عمران کے خلاف پی ٹی وی حملہ کیس بحال کرنے کا فیصلہ

شہباز شریف حکومت نے 2014 میں درج ہونے والے پی ٹی وی حملہ کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان اور موجودہ صدر عارف علوی سمیت دیگر کئی پی ٹی آئی رہنماؤں کی بریت کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کیس بحال کروایا جا سکے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس حوالے سے سب سے پہلے عمران خان اور عارف علوی کی بریت میں سہولت کار کا کردار ادا کرنے والے دو پراسیکیوٹرز کو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد بیرسٹر جہانگیر خان جدون نے 6 جون کو پراسیکیوٹرز عامر سلطان گورایہ اور انکی اہلیہ فاخرہ عامر سلطان کو ہٹانے کے لیے سیکریٹری داخلہ کو خط لکھ دیا ہے۔ ان دونوں کو پارلیمنٹ میں درج تین ایف آئی آر میں نامزد ملزمان کے خلاف کارروائی کے لیے مقرر کیا گیا تھا لیکن انہوں نے بابراعوان کے ساتھ مل کر عارف علوی اور عمران خان کی بریت کروا دی۔

اسامہ بن لادن کو ایبٹ آباد میں کس نے چھپا رکھا تھا؟

یاد رہے کہ 2014 میں نواز شریف حکومت کے خلاف عمران خان کے دھرنے کے دوران پارلیمنٹ ہاؤس اور پی ٹی وی پر حملے کیے گئے تھے۔اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 15 مارچ 2022 کو صدر عارف علوی، تب کے وزیراعظم، وزرا شاہ محمود قریشی، اسد عمر، شفقت محمود، پرویز خٹک اور پی ٹی آئی رہنما سیف اللہ خان نیازی کو بری کر دیا تھا۔ پارٹی کے منحرف رہنما جہانگیر خان ترین، عبدالعلیم خان اور دیگر کو بھی بری کر دیا گیا تھا کیونکہ استغاثہ کے دونوں وکلا میاں بیوی نے 3 مارچ کو انسداد دہشت گردی کی عدالت کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ ایف آئی آر سیاسی بنیادوں پر درج کی گئی تھیں۔ اب ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کی طرف سے سیکریٹری داخلہ کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ اس کیس میں عامر سلطان گورایہ اور فاخرہ عامر سلطان ریاستی پراسیکیوٹر کے طور پر عدالت میں پیش ہوئے جہاں انہوں نے اس دفتر کی اجازت کے بغیر فاضل جج کی عدالت میں پیش ہو کر جھوٹا اعتراف کیا کہ یہ کیس سیاسی بنیاد پر بنایا گیا تھا۔ اسکے علاوہ انہوں نے میرٹ پر مقدمات کے حوالے سے بھی بحث نہیں کی۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر خان جدون نے اپنے خط میں کہا کہ دونوں وکلا نے اس دفتر کو کوئی اطلاع نہیں دی اور تمام ملزمان کو بری کروا دیا جو کہ انصاف کا قتل ہے، جدون نے لکھا کہ ان دونوں نے 15 مارچ 2022 کے حکم نامے کی تصدیق شدہ نقول کے لیے بھی آج تک درخواست نہیں دی اور جان بوجھ کر اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے میں تاخیر کی۔ ایڈووکیٹ جنرل نے سیکریٹری داخلہ سے کہا کہ ان حقائق کی روشنی میں ثابت ہوتا ہے کہ دونوں خصوصی پبلک پراسیکیوٹرز نے بد نیتی کے تحت قانون کی خلاف ورزی کی لہذا انہیں اس دفتر کی سفارش پر فوری طور پر ان کے عہدے سے ہٹا دیا جائے۔

عمران خان دور حکومت میں وزیراعظم اور صدر کو پی ٹی وی حملہ کیس میں بری کروانے کے لیے استغاثہ کے انچارج سابق ایڈووکیٹ جنرل نیاز اللہ خان نیازی نے عدالت کو بتایا تھا کہ 2014 کا عمران کا دھرنا پرامن تھا اور تب کی مسلم لیگ(ن) کی حکومت کے حکم پر پولیس نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا تھا۔ انصاف لائرز فورم کے سینئر رہنما نیاز اللہ خان نیازی کے مطابق پولیس نے تب کی حکومت کی ہدایت پر عمران خان، ڈاکٹر عارف علوی اور دیگر کے نام شامل کیے، اس لیے ایف آئی آر کو منسوخ کیا جانا چاہیے۔ پولیس نے 21 اگست 2014 کو ایف آئی آر میں 82 ملزمان کو نامزد کیا تھا۔ ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا تھا کہ تین افراد ہلاک اور 26 زخمی ہوئے جب کہ 60 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا، استغاثہ نے اپنا مقدمہ قائم کرنے کے لیے 65 تصاویر، لاٹھیاں، کٹر وغیرہ عدالت میں جمع کرائے تھے۔ استغاثہ کا موقف تھا کہ احتجاج پرامن نہیں تھا، پی ٹی آئی اور عوامی تحریک کے کارکنوں نے پارلیمنٹ ہاؤس اور وزیر اعظم ہاؤس کی طرف مارچ کیا اور شاہراہ دستور پر تعینات پولیس کے ساتھ ان کی جھڑپ ہوئی تھی۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے عمران خان، عارف علوی اور درجنوں دیگر تحریک انصاف کے قائدین اور ورکرز کو نومبر 2014 میں اشتہاری مجرم قرار دیا تھا کیونکہ وہ سمن اور وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے باوجود عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے۔ جولائی 2017 میں عدالت نے انہیں مفرور قرار دیا تھا اور ان کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادوں کو ضبط کرنے کا عمل شروع کیا تھا۔ عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے رہنما مقدمات میں مفرور رہے اور اکتوبر 2017 میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے جائیدادیں ضبط کیے جانے سے قبل انہوں نے سرنڈر کردیا تھا۔ بعد ازاں مارچ 2020 میں عمران اور عارف علوی سمیت درجنوں پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان کو بری کروا دیا گیا تھا۔ تاہم اب اس بربریت کو منسوخ کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

Back to top button