ڈنکی کا خطرناک سفر، چار سال میں 335 پاکستانی سمندر کی نذر

بہتر مستقبل، روزگار اور یورپ میں نئی زندگی کے خواب نے سینکڑوں پاکستانیوں کو ایسا خطرناک سفر اختیار کرنے پر مجبور کر دیتا ہے جس کا انجام اکثر سمندر کی بے رحم لہروں میں موت کی صورت میں نکلتا ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے کی تازہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران یورپ پہنچنے کی کوشش میں کشتیوں کے مختلف حادثات میں کم از کم 335 پاکستانی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اتنے بڑے جانی نقصان کے باوجود غیر قانونی ہجرت کا سلسلہ نہ رکا ہے اور نہ ہی انسانی اسمگلنگ کے منظم نیٹ ورکس اپنی سرگرمیوں سے باز آئے ہیں، جس سے یہ بحران ایک سنگین قومی اور انسانی المیے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
یورپ میں بہتر مستقبل کی امید اور معاشی مشکلات سے نجات کی خواہش ہر سال ہزاروں پاکستانیوں کو غیر قانونی راستوں، جنہیں عام طور پر "ڈنکی روٹ” کہا جاتا ہے، اختیار کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ مگر ان خطرناک سفروں کا انجام اکثر المناک ثابت ہوتا ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی تازہ دستاویزات کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران کشتیوں کے سات بڑے حادثات میں کم از کم 335 پاکستانی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
رپورٹ کے مطابق جون 2023 سے اب تک پیش آنے والے مختلف حادثات نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک لوگوں کی مجبوریوں اور بہتر مستقبل کی خواہش کا فائدہ اٹھا کر انہیں موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کے باوجود غیر قانونی ہجرت کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔اعداد و شمار کے مطابق جون 2023 میں یونان جانے والی کشتی کے المناک حادثے میں 226 پاکستانی سوار تھے، جن میں سے 207 جاں بحق جبکہ صرف 19 افراد زندہ بچ سکے۔ یہ حالیہ برسوں کے بدترین سمندری سانحات میں شمار ہوتا ہے۔اس کے بعد دسمبر 2024 میں یونان جانے والی ایک اور کشتی حادثے کا شکار ہوئی، جس میں 69 پاکستانی سوار تھے۔ اس حادثے میں 25 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 44 کو زندہ بچا لیا گیا۔
جنوری 2025 میں مراکش کے قریب پیش آنے والا حادثہ اور اسی سال فروری میں لیبیا کے ساحل کے قریب کشتی ڈوبنے کے واقعات نے بھی متعدد پاکستانی خاندانوں کو غم میں مبتلا کیا۔ بعد ازاں 2025 اور 2026 کے دوران لیبیا سے روانہ ہونے والی کشتیوں کے مزید چار بڑے حادثات رپورٹ ہوئے، جن میں 102 پاکستانی متاثر ہوئے، 71 جاں بحق ہوئے جبکہ صرف 30 افراد کو زندہ بچایا جا سکا۔
ماہرین کے مطابق ان حادثات کی بنیادی وجوہات میں غیر قانونی انسانی اسمگلنگ، خستہ حال کشتیاں، سمندری قوانین کی خلاف ورزی، غیر محفوظ راستے اور بروقت امدادی کارروائیوں کا نہ ہونا شامل ہیں۔ دوسری جانب بے روزگاری، معاشی مشکلات، محدود روزگار کے مواقع اور بہتر مستقبل کی امید نوجوانوں کو اپنی جان خطرے میں ڈالنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ایف آئی اے کی رپورٹ واضح کرتی ہے کہ انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک اب بھی سرگرم ہیں اور مختلف ذرائع سے لوگوں کو یورپ پہنچانے کے خواب دکھا کر لاکھوں روپے وصول کرتے ہیں، جبکہ حقیقت میں یہ سفر اکثر موت، لاپتہ ہونے یا گرفتاری پر ختم ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے صرف انسانی اسمگلروں کے خلاف کارروائی کافی نہیں بلکہ نوجوانوں کو قانونی ہجرت کے مواقع، روزگار، فنی تربیت اور عوامی آگاہی فراہم کرنا بھی ضروری ہے تاکہ مزید خاندان ایسے ناقابلِ تلافی سانحات سے محفوظ رہ سکیں۔یہ اعداد و شمار صرف ایک رپورٹ نہیں بلکہ ان سینکڑوں خاندانوں کے درد کی داستان ہیں، جنہوں نے بہتر مستقبل کی امید میں اپنے پیاروں کو رخصت کیا، مگر وہ کبھی واپس نہ لوٹ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ غیر قانونی ہجرت کے خطرات سے متعلق مؤثر آگاہی، سخت قانونی کارروائی اور بین الاقوامی تعاون وقت کی اہم ضرورت بن چکے ہیں۔
