صحافیوں کی آواز دبانے کے لیے آرڈیننس لانے کا فیصلہ

باوثوق ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کپتان حکومت نے اپنے سیاسی مخالفین اور صحافتی ناقدین کی آوازیں دبانے کے لئے ایک نیا صدارتی آرڈیننس لانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور پولیس کو ایف آئی اے کے بدنام زمانہ پیکا قانون کے تحت فیک نیوز پھیلانے اور کردار کشی کرنے کے الزامات پر فوری گرفتاری کا اختیار حاصل ہو جائے گا۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے موجودہ حکومت نے پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی بنا کر میڈیا کی آزادی مکمل طور پر سلب کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن صحافتی برادری کی جانب سے ملک گیر احتجاج کے بعد حکومت کو پیچھے ہٹنا پڑا لیکن اب یہ اطلاعات ہیں کہ حکومت نے فوری ایک صدارتی آرڈیننس لانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت بدنام زمانہ پیکا قانون، یعنی پری وینشن آف الیکٹرونک کرائمز ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کو ڈیفیمیشن کے الزام پر فوری گرفتاری کے اختیارات حاصل ہو جائیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ایک حکومتی اجلاس میں کیا گیا ہے جس کی بنیادی وجہ حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر وزیراعظم، خاتون اول اور مراد سعید کے حوالے سے چلائی جانے والی مہم ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ صدارتی آرڈینینس آنے کے بعد محض ایک سوشل میڈیا پوسٹ، ٹویٹ یا خبر کسی کو بھی سلاخوں کے پیچھے بھیجنے کے لیے کافی ہوگی۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ کپتان حکومت آخری حد تک جاتے ہوئے اختلاف رائے کو قانونی طور پر جرم قرار دینے جا رہی ہے اور وہ بھی ایک ایسے وقت کہ جب زیادہ تر آزاد صحافی مین سٹریم میڈیا سے فارغ کیے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر اختلاف رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ کپتان حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد بڑے پیمانے پرحکومت کے ناقد صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا اور بے روزگار کر دیا گیا لہذا اس وقت زیادہ تر صحافی آن لائن پلیٹ فارمز تک محدود ہو چکے ہیں۔ لیکن اب کپتان حکومت صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ان آن لائن پلیٹ فارمز کو بھی صحافیوں کے لیے مزید تنگ کر دیا گیا ہے۔

باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اب ایف آئی اے کے بدنام زمانہ پیکا قانون میں ترمیم کے ذریعے پولیس اور کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ کو حکومتی ناقدین کی فوری گرفتاری کے اختیارات سونپے جا رہے ہیں۔ موجودہ دور میں پیکا یعنی پری وینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ پاکستانی صحافیوں کو خوفزدہ کرنے اور خاموش کرانے کا سب سے موثر ذریعہ بن کر ابھرا ہے کیونکہ اس میں آن لائن اظہار کو جرم قرار دیا گیا ہے۔ جبکہ اس قانون کا استعمال کرنے والے افراد اور ادارے قانون سے مبّرا ہیں۔

چیف جسٹس کو سموسوں‌ کی بجائے آئین کے فیصلے کرنے چاہئیں

صحافتی آزادیوں کے لیے کام کرنے والے ادارے فریڈم نیٹ ورک کے مطابق 2019 سے 2021 کے درمیان پیکا یا پری وینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کے تحت دو درجن سے زائد پاکستانی صحافیوں کے خلاف مقدمات درج کئے گئے۔جبکہ 56 فیصد تعداد ان آن لائن صحافت کرنے والوں کی ہے جن کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے۔ ان افراد میں سے تقریباً 70 فیصد کو گرفتار کیا گیا اور پیکا کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی۔ جبکہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ‘گرفتار ہونے والوں میں سے نصف کو مبینہ طور پر تحویل میں تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔’

23 صحافیوں اور آن لائن صحافیوں کے خلاف ہونے والے واقعات کے تجزیے بھی اس رپورٹ میں موجود ہیں۔ ان صحافیوں کو یا تو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے پیکا کے تحت نوٹس بھیجے تھے یا پھر اسی قانون کے تحت مقدمات درج کیے گئے۔ اس قانون کے تحت پاکستان کا صوبہ پنجاب صحافیوں کے لیے سب سے خطرناک صوبہ رہا ہے۔ جہاں 23 میں سے 10 مقدمات رپورٹ ہوئے ہیں اور اسلام آباد میں 08 مقدمات درج ہیں۔

صحافیوں کے خلاف پیکا کے تحت شکایت کرنے والوں میں دو تہائی اکثریت شہریوں کی ہے جبکہ سرکاری محکموں میں سے شکایت کنندگان کے طور پر زیادہ تر افراد نے فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی کا نام لیا۔ صحافیوں کے خلاف درج شدہ شکایات میں سب سے زیادہ تعداد فوج اور انٹیلیجنس اداروں کے خلاف آن لائن بات کرنے یا رپورٹ کرنے کے بارے میں تھی۔

فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق صحافیوں کے خلاف فوج، انٹیلیجنس اداروں، حکومت اور عدلیہ کے خلاف رائے یا تنقید کی شکایات کی بنیادی نوعیت مبینہ ہتک عزت تھی۔ گرفتار ہونے والے صحافیوں میں سے کئی کے خلاف قانون کی دیگر دفعات بھی شامل کی گئیں جس کے تحت چند صحافیوں کو چند دن جبکہ کچھ کو کئی دن قید میں گزارنے پڑے۔ لیکن یہ تمام صحافی اعلی عدالتوں سے ضمانت لینے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

دوسری جانب یہ بھی معلوم ہوا یے کہ محسن بیگ کی گرفتاری سے پہلے درجنوں ایسے صحافیوں کی ایک لسٹ تیار کی گئی تھی جو حکومت کے ناقدین سمجھے جاتے ہیں اور یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ انھیں مختلف ریاستی اداروں کے ذریعے سبق سکھایا جائے گا۔

لہذا اس بات کا قوی امکان ہے کہ مستقبل قریب میں حکومت کے ناقد مزید صحافیوں کے خلاف بھی کارروائیاں کی جائیں۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے ہدایت کی ہے کہ حامد میر، سلیم صافی، نجم سیٹھی، عامرمیر، عمران شفقت، عاصمہ شیرازی، مرتضی سولنگی، غریدہ فاروقی، کامران شاہد، اسد طور، ابصارعالم اور ندیم ملک کی گرفتاری کے لیے مواد کا بندوبست کیا جائے۔

Back to top button