سزا یافتہ ہونے کے باوجود نواز شریف کے بھی حقوق ہیں

سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے کہا ہے یہ اصول دنیا بھر میں رائج ہے کہ جن افراد کے خلاف کیسز بنتے ہیں اور پھر سزائیں سنائی جاتی ہیں انکے خلاف انہیں اپیل کا حق دیا جاتا ہے۔ چنانچہ وزیر اعظم عمران خان جو بھی کہیں، سزا یافتہ ہونے کے باوجود نواز شریف کے بھی کچھ حقوق ہیں اور ان کی نااہلی کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنا عین قانونی عمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر صحتمند معاشرے میں جہاں انصاف کے تمام تقاضے پورے کئے جاتے ہیں، وہاں ملزموں کے حقوق کا بھی مکمل تحفظ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی اپیل اسی حق کی بنیاد پر دائر کی گئی ہے جو کہ جائز ہے اور اس پر عمران خان کی جانب سے تنقید غیر ضروری یے۔
جیو نیوز کے پروگرام میں شاہزیب خانزادہ سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ کسی سیاست دان کی تاحیات نااہلی کا معاملہ ایک قانونی اور آئینی مسئلہ ہے اور یہ طے ہونا ہے کہ کیا ایسا آئینی طور پر ممکن ہے بھی یا نہیں؟ بہت سارے قانون دانوں کا موقف ہے کہ کسی شخص کو تاحیات نااہل نہیں کیا جاسکتا، چاہے اس کیخلاف ڈھیروں ثبوت بھی موجود ہوں۔
انہوں نے کہا کہ مہذب دنیا میں ملزم کو بھی حق ہوتا ہے کہ وہ بات کرے اور الزامات پر اپنا دفاع کرے۔ سہیل وڑائچ نے کہا کہ دنیا بھر میں ملزم کے حقوق ہوتے ہیں۔ نواز شریف چاہے ملزم ہیں لیکن ان کے کچھ حقوق ضرور ہیں اور یہی حقوق آئین کے تحت انہیں گنجائش دیتے ہیں کہ وہ اپنی سزا کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر سکیں، ان سے یہ حق چھینا نہیں جاسکتا لہذا عمران خان کی جانب سے سپریم کورٹ بار کی دائر کردہ اپیل پر کی گئی تنقید غیر ضروری ہے۔
یاد رہے کہ یکم فروری کو سپریم کورٹ بار نے تاحیات نااہلی ختم کروانے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جسے وزیراعظم نے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ڈاکووں کا وہ ٹولہ ہے جو خود کو قانون کے تائب نہیں سمجھتا۔ غریب چوری کرے تو جیل چلا جاتا ہے لیکن امیر ڈاکہ ڈال کر بھی بچ جاتا یے۔ عمران خان نے کہا کہ جب تک قوم ساتھ نہیں دے گی تب تک قانون کی بالادستی قائم نہیں ہوسکتی، یہاں نیب میں پیشی پر جانے والوں پر پھول پھینکے جاتے ہیں۔
انہوں نے سپریم کورٹ بار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بار ایسوسی ایشن کہتی ہے کہ جھوٹ بول کر باہر جانے والے کو پھر سے موقع دینا چاہیے تاکہ وہ آکر پھر سے میچ کھیلے، اگر آپ کو اس میں کوئی برائی نظر نہیں آتی تو پھر غریبوں کو جیلوں میں کیوں بند کیا ہوا ہے، پھر اگلی درخواست یہ بھی کردیں کہ پورے پاکستان کی جیلیں کھول دی جائیں۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون کی جانب سے 27 جنوری کو سپریم کورٹ میں تاحیات نااہلی کے خلاف دسئر درخواست کو سپریم کورٹ رجسٹرار آفس نے اعتراضات لگا کر واپس کردیا ہے۔ اس درخواست ہر ریلیف ملنے کی صورت میں نواز شریف اور جہانگیر ترین کو بھی ریلیف مل جانی تھی۔
ہزارہ میں بلدیاتی انتخابات عیدالفطر تک مؤخر کرنے کا حکم
سپریم کورٹ رجسٹرار آفس نے درخواست یہ اعتراض لگا کر واپس کی کہ نااہلی معاملے پر سپریم کورٹ کا پانچ رکنی لارجر بینچ پہلے ہی فیصلہ دے چکا ہے۔ رجسٹرار آفس نے کہا کہ اس معاملے پر نظرثانی درخواستیں بھی مسترد کی جاچکی ہیں،جب معاملے پر ایک بار فیصلہ ہوجائے تونئی درخواست دائرنہیں جاسکتی۔تسہم درخواست کی واپسی کے بعد سپریم کورٹ بار نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے خلاف اپیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یاد رہے کہ 28 جولائی 2017 کو سپریم کورٹ نے شریف خاندان کے خلاف پاناما لیکس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے تب کے وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا۔ اسی سال دسمبر 2017 میں تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور پارٹی سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین کو بھی فارن فنڈنگ کیس میں نااہل قرار دیا گیا تھا۔
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل 5 رکنی لارجر بینچ نے آرٹیکل 62 (1) (ایف) کے تحت نااہلی کی مدت کی تشریح کے لیے 13 درخواستوں کی سماعت کے بعد 14 فروری 2018 کو محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا تھا۔
تاہم صدر سپریم کورٹ بار احسن بھون کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ تاحیات نااہلی کے اصول کا اطلاق صرف انتخابی تنازعات میں استعمال کیا جاتا یے۔ آرٹیکل 184 تھری کے تحت سپریم کورٹ بطور ٹرائل کورٹ امور انجام نہیں دے سکتی انہیں عدالتی فیصلے کیخلاف اپیل کا حق نہیں ہوتا۔ درخواست میں کہا گیا
تھا کہ عدالتی فیصلے کیخلاف اپیل کا حق نہ ملنا انصاف کے اصولوں کے منافی ہے، اپیل کے حق کے بغیر تاحیات نااہلی نہ صرف رکن اسمبلی بلکہ متعلقہ حلقہ کے ووٹرز کے بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔
