حکومت نے ہری پور میں ہری سنگھ کا مجسمہ کیوں ہٹایا؟

خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور میں نصب سابق سکھ جرنیل ہری سنگھ نلوا کا مجسمہ ہٹائے جانے کا معمہ حل ہو گیا ہے اور یہ انکشاف ہوا ہے کہ اسے انتظامیہ نے ہٹایا تھا اور اب ہری سنگھ چوک کا نام ابوبکر صدیق چوک رکھ دیا گیا ہے۔

پنجاب کے سکھ حکمران رنجیت سنگھ کے کامیاب ترین جنرل کے نام سے منسوب چوک پر یہ مجسمہ نصب کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ہری پور کے بانی کے مجسمے سے مذہبی سیاحت اور رواداری کو فروغ ملے گا۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہو پایا کہ خیبرپختونخوا کی حکومت نے اب اپنا پچھلا فیصلہ کیوں تبدیل کیا ہے۔ اس مجسمے کی تعمیر پر 25 لاکھ روپے لاگت آئی تھی۔

ہری پور کے جس چوک میں یہ مجسمہ نصب تھا وہ شاہراہ قراقرم پر واقع ہے جو ہری پور کو اسلام آباد، راولپنڈی اور ایبٹ آباد سے ملاتی ہے۔ مقامی تاجروں کے مطابق مجسمہ ہٹانے کے بعد اس چوک پر جلی حروف میں ’صدیق اکبر چوک‘ لکھا گیا ہے جس کا مطالبہ ایک مذہبی تنظیم کی جانب سے کیا جا رہا تھا۔

تاہم مقامی تاجروں کے مطابق مجسمہ ہٹانے سے قبل ہی مقامی افراد اس چوک کو صدیق اکبر چوک کے نام سے منسوب کرنا چاہتے تھے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ایک وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ 28 جنوری 2022 کی شب ہری پور کے مصروف چوک میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد گھوڑے پر براجمان ہری سنگھ کے مجسمے کو اکھاڑ رہی ہے۔

اب معلوم ہوا ہے کہ مجسمہ اکھاڑنے والے میونسپل کمیٹی کے ملازم تھے جنھوں نے دیکھتے ہی دیکھتے لمحوں میں مجمسہ اکھاڑ دیا اور اپنے ساتھ لے گے۔ ایک عینی شاہد کا کہنا ہے کہ جب اس نے مجسمہ اکھاڑنے والوں سے پوچھا کہ وہ کون لوگ ہیں تو انہوں نے بتایا کہ ہم سرکار کے لوگ ہیں اور حکم اوپر سے آیا ہے۔

دوسری جانب پشاور میں سکھوں کے رہنما بابا گوپال سنگھ کا کہنا ہے کے حکومت کی جانب سے ایک ایسے شخص کا مجسمہ اکھاڑنا سمجھ سے بالاتر ہے جس کے نام پر ہری پور شہر کا نام رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ اور ثقافتی ورثے کی حفاظت کی جانی چاہیئے بجائے کہ اسے مٹانے کی کوشش کی جائے۔ ایسا کرنا پاکستان کے روشن مستقبل اور روشن خیال چہرے کے لیے بہت ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نئے شہر اور قصبے بنائیں اور اُن کا جو دل چاہتا ہے نام رکھیں، جیسے اسلام آباد کا نام رکھا گیا ہے، مگر مسلمہ اور تاریخی علاقوں کے نام اور مجسمے ہٹانے سے ریاست پاکستان کی رواداری کی پالیسی مجروح ہوتی ہے۔ اس سے حکومت کی جانب سے مذہی رواداری کو فروغ دینے کے دعوے پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

