عدلیہ میں شفافیت اور کارکردگی بڑھانے کےلیے اصلاحاتی اقدامات کا فیصلہ

 

 

 

 

قومی عدالتی پالیسی سازی کمیٹی (این جے پی ایم سی) نے عدالتی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور ادارہ جاتی شفافیت کو مزید مضبوط بنانے کےلیے اہم اصلاحاتی اقدامات پر غور کیا ہے۔ ان اصلاحات کا بنیادی مقصد عدالتی کارکردگی میں بہتری، احتساب کا مؤثر نظام اور ضلعی عدلیہ میں یکساں معیار قائم کرنا ہے۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں ججوں کےلیے کارکردگی کے کلیدی اشاریے (کے پی آئیز) متعارف کرانے، پالیسیوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے اور ڈیٹا پر مبنی جانچ کے جدید نظام کو فروغ دینے پر خصوصی زور دیا گیا۔ اجلاس میں اعلیٰ عدلیہ کے نمائندوں اور ذیلی کمیٹیوں کی تجاویز کا تفصیلی جائزہ بھی لیا گیا۔

اجلاس میں پیش کی گئی سفارشات میں ججوں کے لیے کارکردگی کے اشاریے (کے پی آئیز) کو ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کے رول آف لا انڈیکس کے مطابق مرتب کرنا، تقرریوں کے لیے یکساں اہلیت کے معیار وضع کرنا، امتحانات کے لیے متحدہ نصاب اور جانچ کا نظام متعارف کرانا، ججوں کی تربیت کے لیے خصوصی کورسز کا اجراء اور سروس رولز میں ہم آہنگی شامل ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کارکردگی کا جائزہ جدید اور خودکار نظام کے تحت مقداری و معیاری پیمانوں پر ہونا چاہیے، اور فیصلے جج کی قانونی بصیرت اور شخصیت کا عکاس ہونے چاہئیں۔ انہوں نے خصوصی عدالتوں کے ججوں کے لیے ڈپلومہ کورسز اور ذہنی دباؤ سے نمٹنے کے لیے باقاعدہ کونسلنگ سیشنز کی تجویز بھی پیش کی۔کمیٹی نے اتفاق کیا کہ تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹسز پر مشتمل ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے جو ان تجاویز کا جائزہ لےکر آئندہ اجلاس میں حتمی سفارشات پیش کرے۔چیف جسٹس نے ضلعی عدلیہ میں بیرونی دباؤ کے انسدادی نظام کو سراہا اور اسی نوعیت کے حفاظتی اقدامات اعلیٰ عدلیہ کےلیے بھی ناگزیر قرار دیے۔

مزید برآں، ججوں کے ضابطۂ اخلاق میں ترامیم اور میڈیا سے وابستگی سے متعلق شق پر بھی غور کیا گیا تاکہ ادارہ جاتی ردِعمل کا نظام مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

قانون و انصاف کمیشن کے سیکریٹری نے عدلیہ میں جنریٹیو مصنوعی ذہانت کے اخلاقی استعمال کے لیے تیار کردہ ڈرافٹ رہنما اصول پیش کیے جو قومی ڈیجیٹل پالیسیوں اور عالمی معیارات سے ہم آہنگ ہیں۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے جبری گمشدگیوں کے مسئلے پر کمیٹی کو بتایا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 11EEEE میں ترمیم کے ذریعے زیر حراست افراد کی پیشی کا قانونی تقاضا مزید سخت کر دیا گیا ہے، جس پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے جامع طریقہ کار تیار کیا جا رہا ہے۔

اجلاس کا اختتام تمام ہائی کورٹس، وزارتِ قانون و انصاف اور ایل جے سی پی کی انصاف کے نظام کو مضبوط بنانے اور عوامی اعتماد بحال کرنے کی کوششوں کو سراہنے پر ہوا۔

 

Back to top button