہیں، ریٹائرمنٹ کا اعلان کرنے والے تمیم اقبال نے ایک ہی دن بعد بنگلا دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد سے ملاقات کے بعد اپنا فیصلہ واپس لیا اور اب وہ رواں سال ہونے والے ایشیا کپ اور ورلڈ کپ میں ٹیم کی نمائندگی کریں گے۔
1987 میں ہوم گرائونڈ پر کھیلے گئے ورلڈ کپ کے اہم میچ میں آسٹریلیا سے شکست کے بعد کپتان عمران خان نے دلبرداشتہ ہوکر کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا تھا تاہم اس وقت کے صدر جنرل ضیاء الحق کے اصرار پر انہوں نے اگلے سال ویسٹ انڈیز کے دورے پر جانے کی حامی بھرلی۔
1994 میں جب جاوید میانداد کو ناقص فارم کی وجہ سے پاکستان ٹیم سے ڈراپ کیا گیا تو ملک بھر میں کرکٹ بورڈ کے خلاف مظاہرے دیکھنے کو ملے، اپنی ریٹائرمنٹ کے صرف 10 دن بعد ہی 36 سالہ کھلاڑی نے وزیر اعظم بے نظیر بھٹو سے ملاقات کے بعد ٹیم میں واپسی کی۔
ایشز سیریز کے تیسرے میچ میں اپنی 200 وکٹیں مکمل کرنے والے معین علی نے کپتان بین اسٹوکس کے بھرپور اصرار پر ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کے بعد ٹیم میں واپسی کی۔
ویسٹ انڈیز کے کارل ہوپر نے 1999 کے کرکٹ ورلڈ کپ سے صرف تین ہفتے قبل کرکٹ کو خیرباد کہہ کہ اپنے مداحوں کو حیران کر دیا تھا، لیکن 2001 میں وہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم میں واپس آئے اور بطور کپتان 2003 کے ورلڈ کپ میں ویسٹ انڈیز کی نمائندگی کی۔
1992 سے 1999 تک بھارت کے مین سٹرائیکر بائولر رہنے والے جواگل سری ناتھ نے 2002 میں بحیثیت کھلاڑی ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا تھا لیکن ان کے سابق کپتان سارو گنگولی انہیں 2003 کے ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے قائل کرنے میں کامیاب ہوئے۔
سابق کپتان شاہد آفریدی نے 2006 میں ریٹائرمنٹ لینے کے بعد 2010 میں ٹیم کی قیادت دوبارہ سنبھال لی، پھر ایک ہی میچ کے بعد پھر سے ریٹائر ہوگئے۔2011 کے ورلڈ کپ میں ٹیم کی سیمی فائنل میں شکست کے بعد پھر ون ڈے کرکٹ کو خیرباد کہا لیکن چند ماہ بعد دوبارہ ٹیم میں واپس آگئے، 2015، 2016 میں ریٹائرمنٹ لی اور واپس آئے۔
سابق مایہ ناز بلے باز محمد یوسف نے بھی کئی بار انٹرنیشنل کرکٹ سے کنارہ کشی اختیار کی، جب 2007 کے بعد 2009 میں ٹیم میں کم بیک کیا اور 2010 میں قومی ٹیم کے کپتان بن کر آسٹریلیا گئے جہاں ان کی قیادت میں کوئی بھی میچ پاکستان ٹیم نہیں جیت سکی۔ دورے کے بعد جب ان سمیت متعدد کھلاڑیوں پر پابندی عائد کی گئی تو انہوں نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جب تک انہیں منتخب نہیں کیا جاتا وہ ریٹائر رہیں گے۔
کیون پیٹرسن نے 2012 میں ٹیسٹ کرکٹ پر توجہ دینے کے لیے وائٹ بال کرکٹ سے کنارہ کشی کا جو فیصلہ کیا اس کی تقلید ان کے بعد بھی کئی نامور کھلاڑیوں نے کی، پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں آسٹریلیا کی چالیس سے زائد ٹیسٹ میچز میں نمائندگی کرنے والے بوبی سمپسن نے 31 سال کی عمر میں جب کھیل کو خیرباد کہا تو ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ انہیں دس سال کے بعد ایک مرتبہ پھر آسٹریلیا کی نمائندگی کرنے کے لیے بلایا جائے گا۔
1977 میں کیری پیکر کے پیسے کے زور پر دنیا کے بہترین کھلاڑیوں نے ٹیسٹ کرکٹ پر ورلڈ سیریز کرکٹ کو فوقیت دی تو آسٹریلیا نے بوبی سمپسن کو 41 سال کی عمر میں کپتان نامزد کرکے ری کال کیا۔
نہ صرف بوبی سمپسن نے بھارت کے خلاف سیریز میں آسٹریلیا کو کامیابی سے ہمکنار کیا بلکہ پرتھ کے مقام پر 176 رنز کی اہم اننگز بھی کھیلی۔ 42 سال کی عمر میں ویسٹ انڈیز کو ان کے ہوم گراؤنڈ پر سینچری اسکور کرکے

جسٹس فائز کے آنے سے عدلیہ کتنی مضبوط ہو گی؟

انہوں نے معمر ترین سینچورین کی فہرست میں اپنا نام درج کرایا۔

Back to top button