شہری حقوق کے لیے قائم کردہ تنظیم ’ہم عوام‘ کے پیٹرن اِن چیف سردار فدا حسین کے مطابق سوچنا ہو گا کہ کل جب بلند و بانگ دعوؤں کے ساتھ ہری سنگھ نلوا کا مجسمہ لگایا گیا تھا، تو وہ اقدام صیح تھا یا اب مجسمہ مسمار کرنے کا؟ان کے مطابق یہ مجسمہ نصب کرتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ ہم مذہبی سیاحت اور رواداری کو فروغ دے رہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ مجمسہ مسمار کر کے کیسے رواداری کو فروغ دیا جا رہا ہے؟ ایسے فیصلے کرنے والے بھول رہے ہیں کہ تاریخ کو نہ تو بدلا جا سکتا ہے نہ تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں تاریخ کو قبول کرنے کا ظرف پیدا کرنا چاہیے۔ ہری پور کے ذکر کے ساتھ ساتھ ہری سنگھ نلوا کا ذکر ضرور آئے گا۔ مجمسہ ہٹانے سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا ہے کیونکہ ہری پور شہر ہری سنگھ کا نام لیوا ہے۔

سکھوں کی تاریخ پر تحقیق کرنے والے جہانداد خان تنولی کے مطابق ’ہری سنگھ نلوا سکھ خالصہ فوج کے سپہ سالار یا کمانڈر ان چیف تھے۔ رنجیت سنگھ کی سلطنت کے قیام اور اس کی فتوحات میں ہری سنگھ نلوا کا بہت بڑا کردار تھا۔ انھوں نے کم از کم بیس بڑی اور تاریخی جنگوں کی کمان کی یا ان میں حصہ لیا تھا۔

ان میں اہم ترین قصور، سیالکوٹ، اٹک، ملتان، کشمیر، پشاور اور جمرود کی جنگیں تھیں جن میں ہری سنگھ نلوا نے کمان کی تھی اور فتح حاصل کی تھی۔ جہانداد خان کا کہنا تھا کہ سکھوں ک دور میں ایسی مثالیں بہت کم ملتی ہیں کہ سکھ حکمرانوں نے کوئی تعمیرات کی ہوں مگر ہری سنگھ نلوا نے کم از کم 56 مختلف عمارتیں تعمیر کروائی تھیں جن میں قلعے، گوردوارے، باغات، حویلیاں، اور سرائے عام شامل تھیں۔ انھوں نے زیادہ تر عمارات آج کے صوبہ خیبر پختونخوا، کشمیر اور پنجاب میں تعمیر کروائی تھیں۔ جن میں سے کئی آج بھی موجود ہیں۔

کئی ایک کو ثقافتی ورثہ قرار دے کر محفوظ کیا گیا ہے۔ ہری سنگھ کی فوجی زندگی اور فتوحات پر 19ویں صدی میں کئی یادگار گانے اور ترانے لکھے گے تھے۔ 20ویں صدی میں انڈیا کی ایک مشہور فلم میں ’میرے دیس کی دھرتی‘ پر ہری سنگھ نلوا پر گانا گایا گیا تھا۔ 2013 میں انڈیا کی حکومت نے ان کی یاد میں یادگاری ٹکٹ جاری کیا تھا جبکہ اس ہی سال ایک فلم بھی ریلیز کی گئی تھی۔

جہانداد خان تنولی کے مطابق ہری سنگھ نلوا کشمیر، پشاور اور ہزارہ میں گورنر تعنیات رہے تھے۔ خیبر پختونخوا کے ہزارہ ڈویژن کی تاریخ پر تحقیق کرنے والے اعجاز احمد کے مطابق ’ہری سنگھ نلوا کے بارے میں اس رائے کا اظہار کیا جاتا ہے کہ انھوں نے کچھ عرصہ ہی کے لیے سہی مگر اس پورے خطے کو تخت لاہور کے مطیع کر دیا تھا۔ رنجیت سنگھ نے انھیں یہاں پر بغاوتیں کچلنے کے لیے تعنیات کیا تھا کیونکہ ان سے پہلے تعنیات ہونے والے گورنر اس میں کامیاب نہیں ہوئے تھے۔‘

