لانگ مارچ سے مفاہمت تک، پی ٹی آئی کا مستقبل خطرے میں کیوں؟

ملکی سیاسی صورتحال میں پاکستان تحریک انصاف کی آئندہ حکمت عملی ایک مرتبہ پھر بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ پارٹی اس وقت شدید سیاسی دباؤ، اندرونی اختلافات اور قیادت کے بحران کا شکار ہے، جس کے باعث اسے آئندہ کا واضح راستہ دکھائی نہیں دے رہا۔ ان کے مطابق احتجاج، مفاہمت اور سیاسی مزاحمت کے مختلف راستے آزمانے کے باوجود پی ٹی آئی مطلوبہ سیاسی نتائج حاصل نہیں کر سکی، جبکہ ریاستی پالیسی میں بھی کسی نمایاں تبدیلی کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی اس وقت ایک ایسے مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں اسے اپنی آئندہ حکمت عملی طے کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق مختلف سیاسی اقدامات اور احتجاجی کوششوں کے باوجود پارٹی اپنی سیاسی سمت واضح کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔
نجم سیٹھی کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری کے بعد جماعت کے اندر قیادت کے حوالے سے اختلافات نمایاں ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی میں مختلف رہنما مختلف حکمت عملی کے حامی ہیں، جس کے باعث فیصلہ سازی کا عمل بھی متاثر ہو رہا ہے۔ ان کے بقول ایک حلقہ احتجاجی سیاست جاری رکھنا چاہتا ہے، جبکہ دوسرا سیاسی مفاہمت اور مذاکرات کو زیادہ مؤثر راستہ سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف مواقع پر احتجاجی تحریکوں، لانگ مارچ اور عوامی اجتماعات کی کوششیں کی گئیں، تاہم یہ تحریکیں وہ سیاسی نتائج حاصل نہیں کر سکیں جن کی قیادت کو توقع تھی۔ ان کے مطابق جلسوں میں عوام کی موجودگی اور عملی سیاسی تحریک چلانے کی صلاحیت دو مختلف چیزیں ہیں، اور یہی فرق حالیہ سیاسی سرگرمیوں میں نمایاں دکھائی دیتا ہے۔
نجم سیٹھی کا مزید کہنا تھا کہ ان کے خیال میں پارٹی کی نامزد قیادت اور بعض دیگر سیاسی شخصیات کے درمیان حکمت عملی کے حوالے سے اختلافِ رائے موجود ہے۔ ان کے مطابق کچھ رہنما سیاسی دروازے کھلے رکھنے اور مفاہمت کی راہ اختیار کرنے کے حق میں ہیں، جبکہ دوسرا مؤقف مزاحمتی سیاست کو جاری رکھنے پر زور دیتا ہے۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ مختلف سیاسی شخصیات کی جانب سے رابطوں اور مفاہمت کی کوششیں کی گئیں، لیکن ان کے بقول ریاستی پالیسی میں کسی نمایاں لچک کے آثار نظر نہیں آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند برسوں سے یہی صورتحال برقرار ہے اور فی الحال اس میں تبدیلی دکھائی نہیں دیتی۔
علیمہ خان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے خلاف زیرِ سماعت مقدمات میں پیش رفت ہو سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے انہوں نے جو بات کی وہ ایک اندازہ اور رائے کے طور پر بیان کی۔ اس بارے میں کوئی عدالتی فیصلہ سامنے آنا باقی ہے، اس لیے حتمی نتائج کا انحصار عدالتی کارروائی پر ہوگا۔ اپنے تجزیے کے اختتام پر نجم سیٹھی کا مزید کہنا تھا کہ اگر مستقبل میں ملک کی سیاسی صورتحال میں کوئی بڑی تبدیلی آتی بھی ہے تو ان کے خیال میں وہ موجودہ حالات میں تحریک انصاف کی احتجاجی سیاست کے نتیجے میں نہیں ہوگی۔ تاہم یہ ان کا ذاتی سیاسی تجزیہ ہے، جس سے اختلاف کی گنجائش موجود ہے اور دیگر سیاسی مبصرین اس بارے میں مختلف نقطۂ نظر رکھتے ہیں۔
