مجرم عمران خان کی جیل سے جلد رہائی ناممکن کیوں؟

سینئر صحافی اور کالم نگار انصار عباسی نے توشہ خانہ کیس میں سزا یافتہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی جیل سے جلد ضمانت پر رہائی کے امکان کو مسترد کرتے ہوۓ کہا ہے کہ عمران کی ضمانت چند دنوں کا معاملہ نہیں ، ایسے کیس عدالتوں میں ذرا تفصیل سے سنے جاتے ہیں اور یہ معاملہ دنوں نہیں بلکہ کم از کم ہفتوں کا ہو سکتا ہے۔ توشہ خانہ کیس کے علاوہ نجانے اور کن کن مقدمات میں کپتان کو سزا مل سکتی ہے اور یہ سزائیں مائنس عمران خان کا قانونی جواز ہوں گی عمران خان کی توشہ خان کیس میں سزا اور گرفتاری کے بعد حکومت کی کوشش ہو گی کہ اب ان کے خلاف دوسرے کیسوں کو بھی جلد سے جلد مکمل کروایا جائے اور انہیں جیل میں ہی رکھا جاۓ۔ اپنے ایک کالم میں انصار عباسی کا کہنا ہے سابق وزیر اعظم عمران خان کو توشہ خان کیس میں تین سال کی سزا دے دی گئی۔ وہ گرفتاربھی ہو چکے اور اٹک جیل میں پہنچا دیے گئے۔ اس سزا کے باعث عمران خان سزا کے مکمل ہونے کے بعد پانچ سال کے لئے سیاست سے بھی باہر ہو گئے یعنی نہ الیکشن لڑ سکتے ہیں نہ ہی کوئی پارٹی یا حکومتی عہدہ رکھ سکتے ہیں۔ توشہ خان کیس عمران خان کے خلاف ایک مضبوط کیس تھا اور جو فیصلہ گذشتہ روز آیا وہ متوقع تھا۔ اس فیصلہ پر اعتراض اُٹھائے جا سکتے ہیں، جج نے فیصلہ دینے میں جلدی کی یا مدعی کی طرف سے کیس کو لٹکانے کے تمام ممکنہ حربے استعمال کئےگئے اس پر بھی مختلف رائے پائی جاتی ہیں۔ یہ تمام بحث مباحثہ اپنی جگہ لیکن قانون کے نظر میں عمران خان کو سزا مل چکی، وہ اب ایک مجرم کے طور پر جیل کی سلاخوں کے پیچھے موجود ہیں۔ ہاں اُن کے پاس ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں اس سزا کے خلاف اپیل کرنے کا حق موجود ہے اور اُن کو اس کیس میں ضمانت بھی مل سکتی ہے، اس سزا کو ختم بھی کیا جا سکتا ہے. انصار عباسی بتاتے ہیں کہ تحریک انصاف کے ایک رہنما سے بات ہو رہی تھی تو وہ کہہ رہے تھے کہ عمران خان چند دنوں میں ہی جیل سے باہر ہوں گے۔ اُن کا کہنا تھا کہ پہلی ہی پیشی میں اسلام آباد ہائی کورٹ اس سزا کو معطل کر کے عمران خان کو ضمانت پر رہا کر دے گی۔ میری رائے میں شاید یہ سب اتنا آسان نہیں جتنا تحریک انصاف کے کچھ لوگ سوچ رہے ہیں۔ ایک ایسے کیس میں جہاں عدالت عمران خان کو سزا سنا چکی اور اُسی سزا کی بنیاد پر وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچ چکے، ضمانت چند دنوں کا معاملہ مجھے ممکن نظر نہیں آتا۔ ایسے کیس کو عدالتوں میں ذرا تفصیل سے سنا جاتا ہے اور یہ معاملہ دنوں نہیں بلکہ کم از کم ہفتوں کا ہو سکتا ہے۔ مجھے تو جو نظر آ رہا ہے کہ اب عمران خان صاحب کے لئے جیل کی مشکلات کا وقت شروع ہوا ہے جو اتنا جلدی شاید ختم نہ ہو۔ اس کیس میں اگر اُن کی سزا معطل کر کے ضمانت مل بھی جاتی ہے تو مجھے ڈر ہے اُنہیں کسی دوسرے کیس میں دھر لیا جائے گا اور یہ سلسلہ اُسی طرح آگے چلایا جا سکتا ہے جیسے ہم مختلف تحریک انصاف کے رہنماوں کے معاملہ میں دیکھ چکے ہیں۔ عمران خان کی توشہ خان کیس میں سزا اور گرفتاری سے اُن کے خلاف کچھ دوسرے کیس بھی جلدی چل سکتے ہیں۔ حکومت کی کوشش ہو گی کہ اب خان صاحب کے خلاف دوسرے کیسوں کو بھی جلد سے جلد مکمل کروایا جائے۔ ایک طرف نیب کی طرف سے خان صاحب کے خلاف ریفرنس چند ہفتوں میں احتساب عدالت کے سامنے فائل کیا جا سکتا ہے تو چند ایک دوسرے مقدمات کو بھی حکومت جلدی مکمل کرنا چاہے گی۔ عمران خان کا بشریٰ بی بی سے نکاح، اور مبینہ بیٹی کے مقدمات تو چئیرمین تحریک انصاف کے خلاف پہلے ہی عدالتوں کے سامنے موجود ہیں جبکہ مئی 9کی مبینہ سازش اور سائفر کے کیسوں میں جاری تحقیقات میں تیزی آ سکتی ہے تاکہ جلد از جلد ان مقدمات کو بھی عدالتوں کے پاس بھیج کر عمران خان کو سزا دلوائی جاۓ. انصار عباسی کہتے ہیں کہ مجھے عمران خان صاحب کے لئے مشکلات بڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ اُن کی اپنی ذات کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف بھی مشکلات کا شکار ہی رہے گی۔ خان صاحب اور اُن کے پارٹی رہنما سمجھتے ہیں کہ حکومت جو مرضی کر لے ، اسٹبلشمنٹ چاہے جتنا اُن کے خلاف ہو، وہ آئندہ الیکشن جیتیں گے۔ میری رائے میں عمران خان کی مئی 9 کے بعد کی حکمت عملی اور اُن کے اپنے اور تحریک انصاف کے مستقبل کے بارے میں اندازے ویسے ہی غلط ہو سکتے ہیں جیسے اُنہوں نے گذشتہ ایک ڈیڑھ سال میں بڑے بڑے فیصلے کئےاور اب پچھتا رہے ہیں کہ قومی اسمبلی کو نہیں چھوڑنا چاہئے تھا، اپنی صوبائی حکومتیں ختم نہیں کرنی چاہئے تھیں۔ فوج کے خلاف لڑائی لڑ کر، ہر قسم کے الزامات لگا کر اور خصوصاً مئی 9 کے واقعات کے بعد عمران خان نے اپنے آپ کو سیاست سے مائنس کیا۔ وہ فی الحال ایسا نہیں سمجھتے لیکن ایک وقت آئےگا وہ یہ تسلیم کریں گے کہ میں نے اپنی سیاست اور اپنی پارٹی کو فوج کے ساتھ لڑا کر نقصان پہنچایا۔ توشہ خانہ کیس کے علاوہ نجانے اور کن کن مقدمات میں خان صاحب کو سزا مل سکتی ہے اور یہ سزائیں مائنس عمران خان کا
قانونی جواز ہوں گی۔