محقق صاحبزادہ جواد الفیضی کہتے ہیں کہ ’ہزارہ ڈویژن میں سکھ راج کے تخت لاہور کے خلاف شدید بغاوت تھی۔ کشمیر کا علاقہ سکھوں کے زیر تسلط آ گیا تھا مگر ہزارہ ڈویژن میں ایسا ممکن نہیں ہو رہا تھا یہاں تک کہ ہری سنگھ نلوا سے پہلے کم از کم تین سکھ جرنیل قتل ہوئے تھے جبکہ سنگھ گورنر امر سنگھ مجیٹھیا کو ایبٹ آباد کے علاقے گلیات کے گاؤں سمندر کھٹہ میں قتل کیا گیا تھا۔‘

جسٹس گلزار نے عدلیہ کو بحرانوں میں کیسے دھکیلا؟

ان کا کہنا تھا کہ ہزارہ ڈویژن کا دربند کا علاقہ جس کا بیشتر حصہ تربیلا ڈیم کے نیچے آ چکا ہے اس زمانے کی طاقتور امب ریاست کا دارالحکومت تھا۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’سکھوں کے خلاف بڑھتی ہوئی مزاحمت کی وجہ سے سکھوں کی کشمیر پر عملداری بھی مشکل ہوتی جا رہی تھی۔ ایسے میں امر سنگھ مجیٹھیا کا قتل تخت لاہور کے لیے چیلنج تھا۔‘

’اسی وجہ سے رنجیت سنگھ نے اپنے سب سے قابل بھروسہ سپہ سالار ہری سنگھ نلوا کو ہزارہ ڈویژن کا گورنر تعنیات کر کے بغاوت کو کچلنے اور سکھوں کی عمل داری قائم کرنے کا حکم دیا تھا۔ ہری سنگھ اس سے پہلے کشمیر کے گورنر تھے۔ ہری سنگھ ایک جہاندیدہ سپہ سالار تھے۔

انھوں نے مقامی لوگوں کی بغاوتیں کچلنے کے لیے اپنا مرکز آج کے ہری پور کے مقام پر قائم کیا تھا۔ ہری سنگھ نے ہری پور شہر کی بنیاد 1823 میں رکھی تھی۔ انھوں نے سب سے پہلے یہاں پر ایک قلعہ ہرکشن گڑھ بنوایا تھا۔ یہ قلعہ دفاعی نقطہ نظر سے بنایا گیا تھا۔ ہری سنگھ نے ہزارہ ڈویژن میں اسی علاقے کو اپنا صدر مقام بھی بنایا تھا۔

اس قلعے سے شہر کی بنیاد رکھی گئی تھی اور شہر کو بہترین نقشے پر بنایا گیا تھا۔ یہ شہر قلعہ بند تھا۔ اس میں چھ دروازے تھے جن میں شیرانوالہ گیٹ آج بھی اسی نام سے مشہور ہے۔ قلعے کے اردگرد ایک گہری خندق بنائی گئی تھی۔ شہر کے لیے بہترین نہری نظام بنایا گیا تھا۔ ہری پور کا قلعہ اب بھی موجود ہے۔

اس کے ایک حصے میں پولیس سٹیشن اور دوسرے میں تحصیل کچہری کا دفتر ہے۔ بعد میں انگریز دور میں بھی اس شہر کا نام ہری کے قصبے سے ہری پور پڑ گیا تھا۔ عوام کے مشورے سے ہی اس شہر کو ہری پور کا سرکاری نام دیا گیا تھا جو کہ انگریز دور سے چلا آ رہا ہے۔ لہذا ایک ایسے شخص کا مجسمہ ہٹانا جس کے نام پر ہری پور شہر کا نام رکھا گیا تھا، ایک ناقابل فہم حرکت لگتی ہے۔

Back to top button